اپوزیشن کا طرزِ عمل اور آئندہ کامیابیوں کے دعوے

اپوزیشن کا طرزِ عمل اور آئندہ کامیابیوں کے دعوے

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری جو اگلی حکومت آئے گی اس میں ملک اور تیزی سے اوپر جائے گا۔ اپوزیشن پر ترس آتا ہے مجھے فکر پڑ گئی یہ اب ساتھ رہ پائیں گے یا نہیں، شرح نمو 4فیصد ہونے پر اپوزیشن شور مچا رہی کہ اعداد و شمار غلط ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ اقتدار میں رہ کر مَیں اپنے لئے یا قوم کے لئے پیسہ بنا سکتا ہوں،دونوں کام نہیں ہو سکتے۔ اگر مَیں سوچوں لندن میں محلات خریدوں گا اور قوم بھی ترقی کر جائے گی تو یہ ممکن نہیں، جن حکمرانوں کے گھر، عیدیں اور علاج باہر ہوں اُنہیں پاکستان کا کیا پتہ۔بحیثیت قوم مسلسل محنت ہی سے خوش حال ریاست قائم کی جا سکتی ہے، زیارت میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے قوم کو خوش خبری سنائی کہ ملک بہت مشکل وقت سے نکل رہا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ مَیں بادشاہوں کی طرح اشرفیوں کی تھیلیاں نہیں پھینک سکتا، کسی بھی فنڈ کے اجرا سے پہلے وزیر خزانہ سے مشاورت کرنا پڑتی ہے، ہماری حکومت آتے ہی مخالفین نے ناکامی کا شور مچایا اُن کو خطرہ تھا کہ اگر یہ حکومت کامیاب ہو گئی تو ان کی سیاسی دکانیں بند ہو جائیں گی۔وہ کبھی حکومت کے خاتمے کے لئے تین ماہ کا وقت دیتے ہیں اور کبھی دسمبر کی تاریخ، مجھے خدشہ ہے کہ یہ ایک ساتھ بھی نہیں رہیں گے۔

اپوزیشن کا تو کام ہی حکومت کی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بنانا ہوتا ہے،ہر حکومت کی اپوزیشن یہی کام کرتی ہے، خود جناب عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تووہ بھی اس وقت کی حکومت جانے کی اسی طرح پیش گوئیاں کیا کرتے تھے، جس طرح آج کی اپوزیشن اس حکومت کے متعلق جھوٹی(یا سچی) پیشگوئیاں کر رہی ہے۔ اس لحاظ سے عمران خان کی اپوزیشن اور نواز شریف کی اپوزیشن کا طرزِ عمل یکساں ہے،وزیراعظم عمران خان کو اپنا وہ دھرنا تو یاد ہو گا جو انہوں نے ریڈ زون میں پارلیمینٹ ہاؤس، سپریم کورٹ اور ایوانِ صدر کے سامنے دیا ہوا تھا،اُن کے ساتھ اُن کے ”سیاسی کزن“ بھی تھے، وزیراعظم ہاؤس کو جانے والے راستے بند کر دیئے گئے تھے اور دھرنے والے احتجاجی اس راستے پر بیٹھے تھے، اس دوران کسی نے خبر دی کہ مظاہرین پی ٹی وی کی عمارت کے اندر گھس گئے ہیں اور انہوں نے نشریات بند کر دی ہیں۔یہ نشریات آدھ پون گھنٹے کے لئے بند رہیں،اس دوران سٹیج سے ایسے اعلانات کئے گئے جیسے نشریات بند کر کے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دے دیا گیا ہوا  اس پر اظہارِ فخر بھی کیا گیا،اور سٹیج سے یہ اعلان بھی مسلسل کیا جاتا رہا کہ عمران خان وزیراعظم سے استعفا لئے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ایک موقع پر انہوں نے معلوم نہیں از راہ تفنّن کہا یا سنجیدگی سے اظہارِ خیال فرمایا کہ نواز شریف جلد استعفا دو،مَیں نے اس کے بعد شادی بھی کرنی ہے، شادیاں تو خیر انہوں نے بعد میں ایک نہیں دو کر لیں، لیکن امرِ واقعہ یہ ہے کہ وہ نواز شریف سے استعفا لینے میں کامیاب نہ ہوئے،اور اس مقصد کے لئے دوسرے اداروں کو میدان میں آنا پڑا۔ نواز شریف کو عدلیہ نے ایسے اقامے میں نااہل قرار دے کر رخصت کیا جو  پاسپورٹ پر ڈکلیئر تھا اور یہ پاسپورٹ عدالتی ریکارڈ میں بھی موجود تھا۔ عمران خان نے اس وقت بجلی کے بلوں کو آگ لگائی جب بجلی کا یونٹ آٹھ روپے کا تھا، انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ  بجلی کے بل جمع نہ کرائیں، پھر وہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب متوجہ ہوئے کہ وہ اپنے گھر والوں کو رقوم ہنڈی کے ذریعے بھیجیں، بینکوں کی معرفت نہ بھیجیں،انہوں نے پولیس افسروں کا نام لے لے کر انہیں دھکیاں دیں اور کہا کہ وہ انہیں اپنے ہاتھ سے پھانسی دیں گے۔ ایک تھانے پر حملہ کر کے کارکن چھڑوائے گئے،اُن کے سیاسی کزن نے تو کرنسی نوٹ ”ڈی فیس“ کرنا شروع کر دیئے تھے۔ کارنامے تو اور بھی بہت تھے لیکن ان کالموں کا دامن اتنا کشادہ نہیں کہ سب کا تذکرہ ان میں سما سکے۔

آج عمران خان کو جو اپوزیشن جماعتیں ملی ہیں وہ ان کارناموں میں سے کوئی ایک بھی سرانجام نہیں دے رہیں، نہ انہیں گھسیٹ کر ایوانِ وزیراعظم سے نکالنے کی دھمکیاں دے رہی ہیں، نہ انہوں نے سول نافرمانی کا کوئی طریقہ آزمایا ہے، نہ کسی افسر کو ڈرایا دھمکایا ہے، نہ کسی کو پھانسی دینے کی بات کی ہے۔ اپوزیشن زیادہ سے زیادہ یہ کہہ رہی ہے کہ عمران خان کی حکومت نااہل ہے، ڈیلیور نہیں کر رہی، مہنگائی پر قابو نہیں پا سکی، آٹے اور چینی مافیا پر کنٹرول نہیں کر سکی، رِنگ روڈ سکینڈل میں اس کے وزیر،مشیر اور ایسے لینڈ اونرز ملوث ہیں، جن کی کوڑیوں کی زمینیں سونے کی ہو گئی ہیں۔ اپوزیشن یہ مطالبہ ضرور کر رہی ہے کہ نئے الیکشن کرائے جائیں اور یہ بات تو خود حکومت کے کئی وزیر کہہ رہے ہیں کہ عمران خان اسمبلی توڑ دیں گے این آر او نہیں دیں گے، جس کا مطلب نئے الیکشن کے سوا کیا ہے؟ گویا اس معاملے میں حکومت اور اپوزیشن ”ایک صفحے“ پر ہیں۔

وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت کو خود کس نظر سے دیکھتے ہیں اس کے لئے اُن کے چند بیانات کافی ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو تیاری کے بغیر برسر اقتدار نہیں آنا چاہئے،ہم بھی جب برسر اقتدار آئے تو ہمیں کئی مہینے تک چیزوں کی سمجھ ہی نہیں تھی،اب اگر یہی بات اپوزیشن دہرا دے تو اس میں کیا قباحت ہے؟انہوں نے فرمایا کہ نیب کرپشن ختم نہیں کر سکا، یہی بات اپوزیشن بھی کہہ رہی ہے اور سپریم کورٹ نے تو گذشتہ روز ہی کہا ہے کہ اپنوں کے کیس ایف آئی اے کو بھیج دیئے جاتے ہیں اور مخالفین کے نیب کو۔ وزیراعظم خود کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیکس نہیں دیتے، حالانکہ جب وہ اپوزیشن میں تھے تو کہا کرتے تھے کہ آٹھ دس ہزار ارب روپے ٹیکس جمع کرنا کوئی مشکل کام نہیں، مَیں لوگوں سے چندہ جمع کرنا جانتا ہوں تو ٹیکس بھی جمع کر لوں گا، کیونکہ اوپر دیانت دار آدمی بیٹھا ہو تو لوگ خوشی خوشی ٹیکس دیتے ہیں۔ اب یہ ساری شرائط پوری ہو گئی ہیں اور ٹیکس بمشکل چار ہزار ارب کا ہندسہ عبور کر سکا ہے تو اسی پر خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ آٹھ دس ہزار ارب کا خواب کیا ہوا،ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا ایک وزیر خزانہ کو ہٹایا گیا کہ اُن کی کارکردگی اچھی نہیں تھی۔ آج انہی کے دور کے حوالے سے دعوے کئے جا رہے ہیں کہ اس عرصے میں جی ڈی پی کی شرح بڑھی، اب سوال یہ ہے کہ اگر معیشت ترقی کر رہی تھی تو پھر وزیر خزانہ کو قربانی کا بکرا بنانے کی ضرورت کیوں پڑ گئی تھی؟

اب وزیراعظم نے اپنی ساری امیدیں اپنے اگلے دورِ حکومت سے وابستہ کر لی ہیں، انہوں نے یہ یقین کیسے کر لیا ہے کہ آئندہ بھی اُن کی جماعت جیت جائے گی، حالانکہ2018ء کے بعد سے اُن کی پارٹی کی مقبولیت کا گراف گرا ہے اور اس کا ثبوت وہ ضمنی انتخابات ہیں جن میں تحریک انصاف مسلسل ہاری ہے،ابھی ایک ماہ پہلے کراچی میں اپنی جیتی ہوئی نشست ہار دی اور اُن کے امیدوار کی ضمانت بھی ضبط ہو گئی اور پوزیشن بھی پانچویں ملی،مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے، لوگوں کی قوتِ خرید مسلسل گر رہی ہے، خط ِ غربت سے نیچے لڑھکنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے،چلئے یہ مان لیا کہ 4فیصد شرح نمو ہوئی ہے تو اس سے بے روز گاری تو ختم نہیں ہو سکتی،اس کارکردگی کے ساتھ اگر آپ ووٹروں کے پاس جائیں گے تو کامیابی کی امید خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں، لیکن دعوے ایسے کئے جا رہے ہیں جیسے دودھ اور شہد کی نہریں بہا دی گئی ہوں۔ اگلی ٹرم کی کامیابی مطلوب ہے تو آنے والے دو برسوں میں لوگوں کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ دینا ہو گی، اگر یہ مسائل جوں کے توں رہے تو کامیابی خواب و خیال رہے گی۔بیرونِ ملک محلات بنانے والوں کا تذکرہ تو کیا جاتا ہے،لیکن یہی لوگ جب کروڑوں کا عطیہ دیتے تھے تو وہ خاموشی سے قبول کر لیا جاتا تھا اور یہ نہیں پوچھا جاتا تھا کہ وہ اتنا بڑا عطیہ کیوں اور کہاں سے دے رہے ہیں؟

مزید :

رائے -اداریہ -