کرپشن کا خاتمہ، وقت کی ضرورت

 کرپشن کا خاتمہ، وقت کی ضرورت
 کرپشن کا خاتمہ، وقت کی ضرورت

  

وزیراعظم عمران خان نے جب سے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی ہے سب سے زیادہ طاقت اور وقت وہ کرپشن کو ختم کرنے کا اعلان کرنے پر لگا رہے ہیں یہ بھی کہتے ہیں کرپٹ لوگوں کو این آر او نہیں دوں گا ان دونوں باتوں کی ملک اور عوام کو سخت ضرورت ہے، لوگوں کی خواہش ہے کہ دونوں بیماریوں کو ختم ہونا چاہئے کرپشن کے خلاف جس عزم کا اظہار کیا گیا ہے اس  کے لئے ہر سطح پر ایک عزم کے ساتھ ساتھ عملی جدوجہد کی ضرورت ہے اور اس عملی جدوجہد میں بہت سے ایسے اقدامات کی بھی ضرورت ہے، جنہیں آج تک ہر آنے والی حکومت نے پس پشت ڈالے رکھا۔ احتساب، جوابدہی، مواخذہ تین بنیادی اصول کرپشن کے خاتمے میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں میرے خیال میں اگروزیراعظم عمران خان کو پتہ چل جائے کہ فلاں بندہ حکومت کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے،

چاہے ایم پی اے، ایم این اے یا اپنا مشیر خاص جگری دوست وزیر شامل ہو تو وہ اس کو ابھی تک کسی بھی طرح ریلیف دینے پر راضی نہیں،جس قدر وزیراعظم  یا ان کے مشیر وزیر کرپشن لوٹ مار سرمائے کی نشان دہی کر رہے ہیں ان میں سرکاری وکیلوں کے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے نیب تقریباً تین سو ارب قومی خزانے میں جمع کروانے کی خبر دیتا ہے، یہ تو سرکاری بڑی بڑی مچھلیوں،سیکرٹریوں، فنانس مینجر، پٹواریوں اور پولیس کے چند ملازمین سے ریکوری ہوئی ہے تین سال سے اربوں کھربوں سرمائے کی لوٹ مار کی دہائیاں اعلانات کہاں ہیں، ان میں رکاوٹوں کو دور نہیں کیا جا سکا اس وقت نیب جیسے ایڈہاک قسم کے عدل جہانگیری کی نہیں بلکہ ایسے سیاسی اور سماجی اقدامات اور پروسیس کی ضرورت ہے کہ جس کے تحت قانون کے غیر شخصی تصور اور قواعد و ضوابط کے بارے میں ہمارا شعور بیدار ہو کر ہماری تہذیبی روایت کا حصہ بن سکے یہ تبھی ممکن ہے جب سیاسی عمل میں مصنوعی انداز میں رخنے ڈالنے کی روایت ختم ہو سکے اور عدلیہ کو مزید فعال بنا کر ہر قسم کے سیاسی دباؤ سے آزاد کر دیا جائے۔

 ان محرکات کو اگر ہم پس پشت ڈال کر کرپشن سے پاک معاشرہ کا خواب  دیکھتے ہیں تو اس کا نتیجہ وہی نکلے گا جو گزشتہ کئی عشروں سے ہمارے سامنے ہے جس کا فائدہ نہ پہلے کبھی ہوا نہ آگے چل کر ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔ میرے خیال میں کرپشن کا خاتمہ تب ممکن ہے انصاف کرنے والے میرٹ پر آئیں، رشتہ داریاں، دوستیاں نہ نبھائیں اور اپنی سابقہ تمام روایات کو ختم کر کے پھر اس کرسی پر انصاف کریں،مشکل ترین، کنویں سے گندہ پانی ضرور نکالیں لیکن کنویں کے اندر سے مرا ہوا کتا نکالنا بہت ضروری ہے تب کنویں کا پانی صاف ہو سکتا ہے۔نظام عدل کی ناکامی، جمہوری اداروں کی ناکامی کی وجہ ہو سکتی ہے پاکستان میں قدرتی وسائل  ہونے کے باوجود بھی ہم اس ترقی سے محروم رہے ہیں جو ہم نے حاصل کرنا تھی۔ حکمرانوں نے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کی بجائے غیر ملکی قرضوں پر انحصار کر کے ملک کو ترقی  دینے کی کوشش کی سیاسیات میں بہت اچھے حضرات موجود ہیں۔ ماہرین سیاست اس بات کے معترف ہیں کہ اگر جمہوری اداروں کو وسیع تر قومی مفاد کی بھینٹ چڑھانے سے اجتناب کیا جائے جو چند سیاسی لوگوں کی خواہش ہوتی ہے تو تمام تر قباحتوں کے باوجود نہ صرف اقتصادی ترقی اور ریاست و فرد کے تعلق کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے،بلکہ کرپشن کے خاتمے کے لئے بھی موثر اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔

ہمارے ذہنوں میں آج بھی یہ سوال گونج رہا ہے کہ ملکی وسائل کو لوٹنے اور کرپشن کا ذمہ دار کون ہے اور اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں بھی کئی سال گزر گئے ہیں، بجائے اس کے کہ قانون کی مضبوطی،اداروں کا استحکام، جواب دہی کے اصول کے فروغ کے ذریعے ہم کرپشن کے دروازے کو مضبوطی سے بند کرنے کے خواہشمند ہوں، ہم نے اس سوال کا حل تلاش کرنے میں اتنا عرصہ لگا دیا ہے کہ آئندہ 50 سال بھی اس سوال کے حل میں صرف ہو سکتے ہیں،ہر چند سال بعد لوگ بدل جاتے ہیں چہرے بدل جاتے ہیں لیکن ملک و قوم کی حالت نہیں بدلتی عوام بدستور محرومیت اور کمزوریوں کی طرف جاتے ہیں۔  ایک تاریخی حقیقت یہ بھی ہے کہ نیک اعمال کی تلقین یا خطبوں سے نہ تو سیاسی انتشار کو  ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کرپشن فری معاشرے کا قیام ممکن ہے، اس کے لئے عملی طور پر چند اقدامات کی ضرورت ہے جن  کے تحت قانون کی بالا دستی قائم کرنے میں مدد مل سکے اور دوسرے ایسے اقدامات جو جمہوری طرز کی طرف لے جائیں۔ کئی عشروں میں کسی ایسے ملک کی مثال نہیں دی جا سکتی۔ جو قانون کی بالا دستی اور جمہوریت کا راستہ اپنانے کے باوجود ترقی نہ کر سکا ہو جبکہ ہمیں ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ جب فرد ریاست ہو جائے تو پھر قوانین کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ جمہوریت کے ساتھ خود مختار اور فعال عدلیہ ہی فرد اور ریاست کے درمیان اعتماد بحال کر سکتی ہے جواب دہی اور مواخذے کا اصول ہی کرپشن سے نجات کا راستہ ہو سکتا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ جمہوریت محض خاص معاشرتی ماحول میں لابنگ کے ذریعے لوگوں کو ساتھ ملانے کا نام نہ ہو۔

مزید :

رائے -کالم -