باچا خان یونیورسٹی چارسدہ ٹیچرزایسوسی ایشن پیوٹا کا اجلاس

  باچا خان یونیورسٹی چارسدہ ٹیچرزایسوسی ایشن پیوٹا کا اجلاس

  

چارسدہ(بیورورپورٹ) با چا خان یونیورسٹی چارسدہ ٹیچرز ایسو سی ایشن (بیوٹا) کا ایک اجلاس زیر صدارت ڈاکٹر اکرام اللہ منعقد ہوا۔اجلاس کے شرکاء نے بیوٹا کے نام سے ہو نے والے کسی بھی قسم کی پریس کانفرنس سے لا علمی اور لا تعلقی کا اظہار کیا۔ بیوٹا نے واضع کیا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر ثقلین نقوی جسکی مدت ملازمت 8 جون 2020 کو ختم ہو رہی ہے اپنی ملازمت میں غیر قانونی توسیع کے لیے نا کام کو ششیں کر رہا ہے۔ اور اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے یونیورسٹی کے چند مفاد پر ست اور منظور نظر تریسی کیڈ کے ایک ٹولے کو جو یونیورسٹی کے اہم انتظامی عہدوں پر غیر قانونی طور پر بر اجماں ہیں اور جنکو اگلے گریڈز میں ترقی کے احکامات کیے گئے ہیں انکو حکومت کے خلاف اکساں رہے ہیں۔ جسکی بیوٹا شدید مزمت کر تے ہیں کابینہ نے مذید کہا کہ ڈاکٹر ثقلین نقوی جو اپنے طالیہ کے ساتھ جنسی ذیادتی کے کیس میں سزا یافتہ ہیں اور جسکو اپنے اختیار کے نا جائز استعمال اور غیر قانونی بھر تیوں کی وجہ سے کئی انکو ائریوں کا سامنا ہے کو کسی بھی قسم کی توسیع نہ دی جائے۔کیونکہ یہ خیبر پختونخواہ یونیورسٹیز ایکٹ 2012 کی سنگین خلاف ورزی ہو گی جسکی بیوٹا اجازت نہیں دے گی۔ بیوٹا نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ، جناب محمود خان، گورنر شاہ فرمان اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کے لیے نئے مستقل وائس چانسلر کی تقرری 8 جون 2020 سے پہلے عمل میں لائی جائے تاکہ یونیورسٹی کو غیر یقینی اور بے چینی کے صورت حال سے نکا لا جائے۔ اور سینکڑوں طلباو طالبات کے مستقبل کو ضائع ہو نے سے بچا یا جا سکے۔ نئے وائس چانسلر کے تقرری تک یونیورسٹی کے بھاگ دوڑ کو سینئر ترین پروفیسر ڈاکٹر منظور مشوانی کے حوالے کی جائے تاکہ یونیورسٹی کو درپیش معاشی، انتظامی، اور تدریسی بحران سے نکا لا جا سکے۔ اجلاس کے آخر میں بیوٹا نے عدام الناس کو نقالوں سے ہو شیار دہنے کی تنبیہ کی اور خبر دار کیا کہ صرف موجودہ بیوٹا کا بینہ ہی اساتذہ کی واحد نمائندہ جماعت ہے جسکی با قاعدہ رجسٹریشن فپو اسا (FAPUASA)سے ہو چکی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -