آل پاکستان فلور ملز کا پنجاب سے گندم کی ترسیل پر پابندی غیر قانونی قرار

  آل پاکستان فلور ملز کا پنجاب سے گندم کی ترسیل پر پابندی غیر قانونی قرار

  

پشاور (سٹی رپورٹر)آل پاکستان فلور ملز ایسو سی ایشن خیبر پختونخوا نے پنجاب سے گندم کی ترسیل پر پابندی کو غیر قانونی اقدام قرار دیتے ہوئے جمعہ کے روز سے اس فیصلے کے خلاف پشاور سے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے جسکی حمایت سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے بھی کردی گئی ہے،صوبائی چیئرمین محمد اقبال کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک مذید برداشت نہیں کیا جائیگا، پنجاب کی جانب سے گندم کی سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے الزامات بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہیں اسکے سوا کچھ نہیں،پنجاب بیوروکریسی پختونخوا کی فلور ملز کے ہزاروں یومیہ اجرت والے مزدوروں کو بیروزگار کرنا چاہتی ہے۔اس حوالے سے گزشتہ روز سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز میں چیمبر کے صدر انجینئر مقصود انور پرویز کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران محمد اقبال اور دیگر کا کہنا تھا کہ پنجاب کی جانب سے ایک مرتبہ خیبر پختونخوا کو گندم کی ترسیل بند کردی گئی ہے جسکی وجہ سے تمام فلور ملز بند پڑی ہیں اور ان میں کام کرنے والے ہزاروں مزدور بے روزگار، بے یار و مددگار اپنے خاندان والوں کے ساتھ بھوک اور افلاس سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بے جا اور غیر قانونی پابندی کی وجہ سے صوبے میں آٹے کے بیس کلو تھیلے کی اس وقت قیمت 12 سو روپے ہے جو کچھ ہی دنوں میں 15 سو روپے تک پہنچ جائیگی۔ جبکہ پنجاب میں آٹا سستا مل رہا ہے اور یہ پختونخوا کے لوگوں کی زندگی عزاب بنانے پر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کی اوپن مارکیٹ میں آج بھی لاکھوں ٹن گندم سٹوریج کے علاوہ اوپن مارکیٹ میں موجود ہے لیکن اسے خیبر پختونخوا کو نہیں دیا جارہا جو کہ اس واحد صنعت کا پہیہ جام کرنے کی سازش ہے۔ انکا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان سمیت تمام متعلقہ حکام کے نوٹس میں یہ تمام معاملات لائے جاچکے ہیں لیکن تاحال کوئی ثنوائی نہیں ہوئی جسکی وجہ سے اب ہم احتجاج پر مجبور ہوچکے ہیں۔ پاکستان کی گندم کی کل پیداوار کا 80 فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے سرکاری گندم کے گوداموں سے بھی صوبے کی فلور ملز کو گندم کی فراہمی بند کردی گئی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس بندش کی وجہ سے اربوں روہے کا سرمایہ ڈوب رہا ہے۔ اگر سمگلنگ واقعی میں ہورہی ہے تو پھر درجن بھر چیک پوسٹس کس کام کے لیئے بنائی گئیں ہیں، یعنی یہ الزام تو پھر ان کی نا اہلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسی تمام چیک پوسٹس سے پہلے ہی کاروبار تباہی کے دہانے پر ہے کیونکہ ان پر فی ٹرک ہزاروں روپے بھتہ وصول کیا جاتا ہے جسکا اضافی بوجھ براہ راست عوام ہی پر آتا ہے۔ انتظامیہ نے آج تک چیک پوسٹس کے حوالے سے بھی مسائل کو حل نہیں کیا اوپر سے گندم کی ترسیل پر پابندی لگا دی۔ پنجاب سے آٹا آنا اور گندم بند کردینا واضح پیغام ہے کہ وہ اس صوبے میں فلور ملز کی صنعت کو بند کرکے مزید بے روزگاری بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔آل پاکستان فلور ملزم ایسو سی ایشن خیبر پختونخوا اور سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے عہدیداروں نے پریس کانفرنس کے آخر میں ٹوکن احتجاج کرتے ہوئے جی ٹی روڈ کو بند کیا اور پنجاب کے فیصلے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر گندم کی صوبے کو ترسیل پر لگائی پابندی کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو جمعہ کے روز سے شروع ہونے والا احتجاج کا سلسلہ خیبر پختونخوا تک ہی محدود نہ ہوگا بلکہ اس احتجاجی تحریک کا دائرہ کار ملکی سطح تک پھیلاتے ہوئے اسلام آباد میں بھی دھرنا دیا جائیگا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -