اقتدار کی کشمکش، نئے راستے، نئی منزلیں!

 اقتدار کی کشمکش، نئے راستے، نئی منزلیں!
 اقتدار کی کشمکش، نئے راستے، نئی منزلیں!

  

جمعیت علماء اسلام کے امیر اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا، مولانا فرماتے ہیں کہ پیپلزپارٹی اپنے کئے پر غور کرے اور غلطی کا اعتراف کرکے واپس آ جائے، جواب میں بلاول بھٹو نے مولانا سے دریافت کیا کہ ان سے کس نے واپسی کی درخواست کی ہے، پیپلزپارٹی تو پی ڈی ایم میں نہیں آنا چاہتی، اس حوالے سے ذرا پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیر بخاری کی بات بھی سن لیں، انہوں نے تو زیریں لبوں میں مولانا کو ”قبضہ گروپ“ قرار دے دیا ہے، وہ کہتے ہیں، مولانا اینڈ کو پی ڈی ایم کے کچھ نہیں لگتے، ان کو پی ڈی ایم کا نام نہیں لینا چاہیے کہ یہ اتحاد تو  پیپلزپارٹی نے بنوایا تھا، یہ صورت حال ہماری اپوزیشن کی ہے جو برسراقتدار حکومت پر الزام لگاتی ہے کہ اس نے ملک تباہ کر دیا ہے، تاہم اس سے زیادہ مختلف صورت حال یہ بنی ہے کہ اپوزیشن پی ڈی ایم اور پارلیمانی اتحاد میں واضح طور پر تقسیم ہو گئی اور چھوٹی شریف فیملی (شہباز+حمزہ شہباز) نے احترام کو ملحوظ خاطر رکھا اور پی ڈی ایم کو اس کے حال پر چھوڑ دیا، خود اپنی توجہ پارلیمانی جدوجہد کی طرف مبذول کر لی ہے۔

قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا اور مشورہ کیا، انہوں نے اراکین قومی اسمبلی اور ساتھ ہی سینیٹ سے کہا اور ہدایت کی کہ بجٹ اجلاس کے دوران حاضری کو یقینی بنایا جائے۔ دوسری طرف پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے بھی والد کی پیروی میں کہا بجٹ اجلاس میں بھرپور جدوجہد ہو گی اور عوام دشمن بجٹ منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حمزہ شہباز نے شعوری طور پر بڑی بات کہہ دی ہے، انہوں نے کہاکوئی کسی اتحاد میں ہو یا نہ ہو، جو اپوزیشن میں ہے، وہ اپوزیشن ہے اور پیپلزپارٹی اپوزیشن کی جماعت ہے، اس حوالے سے بلاول بھٹو کافی پہلے کہہ چکے کہ پیپلزپارٹی نواز شریف اور مریم نواز کی نہیں، قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف کی بات سنے گی، بلاول بھٹو زرداری نے بھی بجٹ منظور نہ ہونے دینے کا اعلان کیا ہے۔ اب یہ امر بالکل واضح ہو گیا کہ اپوزیشن میں اختلاف اور پھوٹ ہوتے ہوئے بھی معنوی اتحاد موجود ہے۔ فرق یہ پڑا کہ اس کی دو شکلیں ہو گئی ہیں۔ ایک ایوان کے باہر والا اور دوسرا ایوان کے اندر والا اتحاد، باہر والا تو پیپلزپارٹی اور اے این پی کے بغیر بھی پی ڈی ایم کہلاتا ہے، لیکن جو ایوانوں میں اپوزیشن ہے، وہ کسی نام کے بغیر متحد اور محمد شہباز شریف قائد حزب اختلاف ہیں۔ اب تو یوسف رضا گیلانی کے قائد حزب اختلاف والا معاملہ بھی ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔ اس دوران چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے خلاف یوسف رضا گیلانی کی درخواست کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔ یہ عرض کر دیں کہ موجودہ صورت حال اور محمد شہبازشریف کے کردار سے مسلم لیگ (ن) کے منتخب اراکین کی بھاری ترین اکثریت مطمئن ہے کہ ان کو نازک فیصلے سے بچا لیا گیا کہ وہ اپنے قائد محمد نواز شریف سے جدا بھی نہیں ہونا چاہتے اور ان کے بیانیے سے اتفاق بھی نہیں رکھتے، یہ سب محمد شہباز شریف کی بصیرت کے قائل ہیں، اس لئے بجٹ اجلاس حکمران جماعت کے لئے مشکل ہوگا۔

اسی اثناء میں بلاول بھٹو زرداری نے بعض اہم باتیں بھی کیں، وہ کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم میں استعفوں کا فیصلہ نہیں ہوا تھا، یہ طے ہوا تھا کہ لانگ مارچ کے بعد آخری آپشن کے طور پر غور کیا جائے گا، وہ کہتے ہیں کہ صرف اسی یقین کے باعث استعفے لئے بھی گئے تھے، لیکن استعفوں سے انحراف کا الزام لگایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) کو اسمبلی میں آنے پر رضا مند کیا اور تجویز کیا تھا کہ ”ان ہاؤس“ تبدیلی کے عمل پر کام شروع کیا جائے، اسی لئے پیپلزپارٹی نے پہلے پنجاب میں عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لئے کہا کہ یہاں آسان ہے۔منطقی طور پر یہ بات درست ہے، اگرچہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کی نشستیں کم ہیں اور مسلم لیگ (ن) کی اتنی ہیں کہ فرق صرف ق لیگ کا رہ گیا۔ یوں بھی مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت بن سکتی تھی، ایسا مسلم لیگ (ق) کے فیصلے اور جہانگیر ترین کے جہاز کی وجہ سے ہوا۔ انہی حالات کے باعث بلاول نے یہ کہا کہ اگر ان کی بات مان لی جاتی تو اب تک صوبائی اور وفاقی حکومتیں گر چکی ہوتیں،ماضی میں منظور احمد وٹو کارڈ کا تجربہ موجود ہے، اس لئے یہاں بھی ممکن ہے، اس لئے چودھری پرویز الٰہی سے سودا کیاجا سکتا ہے، چودھری برادران زیادہ سیانے ہیں۔ انہوں نے حالات کا تجزیہ کیا اور اپنا وزن سردار عثمان بزدار کے پلڑے میں ڈالا اور مسلم لیگ (ن) کے ایک گروپ کا یہ بہانہ دھرے کا دھرا رہ گیا کہ پرویز الٰہی قبول نہیں۔

اس سلسلے میں ہم دو مثالیں دے سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ ماضی میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو گرانے کے لئے محترمہ بے نظیر بھٹو نے میاں منظور احمد وٹو کو وزیراعلیٰ مان لیاجو صرف 18ووٹ لے کر میدان میں اترے تھے اور یوں تب جونیجو لیگ حلیف بن گئی تھی، اس کے بعد جب منظور احمد وٹو کی تبدیلی کا معاملہ سامنے آیا تو پیپلزپارٹی پارلیمانی اور تنظیمی حضرات نے اپنی جماعت سے وزیراعلیٰ لینے پر زور دیا، تب مخدوم الطاف (مرحوم) کو حمایت حاصل تھی، وہ پُرامید بھی تھے اور ان کو کہہ بھی دیا گیا تھا، ہمارے ایک دوست مہربان کا کہنا ہے کہ مخدوم الطاف کو سوتے سے اٹھا کر سٹیٹ گیسٹ ہاؤس پہنچنے کے لئے کہا گیا تھا اور وہ ذہنی طور پر وزارت اعلیٰ کی تیاری کرکے نکلے تھے، لیکن چودھری حامد ناصر چٹھہ آڑے آ گئے اور بضد ہوئے کہ اگر جونیجو لیگ سے وزیراعلیٰ نہ لیا گیا تو وہ ساتھ نہیں دیں گے، چنانچہ محمد عارف نکئی کے نام قرعہ نکل آیا اور وہ وزیراعلیٰ ہو گئے، یہ سمجھوتے خود محترمہ بے نظیر بھٹو نے کئے تھے۔ مخدوم الطاف جو اس وقت سینئر وزیر اور پارٹی کے آزمودہ جیالے تھے، صدمے سے بے حال ہو گئے کہ ان کو محترمہ نے نامزد کرکے بعد اعتماد میں لئے بغیر حامد ناصر چٹھہ کے سامنے سرنڈر کر دیا، یہ صدمہ جان لیوا ثابت ہوا تھا، ہم نے کسی تبصرے کے بغیر یہ بتا دیا کہ ہم تب رپورٹنگ میں تھے اور ساری ”وارادت“ کے گواہ ہیں۔

اسی حوالے سے ایک اور واقعہ قارئین کے گوش گزار کرنا بہتر ہوگا کہ 1988ء کے انتخابی نتیجے کے بعد وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی متحارب تھیں، دونوں جگہ فرق زیادہ نہیں تھا، تب بھی منصوبہ سازوں کے فیصلے کے مطابق وفاق اور پنجاب میں الگ الگ اقتدار ضروری تھا اور کسی ایک جماعت کو دونوں حکومتیں نہیں دینا تھیں، چنانچہ جب نتائج سامنے آئے تو فیصلہ آزاد اراکین کے ہاتھ چلا گیا۔ سابق صدر مرحوم فاروق لغاری قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں سے بیک وقت کامیاب ہوئے۔ محمد نواز شریف کو بھی دونوں نشستوں پر کامیابی ہوئی تھی، تاہم ان کا فیصلہ پنجاب میں رہنے کا تھا جس کا اعلان نہ کیا تاہم ارادہ پکا تھا فاروق لغاری جنرل سیکرٹری اور محترمہ کے فاروق بھائی تھے،ان پر بھروسہ اور یقین تھا، تب ان کی رہائش ایف سی سی روڈ کی کونے والی کوٹھی میں تھی جو آج کل لگژری اپارٹمنٹس میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ہم گواہ ہیں کہ آزاد امیدواروں کا ایک موثر گروہ فاروق لغاری کے گھر ان سے ملنے آیا کہ ان کا پہلا ارادہ اور منزل پیپلزپارٹی تھی،یہ حضرات لغاری ہاؤس کے برآمدے کی کرسیوں پر بٹھائے گئے ان کو توقع تھی کہ فاروق لغاری سے ملاقات ہو گی تو پیپلزپارٹی سے معاملات طے پا جائیں گے، لیکن فاروق صاحب اندر سے باہر ہی نہ آئے۔ یہ حضرات مایوس ہو گئے اور واپس لوٹ گئے تو شریفوں نے ان سے سودا کر لیا، محمد نواز شریف دوسری بار وزیراعلیٰ بن گئے اور فاروق لغاری قومی اسمبلی کا حلف اٹھا کر وفاقی وزیر بنے کہ فیصلہ سازوں کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بننے کی اہل تھیں۔

مزید :

رائے -کالم -