بجٹ کی پٹاری 

بجٹ کی پٹاری 
بجٹ کی پٹاری 

  

جون آتا ہے تو بجٹ آنے کے ڈھول بھی بجنے لگتے ہیں اب بھی گیارہ جون کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے، جب وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ ہمارے ہاں بجٹ ہمیشہ ہی سے خوف کی علامت رہا ہے۔ دھڑکتے دل کے ساتھ بجٹ تقریر سنی جاتی ہے، اکثر تو اس تقریر کو طالب علم کی طرح سنتے ہیں جسے اپنے نتیجے کا انتظار ہوتا ہے۔ نتیجہ اچھا بھی ہو سکتا ہے اور برا بھی، پاس بھی ہو سکتا ہے اور فیل بھی۔ تاہم ہمارے ہاں بجٹ کو حکومتی حلقے ہمیشہ اچھا کہتے ہیں اور اپوزیشن والے برا، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی حکومتی رکن نے اپنے بجٹ کی مخالفت کی ہو یا اپوزیشن نے بجٹ کی تعریف فرمائی ہو۔ اس بار تو اپوزیشن علی الا اعلان کہہ رہی ہے کہ حکومت کو بجٹ پاس نہیں کرانے دیں گے۔ یہاں ہمیشہ سے یہی ہوتا ہے کہ اپوزیشن بجٹ کی مخالفت کرتی ہے، چاہے وہ کتنا ہی اچھا ہو، متبادل تجاویز پیش کرنا بڑی اہمیت رکھتا ہے لیکن اپوزیشن ایسی تجاویز پیش کرنے کی بجائے حکومتی بجٹ کو عوام دشمن، سرمایہ داروں کے مفادات میں اور ملک کی ترقی کے خلاف قرار دے کر مسترد کر دیتی ہے۔ اس مرتبہ تو پہلے ہی سے کہا جا رہا ہے کہ بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے، اس لئے لگتا ہے اس بار بجٹ اجلاس میں خاصی ہنگامہ آرائی رہے گی۔

بجٹ سال بھر کے میزانیئے کا نام ہے۔ آمدنی و اخراجات کا تخمینہ ہے، قومی ترقی کی راہ کا گوشوارہ ہے سینکڑوں مدات ہوتی ہیں، جن کے حوالے سے بجٹ ترتیب دیا جاتا ہے۔ ہر بجٹ کے موقع پر قومی اسمبلی کے ایوان میں شور شرابہ ہوتا ہے اور اس شور شرابے میں وزیر خزانہ بجٹ تقریر پڑھتے ہیں کسی کو کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی مگر تقریر جاری رہتی ہے آخر اس سارے عمل کا فائدہ کیا ہے۔ تقریر کیوں آرام سے نہیں سنی جاتی، کیا تقریر نہ سننے سے بجٹ رک جاتا ہے۔ صرف شو آف کے لئے اپوزیشن کا یہ کردار کس کے مفاد میں ہوتا ہے؟ یہ درست ہے کہ ہمارا بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہوتا ہے بجٹ میں سیاسی مقاصد بھی حاصل کئے جاتے ہیں،بجٹ تقریر کو بھی لچھے دار بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سبز باغ بھی دکھائے جاتے ہیں اور پچھلی حکومتوں کی غلط پالیسیوں پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ علمی نقطہ نگاہ سے بجٹ کا جائزہ لیں تو کہا جاتا ہے وہ کسی ملک کی راہ متعین کرتا ہے ملک نے کس سمت میں آگے بڑھنا ہے بجٹ اس کی گائیڈ لائن فراہم کرتا ہے۔ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی ترقی بھی کرنی ہے، یا صنعتی و زرعی ترقی تک ہی محدود رہنا ہے۔ معاشرے کو علمی معاشرے میں ڈھالنا ہے یا ناخواندہ رکھ کر کام چلانا ہے فلاحی معاشرے کو عملی شکل دینی ہے یا پھر استحصالی معاشرے کے طور پر ایک اور سال گزارنا ہے یہ سب چیزیں بجٹ سے آشکار ہوتی ہیں گویا بجٹ میں جتنا حکومت کا کردار ہوتا ہے اتنا ہی اپوزیشن کا بھی ہے کہ وہ قومی تقاضوں کے مطابق بجٹ تشکیل دیتے ہیں حکومت پر دباؤ بھی ڈالے اور اس کی رہنمائی بھی کرے، مگر ہماری روایت یہ نہیں رہی، ہماری اپوزیشن کی سب سے پہلی ترجیح تو یہی ہوتی ہے کہ بجٹ پاس ہی نہ ہونے دیا جائے۔ اسی پالیسی کی وجہ سے حکومت خوفزدہ ہو جاتی ہے اور بجٹ تجاویز پر سیر حاصل گفتگو کی بجائے جلد از جلد اسے منظور کرانے کی کوشش کرتی ہے، جس سے یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ بجٹ ظالمانہ ہے اور حکومت اسے زبردستی منظور کرا رہی ہے۔

