باجوڑ میں پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کا مطالبات کے حق میں مظاہرہ

  باجوڑ میں پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کا مطالبات کے حق میں مظاہرہ

  

باجوڑ(نمائندہ پاکستان) باجوڑ میں پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کا مطالبات کے حق میں مظاہرہ۔ ملک بھر کی طرح ضلع باجوڑ میں بھی پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے اونرزاور اساتذہ سراپا احتجاج۔اگر حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کی تو بالآخر ہم مجبور ہوکر سکولز کے فرنیچر کو نذراتش کریں گے۔آخر میں تمام مظاہرین نے اپنے حقوق کے لئے نعرے لگائیں۔پین کے ضلعی صدر نوررحمن، جنرل سیکرٹری قاسم عمر ودیگر سکولوں کے اونرز اور اساتذہ نے باجوڑ پریس کلب کے سامنے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کے دوران حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت سرکاری فنڈز سے پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ کی تنخواہیں ادا کریں یا فوری طورپر سکول کھول دیں۔مظاہرین نے پلے کارڈ اُٹھارکھے تھے جس پر پرائیویٹ سکولوں کے ملازمین کا معاشی قتل بند کرنے،سکولوں کی بندش نامنظور، پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بچاؤ وغیرہ کے نعرے درج تھے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن نے پرائیویٹ تعلیمی اداروں، اساتذہ اور بچوں کو بری طرح متاثر کیا ہے اور اس کیوجہ سے نہ صرف پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ متاثر ہ ہورہے ہیں بلکہ طلبہ کا قیمتی وقت بھی ضائع ہورہاہے۔ ہم حکومت کے طرف سے مقرر شدہ احتیاطی تدابیر کے تحت سکول کھولنا چاہتے ہیں اگر حکومت احتیاطی تدابیر بتادیں تو ہم اُس پر عمل کرکے سکول کھول دینگے یا ہم اپنے او ایس پیز بھی نافذ العمل کرسکتے ہیں۔ لیکن حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے تعلیمی شعبے کو تباہی سے بچانے کیلئے اقدامات کریں۔ پین کے ضلعی صدر نے مطالبہ کیا کہ پرائیویٹ سیکٹر کے لئے مختص فنڈ (ایف، ای، ایف) اور (ایف، ایف، ای) کو دیاگیا ہے جو اربوں روپے میں ان کے پاس موجود ہے مذکورہ فنڈ کو(پی، ایس، آر، سی) جو صوبائی اسمبلی نے 2017میں منظور کیا تھا میں جمع کرائے تاکہ اس فنڈ سے پرائیویٹ سکولوں کے استاذہ کرام اور دیگر عملہ کے تنخواہیں ادا کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ تنخواہیں نہ ملنے کیوجہ سے فاقوں پر مجبور ہیں۔ آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نور رحمان نے کہا کہ ہم نے اپنے مرکزی وصوبائی قائدین کے فیصلے کے مطابق پہلے پشاور پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس پھر ڈویژنز کے سطح پر مینگورہ میں پریس اور آج ضلعی سطح پر پریس کانفرنس کررہے ہیں اس کے بعد ہم اسلام آبادکا رخ کرکے وہاں احتجاجی مظاہری کریں گے، اگر حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کی تو بالآخر ہم مجبور ہوکر سکولز کے فرنیچر کو نذراتش کریں گے۔آخر میں تمام مظاہرین نے اپنے حقوق کے لئے نعرے لگائیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -