پی ڈی ایم کی صفوں سے کنفیوژن ختم

پی ڈی ایم کی صفوں سے کنفیوژن ختم
پی ڈی ایم کی صفوں سے کنفیوژن ختم

  

مقتدر حلقوں کے تازہ ترین اقدامات کو محض طاقت کا اظہار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ واضح طور پر لگ رہا ہے کہ ملک کے دیگر شعبوں کی طرح حقیقی حکمران طبقے میں بھی  غصہ اور اضطراب پایا جارہا ہے۔یوں تو اس کی کئی وجوہات ہیں مگر بڑی وجہ یہی ہے کہ ہائبرڈ نظام کا تجربہ نہ صرف بری طرح سے پٹ رہا ہے بلکہ اپنے موجدین کے لئے بھی مسلسل مشکلات کھڑی کررہا ہے۔پی ڈی ایم پر آصف زرداری کے کڑے وار اور مفاہمت کے نام پر اپوزیشن کے چند بڑے ناموں کو بے وقوف بنائے جانے سے جو وقتی مفادات  حاصل ہوئے وہ ہاتھ سے پھسل رہے ہیں۔ایک بڑی امید افغانستان کے حوالے سے معمولی امریکی امداد کے اجرا کی صورت میں پیدا ہورہی ہے، مگر ساتھ یہ خدشہ بھی ہے کہ سیاسی عدم استحکام عالمی اسٹبلشمنٹ کو کسی حد تک غیر جانبدار رہنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ خوب سوچی سمجھی پالیسی کے تحت ایک بہت بڑا کیمو فلاج حکومت کے قیام سے اب تک چلایا جارہا کہ ایک پیج ایک نہیں رہا۔ اس حوالے سے اپنے ہی لوگوں  کو اپنے ہی لوگوں پر الزامات کی بارش کرنے کے لئے کہا گیا۔ کئی کہانیاں گھڑی گئیں۔ یہ نسخہ اس حد  تک کامیاب رہا کہ بڑے بڑے سیاسی لیڈر ہی نہیں تجربہ کار صحافی بھی باتوں میں آگئے۔ اب بھی یہ کہا جارہا ہے کہ نہ صرف اختلافات ہیں، بلکہ باہمی خلیج بڑھتی جارہی ہے۔ کشمیر پر مذاکرات نہ کرنے کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کے بیان کو کئی طرح کے معنی پہنائے جارہے ہیں۔

سادہ سی بات ہے کہ بھارت نے مذاکرات کرنے کے لئے درخواست ہی کب کی ہے؟ ہمیں تو عالمی میڈیا سے پتہ چلا، پھر راولپنڈی میں ہونے والی ایک بریفنگ میں بتایا گیا پاک بھارت خفیہ اداروں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ ایل او سی پر سیز فائر بھی ہو گیا، مگر بات مزید آگے نہ بڑھ سکی۔ بھارتی حکام آج بھی اپنی روائتی مکاری پر قائم ہیں۔انہی مذاکرات کے دوران بھارت کے سفارتی ذرائع کا یہ کہنا تھا کہ بات چیت ہوتی رہے گی، مگر ہمیں کسی قسم کی جلدی نہیں۔ سو مذاکرات تو پہلے ہی ٹائیں ٹائیں فش ہو چکے تھے۔ اب اگر یہ کہا جائے ہم کشمیریوں کے خون سے غداری نہیں کریں گے تو جان لیجئے اس حوالے سے فی الحال ادھر بھی کوئی امید باقی نہیں رہی۔ وزیراعظم عمران خان صرف بولتے ہی نہیں سوچتے بھی وہی ہیں،جو اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے۔ بہر حال باہمی اختلافات کا تاثر اور سیاست و صحافت میں چھوڑے گئے بعض کرداروں کے ذریعے قومی مفاہمت کا جھوٹا نعرہ بڑی دیر تک کام آیا۔ اب شاید ایسا نہیں۔ پی ڈی ایم  تازہ دم ہوکر بحال ہو چکا ہے اور اپنے اصل بیانئے کی طرف بھی لوٹ آیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا یہ اتحاد حکومت نہیں اسٹیلشمنٹ کے چند کرداروں کے خلاف بنا تھا۔ جلسوں تک میں کہا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان یا پی ٹی آئی اس معاملے میں فریق نہیں۔

اتحاد میں شامل بعض زیرک رہنماوں کو پیپلز پارٹی پر پہلے دن سے شک تھا، مگر یہ تسلی بھی تھی کہ آصف زرداری کی پارٹی کے پاس اور راستہ ہی کیا ہے؟ آصف زرداری نے مگر اپنی“ ڈیوٹی“ پوری کی۔ پہلے اپنے صاحبزادے سے بیان دلوایا کہ نام لے کر الزامات لگانے کی پالیسی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں،حالانکہ ان کے ابا جان اسی پالیسی کی بدولت جیل سے باہر آئے تھے۔ پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان میں انتخابات جیت کر حکومت بنانے کے لئے سبز باغ دکھائے گئے تو اس مشن پر زیادہ تیزی سے جھپٹ پڑی۔ جن کے کہنے پر یہ سب کچھ کیا تھا انہوں نے کام نکلتے ہی جھنڈی کرادی۔ زرداری نے پھر بھی حوصلہ نہ ہارا چھوٹی چھوٹی ضربیں لگاتے ہوئے پی ڈی ایم پر بڑا وار نہایت اوچھے انداز میں کیا۔ سربراہی اجلاس کے دوران لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے شریک سابق وزیراعظم نواز شریف پر رکیک جملے کسے اور منصوبہ بندی کے تحت شیری رحمان کے ذریعے براہ راست میڈیا کو فراہم کئے گئے۔ ان سطحی جملوں کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہ تھا یہ ریڈی میڈ مال انہیں کہاں سے ملا۔ کہا جاتا ہے کہ آصف زرداری کو خواب دکھایا گیا تھا کہ بلاول کو وزیراعظم بنایا جا سکتا ہے۔

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں باپ پارٹی کی مدد سے اپوزیشن لیڈر بنوانے تک آصف زرداری اپنے تمام کارڈ کھیل کر پی ڈی ایم سے بھی فارغ ہوگئے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق ان کی قربانیوں کا صلہ اب یہ کہہ کر دیا جا رہا ہے کہ ملک چھوڑ کر نکل جائیں۔ ریکارڈ گواہ ہے کہ“ مرد حر“ ایسے مواقع پر فرار ہونے میں دیر نہیں لگاتے، مگر انہیں خطرہ ہے کہ ایسا کرتے ہی سندھ حکومت کے خاتمے کی کارروائی بھی شروع کردی جائے گی۔ یہ خدشہ بے جا نہیں۔ کرپشن تو کبھی اسٹیبلشمنٹ کا مسئلہ نہیں رہا، مگر پیپلز پارٹی کو ایک  نااہل اور نکمی جماعت بھی تصور کیا جاتا ہے ۔ سندھ میں جی ڈی اے، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سے ارکان توڑ کر اگلی حکومت فوری نہ سہی تو عام انتخابات کے بعد بنانے کا منصوبہ تیار ہے۔ آصف زرداری اور ان کی پارٹی چاہتے ہیں کہ انہیں ایک بار پھر اپوزیشن اتحاد میں شرکت کا موقع ملے۔ پچھلے ایک ماہ سے پیپلز پارٹی کے لیڈروں نے جگہ جگہ یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ عید کے بعد ہم پھر پی ڈی ایم کا حصہ ہوں گے۔ اپوزیشن کی قیادت، مگر اس کمزوری کو بھانپ چکی ہے۔ایک معقول وقفے کے بعد پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوا تو  مولانا فضل الرحمن نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ہمارے پاس اتنا وقت ہی نہیں تھا کہ پیپلز پارٹی کی واپسی کے متعلق غور کرتے۔اس سے پہلے مولانا نے آصف زرداری کا سارا سیاسی بت یہ کہہ کر ملیا میٹ کر دیا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نابالغ ہے۔ سو اب  پی ڈی ایم میں حقیقتاً ہم خیال پارٹیاں ہی شامل رہیں گی۔ یہی چیز اس اپوزیشن اتحاد کی طاقت اور بیانیے کو بہت مضبوط بناتی ہے۔

پیپلز پارٹی اور اے این پی کو  دوبارہ شامل کرلیا جاتا تو ایک بار پھر راستہ کھوٹا ہو جانا تھا۔پی ڈی ایم کی قیادت نے ابصار عالم اور اسد طور کے گھروں میں جا کر اظہار یکجہتی کر کے کھلا پیغام دے دیا۔اس وقت یہ کوشش کی جارہی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا“ بندوبست“ کرکے اچانک الیکشن کرا دئیے جائیں۔اس وقت پاکستان کے محترم جج  نشانے پر ہیں، میڈیا کے سب سے بڑے نام میر شکیل الرحمن نے زیر عتاب آکر سال کے لگ بھگ قید کاٹ لی۔ سیاسی رہنماؤں کو رگزا لگ رہا ہے۔ سو اب کھونے کو باقی کیا ہے۔ مفاہمت ایک بے کار بات ہے۔ اگر اسی نظام میں پھر سے حکومت لینی ہے تو ن لیگ کا انجام سب کے سامنے ہے۔وزیراعظم اور ان کے خاندان کو حکومت میں ہوتے غداری کے سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے، جے آئی ٹی بنوا کر تماشہ بنایا گیا۔ ان بدترین حالات میں بھی معاشی معاملات کو بہتر بنانے، بجلی کی ریکارڈ پیداوار، امن و امان کے قیام اور ملکی تاریخ کا سب سے بڑا انفراسٹرکچر بنانے کے باوجود اقتدار سے نکال باہر کیا گیا۔ دھرنے اور دنگے اس طرح سے کرائے گئے کہ بلوائیوں کے ہاتھوں ریڈ زون فتح کرا کے وزیراعظم ہاؤس کا محاصرہ کرایا گیا۔ مریم نواز نے بالکل درست کہا ہے کہ مزاحمت کریں گے تب ہی مفاہمت کی بات ہوگی ورنہ صرف مفاہمت کی بات کرنے والوں پر تو حملہ کر دیا جاتا ہے۔

پی ڈی ایم کی بھی یہی پالیسی ہوگی ہوسکتا ہے کہ جلسوں میں پرانے ناموں کے علاوہ ایک دوسرے شعبے سے تعلق رکھنے والے کچھ نئے نام بھی لئے جائیں۔ فی الوقت یوں نظر آرہا ہے کہ پی ڈی ایم حکومت گرانے یا اسٹیبلشمنٹ سے براہِ راست ٹکرانے کے لئے تیار نہیں ہے، مگر ماضی کی طرح لچک بھی نہیں دکھائی جائے گی۔ اپوزیشن اتحاد کی کوشش ہے کہ اگلے انتخابات بروقت ہوں یا قبل از وقت اسٹیبلشمنٹ کو دھاندلی سے مکمل طور پر روکا جائے۔ پی ڈی ایم کے جلسوں سے اندازہ ہو جائے گا کہ نام لے کر سخت رویہ اختیار کرنے کی پالیسی فوری طور پر اختیار کی جاتی ہے یا دباؤ آہستہ آہستہ بڑھایا جائے گا۔ اپوزیشن جماعتوں کو سیاسی اور انتخابی میدانوں میں مساوی مواقع ملتے نظر نہ آئے تو پھر نام لے کر مستعفی ہونے کے مطالبات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ 

عدلیہ، میڈیا سمیت دیگر اداروں میں موجود اسٹیبلشمنٹ نواز عناصر کا بھی ذکر ہو گا، کیونکہ جب ایک فریق کسی قانون یا ضابطے کی پروا نہیں کرے گا تو دوسرا بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھا رہے گا۔ لڑائی میدان جنگ میں ہو یا میدان سیاست میں تذبذب کا شکار ہونے والا کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ پی ڈی ایم کی صفوں میں اب کوئی کنفیوژن باقی  نہیں رہا۔

مزید :

رائے -کالم -