موجودہ حکومت کا یہ تیسرا بجٹ ہے پہلے دو بجٹ عوام کے لئے ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے، کیونکہ ان میں عوام کو ریلیف دینے کی بجائے جی بھر کے تکلیف دی گئی۔ یہ انہی دو بجٹوں کا کیا دھرا ہے کہ اس وقت مہنگائی اور غربت عروج پر ہے۔ حکومت کا استدلال یہ ہے کہ انہیں خزانہ خالی ملا تھا اور زر مبادلہ کے ذخائر بھی نہ ہونے کے برابر تھے۔ جس کی وجہ سے بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہ دیا جا سکا 2020ء کے بجٹ میں تو پہلی بار سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن بھی نہیں بڑھائی گئی۔ ایک طرف مہنگائی کی پندرہ فیصد سے اوپر شرح اور دوسری طرف منجمد تنخواہیں اور پنشن، سرکاری ملازمین سارا سال احتجاج ہی کرتے رہ گئے مگر انہیں ملا کچھ بھی نہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ بجٹ میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں کا تعین ہو جاتا تھا۔ جس پر ڈیوٹی یا ٹیکس لگتا وہ چیز مہنگی ہو جاتی اور جسے چھوٹ ملتی وہ سستی ملتی، اب تو کئی برسوں سے یہ جھنجھٹ ہی ختم ہو گیا ہے۔ چینی، آٹا، پٹرول، بجلی، گیس اور کھانے پینے کی اشیاء سارا سال مہنگی ہوتی رہتی ہیں ان کے لئے بجٹ کا انتظار نہیں کیا جاتا اس بار تو مرغی کا گوشت بھی اس فہرست میں شامل ہو گیا ہے ایسے میں

بجٹ عوام کے لئے کیا خوشخبری لا سکتا ہے، اس بارے کچھ کہنا ممکن نہیں البتہ دعوے بہت کئے جا رہے ہیں کہ بجٹ غریبوں کے لئے امرت دھارا ثابت ہوگا۔ کیسے ثابت ہوگا، اس کا انتظار ہے، اگر حکومت سمجھتی ہے کہ ملازمین کی دس فیصد تنخواہیں بڑھا کر وہ کوئی بہت بڑا تیر مارنے جا رہی ہے تو اسے اس ردعمل کے لئے تیار رہنا چاہئے جو سرکاری ملازمین کی طرف سے آ سکتا ہے اور جنہوں نے دس فیصد اضافے کی تجویز پہلے ہی مسترد کر دی ہے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ پر حکومت نے پہلے ہی بہت سی اشیا پر سبسڈی ختم کر دی ہے، اب بجلی پر بھی ختم کی جا رہی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں لوگ غربت کی سطح یا اس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں،وہاں یک دم تمام سبسڈیز کا خاتمہ غریب طبقے پر ظلم ڈھانے سے کم نہیں، کیا اس بجٹ میں غریبوں کو اس حوالے سے کوئی ریلیف فراہم کیا جائے گا یا صرف ان کا نام لے کر بجٹ تقریر میں خوشنما باتیں ہی کی جائیں گی۔

ایف بی آر نے بہت بڑی خوشخبری سنائی ہے کہ اس بار ریکارڈ ٹیکس جمع کئے گئے ہیں،مگر یہ نہیں بتایا کہ ان ٹیکسوں میں براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کی شرح کیا رہی سارے ٹیکس اگر جنرل سیلز ٹیکس ہی سے اکٹھے ہوئے ہیں تو یہ اس بات کی گواہی ہے کہ غریبوں نے اپنی محدود آمدنی سے قومی خزانہ بھرا ہے بالواسطہ ٹیکس تو غریبوں، امیروں سے یکساں شرح کے ساتھ وصول کیا جاتا ہے۔ طبقہئ امرا تو پھر بھی بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ آگے منتقل کر دیتا ہے، ایک غریب پاکستانی تو صرف لٹتا ہے، اسے وصولی  نہیں ہوتی کیا اس بار حکومت بجٹ میں بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کر کے، بلا واسطہ ٹیکسوں کی پالیسی اپنائے گی۔ سینکڑوں ایسی مدات موجود ہیں جن کے ذریعے طبقہ امرا سے زیادہ اور براہِ راست ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے بڑے بڑے بنگلے، پر تعیش معیار زندگی اور لگژری گاڑیاں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں کیا انہیں ٹیکس نیٹ میں لا کر آمدنی نہیں بڑھائی جا سکتی۔ سب کچھ ہو سکتا ہے اگر مصمم ارادہ ہو، دیکھتے ہیں اس بار بجٹ کی پٹاری سے عوام کے لئے کیا نکلتا ہے سانپ یا دودھ دینے والی گائے۔؟

مزید :

رائے -کالم -