شکایت صدر کو بھیجنے کے بجائے اے آر یو اوریونٹ کو پذیرائی کیوں دی؟،جسٹس عمر عطابندیال

شکایت صدر کو بھیجنے کے بجائے اے آر یو اوریونٹ کو پذیرائی کیوں دی؟،جسٹس عمر ...
شکایت صدر کو بھیجنے کے بجائے اے آر یو اوریونٹ کو پذیرائی کیوں دی؟،جسٹس عمر عطابندیال

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیخلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس عمر عطابندیال نے کہاہے کہ عدالت کے سوال ریفرنس کی مبینہ بدنیتی پر ہیں،عدالت نے اے آر یو یونٹ کے کردار اور قانونی سوال کئے ،شکایت صدر کو بھیجنے کے بجائے اے آر یو اوریونٹ کو پذیرائی کیوں دی؟۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کے معاملے میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیخلاف درخواستوںپر سماعت ہوئی،جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں لارجربنچ سماعت کررہا ہے ،بیرسٹر فروغ نسیم نے کہاکہ عدالت نے سوالات سے مجھے بہت معاونت فراہم کی ،27 ایسے قانونی نکات ہیں جن پر دلائل دونگا۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہاہے کہ عدالت کے سوال ریفرنس کی مبینہ بدنیتی پر ہیں،عدالت نے اے آر یو یونٹ کے کردار اور قانونی سوال کئے ،شکایت صدر کو بھیجنے کے بجائے اے آر یو اوریونٹ کو پذیرائی کیوں دی؟۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہاکہ مجھے حقائق بیان کرنے دیں اس میں مقدمے کوسمجھانے میں آسانی ہوگی ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ صدرمملکت اوروزیراعظم کی وکالت کون کررہا ہے ،فروغ نسیم نے کہاکہ صدرکی ڈپٹی اٹارنی جنرل اوروزیراعظم کی وکالت ایڈیشنل اٹارنی جنرل کریں گے۔جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ فروغ نسیم صاحب!آپ اپنے انداز سے دلائل دیں اور آگے بڑھیں ۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -