اگلے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں صحت، تعلیم اور آبنوشی کو ترجیح حاصل ہو گی: محمود خان

اگلے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں صحت، تعلیم اور آبنوشی کو ترجیح حاصل ہو ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے اگلے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کے لئے صحت، تعلیم اور آبنوشی کو صوبائی حکومت کے ترجیحی شعبے قرار دیتے ہوئے ان محکموں کے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ان محکموں میں نئے ترقیاتی منصوبوں کے پی سی ونز سے لیکرافتتاح تک کے تمام مراحل کی بروقت تکمیل کیلئے حقیقت پسندانہ ٹائم لائنز مقرر کی جائیں اور اُن ٹائم لائنز کے عین مطابق ان منصوبوں پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ ہسپتالوں اور دیگر طبی اداروں کی زیر تکمیل منصوبوں کی مقررہ مدت کے اندر تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور ہسپتالوں کی زیر تعمیر عمارتوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ طبی آلات اور عملے کی دستیابی کو بھی یقینی بنانے کے لئے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ان منصوبوں کا فائدہ بلا تاخیر عوام کو پہنچ سکے۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ ضم شدہ اضلاع کے کنٹریکٹ پر بھرتی کئے گئے ڈاکٹرز اور اساتذہ سمیت تمام ملازمین کی مستقلی کیلئے ایک قابل عمل پلان تشکیل دیا جائے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں اگلے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام اور ضم شدہ اضلاع کے تیز رفتار ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے جانے والے منصوبوں کو حتمی شکل دینے کیلئے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں محکمہ ٰ تعلیم اور صحت کے علاوہ دیگر محکموں کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور وخوض کیا گیا۔ متعلقہ محکموں کے وزراء اور انتظامی سیکرٹریوں کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری ترقی و منصوبہ بندی ہمایون خان اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں ان محکموں کے موجودہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ موجودہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل منصوبوں کیلئے جاری کردہ فنڈز کے استعمال کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا کہ اب تک جاری کردہ فنڈز کا 78 فیصد حصہ خرچ کیا جا چکا ہے کورونا کی صورتحال کی وجہ سے جاری کردہ ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی رفتار کسی حد تک کم ہوئی ہے تاہم مالی سال کے آخر تک جاری کردہ تمام فنڈز کے استعمال کو یقینی بنانے کیلئے کو ششیں کی جارہی ہیں۔ ضم شدہ اضلاع میں صحت کے شعبے کی بہتری کو صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سب سے اہم قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی کہ ان اضلاع کے تمام ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی اپگریڈیشن اور وہاں پر تمام درکار سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حکام کوبھی ہدایت کی کہ ضم شدہ اضلاع میں تمام تباہ شدہ سکولوں کی تعمیر نو اور ان سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ایک جامع پلان بنا کر پیش کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ ضلع پشاور خصوصاً شہر کے گردو نواح میں اسکولوں کی بحالی، تزئین و آرائش اور عدم دستیاب سہولیات کو پورا کرنے کیلئے بھی ایک جامع پلان تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اُن سرکاری سکولوں جن کی اپگریڈیشن کے لئے زمین دستیاب نہیں اُن سکولوں میں مڈل اور ہائی کلاسوں کے اجراء کے لئے سیکنڈ شفٹ شروع کرنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو فوری طور پر پوری کرنے کیلئے مارکیٹس سے عارضی بنیادوں پر اساتذہ بھرتی کرنے کیلئے بھی ایک قابل عمل منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اُنہوں نے واضح کیاکہ اگلے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تمام منصوبے میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر شامل کئے جائیں۔ بعض جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت کی رفتار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اُنہوں نے متعلقہ حکام کو ان منصوبوں کی تکمیل میں سست روی کی وجوہات معلوم کرنے اور اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -