عوام کا خون نچوڑنے والے کسی رعائت کے مستحق نہیں ،چینی سکینڈل میں بینی فشریز کے ساتھ ساتھ ۔۔۔سراج الحق نے بڑا مطالبہ کر دیا

عوام کا خون نچوڑنے والے کسی رعائت کے مستحق نہیں ،چینی سکینڈل میں بینی فشریز ...
عوام کا خون نچوڑنے والے کسی رعائت کے مستحق نہیں ،چینی سکینڈل میں بینی فشریز کے ساتھ ساتھ ۔۔۔سراج الحق نے بڑا مطالبہ کر دیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ چینی سکینڈل میں بینی فشریز کے ساتھ ساتھ منصوبہ سازوں کو بھی شامل کیا جائے،عوام کا خون نچوڑنے والے کسی رعائت کے مستحق نہیں۔ ملک میں چینی ، ادویات ، گندم سکینڈلز کی گویا سیریز چل رہی ہے،آئندہ بجٹ دفاع کے بعد افراد پر خرچ کیا جائے،فوڈ اور ہیلتھ سیکیورٹی کے بعد تعلیم اور زراعت کو ترجیح دی جائے،کرونا وباءکی وجہ سے لاکھوں چھوٹے بڑے ادارے بند ہوگئے ہیں جس سے ایک کروڑ 70لاکھ افراد کے بے روزگار ہونے کا خطرہ ہے،حکومت ایمرجنسی بنیادوں پر ان داروں کی بحالی کی طرف توجہ دے ،کورونا سے نجات تک جماعت اسلامی کی رجو ع اللہ اور توبہ و استغفار کی مہم جاری رہے گی،کرپشن ،سود ،ملاوٹ ،مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہماری مہم کے اہم اہداف ہیں۔پٹرول کی عدم دستیابی سے عوام کو قیمتوں میں کمی کا فائدہ نہیں مل رہا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں ہونے والے مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اجلاس میں سیکرٹری جنرل امیر العظیم ،نائب امراءڈپٹی سیکرٹریز اور سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف نے شرکت کی۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ چینی سکینڈل میں ملوث ہر فرد کا احتساب ہونا چاہیے،عوام کا خون نچوڑنے والوں کے ساتھ ساتھ اس کی اجازت دینے والوں کو بھی کٹہرے میں لایا جائے،جب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جارہا تھا کیا حکمران سوئے ہوئے تھے؟حکومت نے کس بنیاد پر اربوں کمانے والوں کو سبسڈی دی اور لٹیروں کے لیے قومی خزانے کے منہ کھول دئیے؟۔انہوں نے کہا کہ چور کے ساتھ ساتھ چور کی ماں کو پکڑنا ضروری ہے،چور اور چوکیدار ملے ہوئے ہیں ایسا نہیں ہوسکتا کہ چور کو پکڑا اور چوکیدار کو چھوڑ دیا جائے۔

سینیٹر سراج الحق نےکہاکہ آئندہ بجٹ میں حکو مت اپنے اللےتللوں اورغیرترقیاتی اخراجات پر قابو پائے،کورونا وبا کی وجہ سے بجٹ خسارہ پہلے ہی ناقابل برداشت ہوچکا ہے،اس لیے دفاع کے بعد ترجیحات کا تعین کیا جائے اور خوراک ،علاج تعلیم اور زراعت کو ترجیح اول میں رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ کاروبار بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ناممکن ہوگیا ہے،غریب اور دیہاڑی دار مزدوروں کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت ہے،حکومت کا فرض ہے لوگوں کو بھوک کےہاتھوں مرنےسےبچانےکےلیے فوری طور پر اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ علاج اور تعلیم کے بغیر معاشرتی فلاح اور انسانی ترقی کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا،اس لیے انکی طرف خصوصی توجہ دی جائےسابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی ناکامیوں کا سلسلہ ہے ان میں کوئی فرق نہیں ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمرانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کورونا سمیت قدرتی وباؤ ںاور آزمائشوں سے اجتماعی توبہ و استغفار اوررجوع الی اللہ ہی سے بچا جاسکتا ہے،کورونا کی مہلک بیماری کے باوجود ملک میں کرپشن سود اور ملاوٹ جیسی بیماریاں عام ہیں،جن کی وجہ سے مہنگائی اور بے روزگاری کی وباءمسلسل پھیل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری بھی معاشرے کے لیے اسی طرح مہلک بیماریاں ہیں جس طرح کرونایا کوئی دوسری وبا،اس لیے حکومت کو فور ی طور پر ان کے خاتمہ کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے اور اللہ سے توبہ و استغفار کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

مزید :

قومی -