ملالہ یوسف زئی کے تازہ خیالات

ملالہ یوسف زئی کے تازہ خیالات

  

نوبل انعام یافتہ پاکستان نژاد ملالہ یوسفزئی ایک نئے تنازع میں الجھ گئی ہیں، ان کے تازہ ترین انٹرویو سے ہنگامہ برپا ہو گیا اور پاکستان کے علاوہ دُنیا بھر کے سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی ہے، ملالہ یوسفزئی نے مشہور فیشن میگزین ”ووگ“ کو انٹرویو دیا اور وہ اس فیشن میگزین کے سرورق کی مہمان بنیں، ملالہ یوسفزئی نے اپنے اس انٹرویو میں مغربی دُنیا کے ازدواجی طور طریقوں کی حمایت کر دی اور نکاح کے بغیر خاتون و مرد کا اکٹھے رہنا درست قرار دے دیا ہے،اسی انٹرویو میں انہوں نے دوپٹہ کو پشتون ثقافت کی پہچان قرار دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ کوئی بھی فرد اپنی ثقافت کے اندر رہ کر اپنی آواز بن سکتا ہے۔ ملالہ یوسفزئی نے کہا ”مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ لوگوں کو شادی کیوں کرنا ہوتی ہے، کسی کو ساتھ رکھنے کے لئے نکاح نامہ پر دستخط ضروری تو نہیں،مرد و عورت پارٹنر بن کر بھی رہ سکتے ہیں“۔ ملالہ یوسفزئی کا یہ انٹرویو ملک میں سنجیدگی سے لیا گیا،یہاں مجموعی طور پر مخالفت کی بجائے سوشل میڈیا پر ملالہ کے خیالات کے حامی بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ ملالہ نے شادی اور نکاح کے بغیر اکٹھے رہنے کی جو بات کی اس کا ہمارے دین اور روایات میں کوئی وجود اور جواز نہیں۔ یہ مغرب کا معاملہ ہے اور مغرب میں یہ وبا عرصہ سے جاری ہے، حتیٰ کہ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے بھی ایک سال کی رفاقت اور بچے کی پیدائش کے بعد تیسری شادی کی ہے، ملالہ یوسفزئی کے انٹرویو سے احساس ہوا کہ وہ تو مغرب کی اس ثقافت کے رنگ میں رنگی جا چکیں جو عام چلن تو ہے، لیکن پسندیدہ نہیں،ہمارے دین اور معاشرے میں گناہ ہے۔ حکومت، متعلقہ اکابرین اور دانشور حضرات کو اس کا نوٹس لینا چاہئے، ایسی بے راہ روی یہاں نہیں چل سکتی۔

مزید :

رائے -اداریہ -