سیگریٹ کی تیاری پر ایڈانس ایف ای ڈی ٹیکس مینو فیکچرز پر لاگو ہے، کاشتکارو ں پر نہیں

    سیگریٹ کی تیاری پر ایڈانس ایف ای ڈی ٹیکس مینو فیکچرز پر لاگو ہے، کاشتکارو ...

  

پشاور (سٹی رپورٹر)خیبرپختونخواکے تمباکو کاشکاران نے کہاہے کہ سیگریٹ کی تیاری پرایڈوانس فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائے جانے کے حوالے سے حکومت اور میڈیا کو گمراہ کیاجارہاہے ایڈوانس ایف ای ڈی ٹیکس صرف مینوفیکچررز پر لاگو ہے کاشتکاروں پر نہیں ہوتا کاشتکار 10 روپے/ کلو گرام کے حساب ایڈوانس ایف ای ڈی ادا نہیں کرتے۔ یہ رقم مینوفیکچررز کو ادا کرنا ہوتی ہے جو گرین لیف تھریشینگ کی سٹیج پر لاگو ہوتا ہے اس حوالے سے گزشتہ روز خیبرپختونخوا تمباکو کاشتکاران سے تعلق رکھنے والے بونیر، صوابی، شیر گڑھ اور یار حسین کے تمباکو کاشتکاروں کی جانب سے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں انہوں نے میڈیا کو بتایاکہ سیگریٹ کی تیاری پر ایڈوانس فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائے جانے کے حوالے سے حکومت اور میڈیا کے کچھ حصوں کو گمراہ کیا جارہا ہے جنرل سکریٹری بونیرکاشتکار ایسوسی ایشن انور خان نے میڈیا کو بتایا کہ کاشتکار 10 روپے/ کلو گرام کے حساب ایڈوانس ایف ای ڈی ادا نہیں کرتے۔ یہ رقم مینوفیکچررز کو ادا کرنا ہوتی ہے جو گرین لیف تھریشینگ کی سٹیج پر لاگو ہوتا ہے۔مینوفیکچررز کو تمباکو بیچنے کے بعد کسان بری الذمہ ہوجاتا ہے، جس کے بعد مینوفیکچررز، تمباکو کی تیاری کے لئے جی ایل ٹی کے عمل میں داخل ہوجاتے ہے۔ علاوہ ازیں، انکا مزید کہنا تھا کہ قانون ہمیں تحفظ فراہم کرتا ہے، فنانس بل 2018-2019 میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ایک کسان ایڈوانس ایف ای ڈی ادا کرنے کے لئے ذمہ دار نہیں ہے، جو جی ایل ٹی مرحلے پرسگریٹ مینوفیکچررز سے وصول کیا جاتا ہے۔ 2018 میں پی ٹی آئی حکومت نے اپنے منی بجٹ میں ایڈوانس ایف ای ڈی ٹیکس کو /10کلو گرام سے بڑھا کر 300روپے / کلوگرام کردیا تھا، تاکہ غیر قانونی مینوفیکچررز کے لئے ٹیکس چوری کی لاگت میں اضافہ کیا جاسکے۔ مینوفیکچررز یہ ٹیکس ادا کرنے کے پابند تھے اور یہ ایک ایڈجسٹ ایبل ایف ای ڈی تھا، ٹیکس کی ادائیگیوں کے بعد اس کے قانونی دستاویزات دکھا کررقم واپسی کا مطالبہ بھی ممکن تھا۔ تاہم، غیر قانونی سگریٹ تیار کرنے والے جو ٹیکسوں سے بچنے کے لئے اپنی خریداری ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے اس ٹیکس کو ایک پریشانی کی حیثیت سے دیکھتے تھے اور انکی ٹیکس چوری کی لاگت میں مشکلات پیدا ہوئی اسی وجہ سے انہوں نے بے بنیاد بیانیہ کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا کہ کسان اس ٹیکس کی ادائیگی کررہے ہیں اور طاقت کے استعمال سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں انہوں نے ایک گمراہ کن مہم چلائی۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کو اس مہم کی سربراہی کرنے کے لئے منتخب کیا گیا، انہوں نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں سینیٹرز، سینئر وفاقی اور صوبائی وزراء شامل ہیں، ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں سے کچھ تمباکو کے کاروبار سے منسلک ہیں اور وہ غیر قانونی سگریٹ تیار کرنے والے یونٹس کے مالک بھی ہیں۔ جس کے بعد غیر قانونی سگریٹ تیار کرنے والے فیصلہ سازوں پر اثر انداز ہونے میں کامیاب رہے اور ٹیکس کو واپس 10 روپے/ کلو گرام کردیا گیا اور خریداری ظاہر کرنے سے بچنے کے لئے پراکسی مینوفیکچررز / مڈل مین کا استعمال کیا گیا۔ایک سوال کے جواب میں کسان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سگریٹ مینوفیکچررز پر ایڈوانس ایف ای ڈی میں اضفے کو واپس لینے کے بعد، غیر قانونی سگریٹ بنانے والوں کی جانب سے ٹیکس چوری میں اضافہ دیکھنے مین آیا اور ان کی فروخت میں اضافہ ہو، جیسا کہ ہم گزشتہ سال دیکھ چکے ہیں۔ اس سے محصولات میں نہ صرف سرکاری خزانے کے ساتھ ساتھ ہم پر بھی اثر پڑتا ہے۔ جب ان کی فروخت بڑھنے لگتی ہے تو، وہ زیادہ تمباکو خریدنا شروع کردیتے ہیں اور وہ ہماری پیداوار کے لئے ہمیں اچھی قیمت نہیں دیتے ہیں، مزید برآں ان کی ادائیگی کی شرائط بھی مہینوں تک تاخیر کا شکار ہوتی ہیں۔ ہم غریب لوگ ہیں جو اپنی تمباکو کی پیداوار سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں، اسی وجہ سے ہم حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے، تاکہ حکومت کوئی ایسا اقدام کرے جس سے سگریٹ کی غیر قانونی تجارت میں اضافہ روکا جا سکے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جائز کاروبار میں بہتری آئے جس سے نا صرف سرکاری خزانے کو فائدہ پہنچتا ہے، وہ ہمیں ہماری پیداوار کے بہترین رقم ادا کرتے ہے اور کچھ دن میں ہمیں اپنی ادائیگی موصول ہوجاتی ہے۔اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے مردان کے علاقے شیر گڑھ سے تعلق رکھنے والے مقامی کاشت کار، عبد السلام باچا نے کہا کہ، تمباکو کے کچھ کاشتکار غیر قانونی طور پر سگریٹ تیار کرنے والوں کے مؤقف کی حمایت کر رہے اور کہتے ہیں کہ ایڈوانس ایف ای ڈی کسانوں کو تکلیف پہنچائے گی، جو حقیقت میں درست نہیں ہے۔ ہم سب بطور کسان اپنا تمباکو کو مینوفیکچررز کو فروخت کرتے ہیں اور مینوفیکچررز سگریٹ تیار کرنے کے لئے اس تمباکو کو جی ایل ٹی کے عمل کے ذریعے پروسیس کرتے ہیں۔ ہم بطور کسان سگریٹ تیار نہیں کرتے ہیں، پھر ہم پروسیسنگ کے لئے جی ایل ٹی میں کیوں جائیں گے؟ کاشتکاروں کا یہ مخصوص گروہ جو ناجائز سگریٹ مینوفیکچررز کے مؤقف کی حمایت کر رہا ہے در حقیقت کسی جرم کی حمایت کر رہا ہے اور یہ جرم ٹیکس چوری کا ہے جوکہ اگر حکومت کے پاس قومی خزانہ میں جائے گی تو ملک کی بہتری کے لئے استعمال ہوگی۔ ہم ایک ایسی صنعت کا حصہ ہیں جو ممکنہ طور پر حکومت کو زیادہ سے زیادہ رقم ادا کر سکتے ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس کو ہمارے علاقوں کی بہتری پر بھی خرچ کیا جائے۔ صوبائی محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، تمباکو ڈویلپمنٹ ٹیکس کی صورت میں جو رقم جمع کرتا ہے وہ ہم پر خرچ نہیں کی جاتی، غیر قانونی مینوفیکچررز سب کا تعلق کے پی کے میں ہمارے علاقوں سے ہے، وہ ہم سے ووٹ لیتے ہیں، البتہ وہ اربوں روپے کما رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے ہمارے علاقوں اور ہماری ترقی پر کبھی کوئی بھی رقم خرچ نہیں کی۔مقامی کسان زبیر خان نے صحافیوں کو بتایا کہ، ہمیں خوشی ہے کہ حکومت نے ٹیکس چوری کرنے والوں کے اس حربے کو بھانپ لیا ہے اور حکومت آئندہ بجٹ میں اس ٹیکس کو بڑھا کر 500 روپے/ کلو گرام سے زیادہ کرنے پر غور کررہی ہے۔ ٹیکس چوری کرنے والے تمباکو مافیا نے ایک بار پھر اس بدنیتی پر مبنی مہم کا آغاز کیا ہے اور اسی حربے کو استعمال کرکے حکومت کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گذشتہ روز اسلام آباد میں کاشتکاروں کے ذریعہ ایک پریس کانفرنس ہوئی جس نے غلط پیغام اور مؤقف کو پہنچایا، تاہم، تمباکو کے ذمہ دار کسانوں کی حیثیت سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حکومت صحیح سمت میں گامزن ہے اور جی ایل ٹی پر جدید ایڈجسٹ ایبل ایف ای ڈی کاشتکاروں پر بوجھ نہیں ہے کیونکہ یہ ٹیکس سگریٹ مینوفیکچررز ادا کرتے ہیں۔ہم حکومت اور وزیر اعظم پاکستان سے گزارش کرتے ہیں کہ اس ٹیکس کو بڑھا کر 500 روپے/ کلوگرام کیا جائے، تا کہ غیر قانونی سگریت پیدا کرنے والے ٹیکس چور مافیا کا کاروبار ترقی نہ کر سکے اور قومی خزانہ نا قابل تلافی نقصان سے بچ سکے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -