ناصر شاہ کی زیرصدارت محکمہ بلدیات سندھ کے دفتر میں اعلی سطح کا اجلاس

ناصر شاہ کی زیرصدارت محکمہ بلدیات سندھ کے دفتر میں اعلی سطح کا اجلاس

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیرصدارت محکمہ بلدیات سندھ کے دفتر میں اعلی سطحی اجلاس منعقد کیا گیاجس میں مئیر سکھر ارسلان شیخ بھی موجود تھے۔سیکرٹری لوکل گورنمنٹ روشن علی شیخ نے وزیر بلدیات سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فائر بریگیڈ محکمے کی گاڑیوں اور اسنارکلز کی خریداری کے حوالے سے تمام ٹی اور آرز اور دستاویزی کاروائی اور قانونی تقاضے مکمل کرلئے گئے ہیں اور تمام طریقہ کار میں شفافیت کو خصوصی طور پر مد نظر رکھا گیا ہے۔وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی سندھ کی ہدایات کے مطابق ٹینڈروں کے کھلنے کا مرحلہ کسی بھی صورت تاخیر کا شکار نہیں ہونا چاہئے اور آغاز تا اختتام تما م مراحل کے دوران کسی بھی طرح کی قانونی پیچیدگی یا سقم نہیں آنا چاہیے۔ علاوہ ازیں ناصر حسین شاہ نے مالی سال 2020-2021کے حوالے سے ترقیاتی اسکیموں کے اجرا اور ان کے تکمیل کے موضوع پر ایک اور اجلاس کی صدارت کی جس میں صوبائی وزیر کے استفسار پر ان کو بتایا گیا کہ مالی سال 2020-2021میں 97 ترقیاتی اسکیمیں اپنا تکمیلی سفر مکمل کرلیں گی جن میں واٹر اینڈ سیوریج کی پچیس، سڑکوں کے حوالے سے تریسٹھ اسکیمیں رکھی گئی ہیں۔ ان اسکیموں کے علاوہ چھہ میگا اسکیمیں بھی مالی سال کا حصہ ہوں گی اور فی الوقت تین بڑے منصوبے مکمل کئے جاچکے ہیں۔ ناصر حسین شاہ نے افسران کو ہدایت کی کہ بروقت منصوبوں کی شفاف انداز میں تکمیل ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ دریں اثنا صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سندھ حکومت نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے فیصلوں پر من و عن عمل کرے گی اور صوبہ میں تعلیمی ادارے، شادی ہال، اسپورٹ کلب، جم، ریسٹورنٹ، بیوٹی پارلر، سنیما گھر سمیت ہر قسم کے جلسے جلوسوں پر پابندی برقرار رہے گی جبکہ صوبے میں ٹرانسپورٹ ایس او پیز پر عملدرآمد کے تحت ٹرانسپورٹ شروع کی گئی ہے۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وباء کی شرح میں دن بدن تشویشناک حد تک اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے کیونکہ اب یہ وباء ملک میں اپنے پنجے گاڑ چکی ہے اور جب تک اس کی ویکسین تیار نہیں ہو جاتی اس وباء کے ساتھ ہی زندگی گذارنی پڑے گی اور ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے کاروبار چلانا پڑے گا انہوں نے کہا کہ عوام شتر بے مہار کی طرح ایس او پیز کوماننے کو تیار نہیں ہیں جس کی وجہ سے کیس کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے صوبہ سندھ میں لاک ڈا?ن کا فیصلہ کیا تو ہمیں کہا گیا کہ ہم عوام دشمن ہیں اور طرح طرح کی تنقید کی گئی حالانکہ بعد ازاں یہ فیصلہ پورے ملک میں نافذالعمل ہو لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

مزید :

صفحہ اول -