سرائیکی صوبے کی تحریک کا چمکتا ستارہ ہمشہ کیلئے غروب

سرائیکی صوبے کی تحریک کا چمکتا ستارہ ہمشہ کیلئے غروب

  

ملتان (سپیشل رپورٹر)سرائیکستان قومی کونسل کے چیئرمین، سرائیکی ادبی بورڈ رجسٹرڈ ملتان کے صدر، معروف ماہر لسانیات پروفیسر شوکت مغل آج 3 جون 2020ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ نمازہ جنازہ ان کی رہائش گاہ پیپلز کالونی نزد پنجند ٹیکسٹائل ملز میں ادا کی گئی۔ سرائیکی ادبیوں شاعروں، دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ان کے لواحقین میں دو بیٹے رضوان مغل، ذیشان مغل، تین بیٹیاں اور بیوہ شامل ہیں۔ پروفیسر شوکت مغل 4 جون 1947ء کو اندرون پاک گیٹ ملتان حسین بخش مغل کے گھر میں پیداہوئے۔ پرائمری تعلیم اپنے محلے کے سکول سے حاصل کی۔ 1963ء میں گورنمنٹ ملت ہائی سکول ملتان سے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا، ایف اے 1965ء اور بی اے 1968ء گورنمنٹ بوسن روڈ سے کیا جبکہ ایم اے اردو بہاء الدین زکریا یونیورسٹی سے کیا۔انہوں نے عملی زندگی کا آغاز 1971ء سے شجاع آباد کے قصبہ میراں کے مڈل سکول سے بطور معلم کیا۔ 1973ء میں بطور لیکچرار سول لائن کالج ملتان تعینات ہوئے۔ 1990ء میں ا?پ اسسٹنٹ پروفیسر بن کر گورنمنٹ کالج ا?ف ایجوکیشن چلے گئے اور 2008ء میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے۔ریٹائرمنٹ کے بعد علمی ادبی کام کے ساتھ ساتھ انہوں نے سیاسی میدان میں حصہ لیا۔ سرائیکستان قومی کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے سرائیکی صوبے کے قیام کیلئے کار ہائے نمایاں خدمات سر انجام دیں۔ وسیب کے اجتماعات، احتجاجی ریلیوں، دھرنوں میں ا?پ کا خطاب دلائل سے دیتے، سیاسی حوالے سے انکی کتاب کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ پروفیسر شوکت مغل کی 60 سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں سرائیکی قاعدہ کے ساتھ ساتھ،سرائیکی محاورے، سرائیکی املا دے مسئلے، سرائیکی مصادر، سرائیکی دیاں خاص ا?وازاں دی کہانی، اردو میں سرائیکی زبان کے انمٹ نقوش، ملتان دیاں واراں، سرائیکی نامہ، کؤ تے کنوا، کنائی، نور نامہ نسخہ ملاں شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نور نامہ نسخہ مراد، پکی روڈی،تنقیدی دبستان (ترجمہ)، اردو سرائیکی مترادفات، قدیم اردو لغت اور سرائیکی زبان، سرائیکی اردو لغت جیوکس (ترجمہ)، قدیم سرائیکی اردو لغت، سرائیکی اکھان، سرائیکی اکھان (جلد دوم)، ساڈا ترکہ،الف بے بٹوا (دو ایڈیشن)، ملتانی کہانیاں، ا?ٹی ماٹی، دلشاد کلانچوی (فن تے شخصیت)، معراج نامہ، سرائیکی زبان وچ کنایہ تے قرینہ، سرائیکی پڑھوں، افادات، پچھیرا، شوکت اللغات، اصطلاحات پیشہ وران، دلی ڈھائی کھوہ، کتاب دی گال کتاب دے نال، انیس ادب بنام جلیس ادب، تفہیم فرید و دیگر شامل ہیں۔ ان کی کتاب ملتان دیاں واراں (1994ء) اور دوسری کتاب کو? تے کنوا (2001ء) کو اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے خواجہ فرید ایوارڈ بھی ملا۔ پروفیسر شوکت مغل بنیادی طور پر ایک محقق تھے، وہ اپنے کام کے بارے میں خود کہتے تھے کہ ابتدائی دنوں میں میرا کام مضامین اور اور انشائیوں کے حوالے سے تھا، بعد میں تحقیق کی طرف توجہ کی، خاص طور پر سرائیکی زبان بارے تحقیق کو اپنے لئے چن لیا۔ اس طرح سرائیکی لسانیات اور لوک ادب پر تحقیق کو اپنا مشن بنا لیا۔ پروفیسر شوکت مغل تاریخ کا شعور رکھتے تھے۔انہوں نے اپنا کام دیانت اور خلوص کے ساتھ کیا۔پروفیسر شوکت مغل سرائیکی زبان کے سچے شیدائی تھے،سرائیکی اکیڈمک زبان بنانے میں ان کا کام نمایاں ہے، آج یونیورسٹیوں میں سرائیکی پڑھائی جا رہی ہے، ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈٰ ہو رہی ہے،اس میں شوکت مغل کی کوششیں شامل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ زبان اور لسانیات کے ماہرین نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ زبان پر آب و ہوا، زرعی پیداوار، جغرافیائی ماحول، لوگوں کے پیشے اور زندگی کے وسائل بہت اثر رکھتے ہیں۔ اگر اس معیار پر علاقائی زبانوں کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سرائیکی اپنے خطے کی مناسبت سے سب سے زیادہ میٹھی زبان ہے۔ سرائیکی زبان میں ایک ایک لفظ کئی کئی معنوں کیلئے استعمال ہوتا ہے، اسکے محاورے علیحدہ، اسکی کہاوتیں علیحدہ،اسکے مصادر علیحدہ ہیں، اسکی گرائمر علیحدہ ہے، پھر یہ الگ زبان کیوں نہیں؟پروفیسر شوکت مغل پانچ بھائی تھے،ان میں غلام شبیر مغل،ڈاکٹر عبدالوحید مغل، عبدالحمید مغل اور عبدالمجید مغل۔ مغل بتاتے تھے کہ میں نے سرائیکی کا ا?غاز سرائیکی قاعدے سے کیا اور میری پہلی کتاب سرائیکی قاعدہ تھی۔ سرائیکستان قومی کونسل کے صدر ظہور دھریجہ نے پروفیسر شوکت مغل کی وفات کو قومی سانحہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ2 جون سقوط ملتان کے سانحہ کی طرح پروفیسر شوکت مغل کی 3 جون کو وفات سرائیکی وسیب کے لئے بہت بڑا سانحہ ہے۔ ان کی وفات کا خلا شاید صدیوں بعد بھی پر نہ ہو سکے کہ وہ اپنی ذات میں انجمن تھے اور انہوں نے اکیلے سرائیکی کا اتنا بڑا کام کیا کہ اتنا بڑا کام ادارے بھی نہ کر سکے۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے۔ سرائیکستان صوبہ محاذ کے چیئرمین خواجہ غلام فرید کوریجہ، نذیر کٹپال، جام ایم ڈی گانگا، سید مہدی الحسن شاہ، قمر ہاشمی، مظہر جاوید، جنید روہی، اکبر ہاشمی، جام جمشید، اللہ نواز وینس، رانا امیر علی، علامہ فاروق احمد سعیدی،خورشید ملک، ملک جاوید چنڑ، افتخار گیلانی، حیات اللہ نیازی، طاہر محمود دھریجہ، خلیل بخاری،ذوالفقار بھٹی، ممتاز نیازی، اے بی تونسوی،مظہر سعید گوپانگ، ثوبیہ ملک، عامر شہزاد صدیقی،حاجی احمد نواز سومرو، سعید اختر سیال، زبیر دھریجہ، افضال بٹ، ارشد بخاری، شبیر بلوچ، حاجی عید احمد دھریجہ،ممتاز دھریجہ، مختار لنگاہ، عابد سیال، عاشق عباسی، شریف بھٹہ، رضوان دھریجہ، ایاز محمود دھریجہ، ملک سہیل، راشد خان، محمد علی خان، نور تھہیم، چوہدری مبشر رضاو دیگر نے اظہار تعزیت کی اور مرحوم کی مغفرت کیلئے دعا کی۔

مزید :

صفحہ اول -