امریکہ میں پولیس والوں کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کا قتل جس کے بعد پورے ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے، اب اس کی 6 سالہ بیٹی کا پہلا انٹرویو آگیا، ایسی بات کہہ دی کہ لوگوں کو رونا آگیا

امریکہ میں پولیس والوں کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کا قتل جس کے بعد پورے ملک میں ...
امریکہ میں پولیس والوں کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کا قتل جس کے بعد پورے ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے، اب اس کی 6 سالہ بیٹی کا پہلا انٹرویو آگیا، ایسی بات کہہ دی کہ لوگوں کو رونا آگیا

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ریاست منیسوٹا کے شہر منیپولیس میں سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد پورے امریکہ میں پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔ اب پہلی بار مقتول جارج فلوئیڈ کی 6سالہ بیٹی منظرعام پر آ گئی ہے اور ایسی بات کہہ دی کہ ہر سننے والے کی آنکھ نم ہو گئی۔ میل آن لائن کے مطابق جارج فلوئیڈ کی اہلیہ روکسی واشنگٹن اور 6سالہ بیٹی جیانا ’گڈ مارننگ امریکہ ‘ نامی شو میں شریک ہوئیں جہاں جیانا نے اپنے باپ کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ”میرے ڈیڈی نے دنیا ہی بدل کر رکھ دی ہے۔“ اس کا کہنا تھا کہ ”ڈیڈی مجھے بہت یاد آتے ہیں، وہ میرے ساتھ کھیلتے تھے۔ میرا بہت دل کرتا ہے کہ اب بھی ان کے ساتھ کھیلوں۔“

جیانا نے مزید کہا کہ ”میں بڑی ہو کر ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں اور لوگوں کی دیکھ بھال کرنا چاہتی ہوں۔“ جیانا کی والدہ نے شو میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ” ابھی جیانا صرف اتنا معلوم ہے کہ اس کے ڈیڈی کو سانس نہیں آیا تھا جس کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی۔ ہم نے اسے یہ نہیں بتایا کہ اس کے ڈیڈی کی گردن پولیس آفیسر نے 8منٹ 46سیکنڈ تک گھٹنے سے دبائے رکھی جس سے اس کی سانس بند ہو گئی۔“ رپورٹ کے مطابق اس سفید فام پولیس آفیسر کا نام ڈیریک شووین تھاجس نے جارج فلوئیڈ کی گردن پر گھٹنا دیئے رکھا۔ جارج فلوئیڈ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ”باقی دو پولیس آفیسر جو پاس کھڑے یہ سب دیکھتے رہے، ہم چاہتے ہیں کہ ڈیریک شووین کی طرح ان کے خلاف بھی انہی الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔ ہم لوگوں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جارج فلوئیڈ کے نام پر صرف پرامن احتجاج کریں۔“

مزید :

بین الاقوامی -