زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے   (1)

 زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے   (1)
 زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے   (1)

  

کورونا وائرس کا نام تو گزشتہ برس فروری ہی میں زبان زدِ خاص و عام ہو گیا تھا۔ پھر چین کے شہر ووہان سے جو وبا چلی تو سارے براعظموں میں پھیلتی چلی گئی۔ لوگ مختلف ملکوں میں ہزاروں کی تعداد میں مر رہے تھے لیکن زندہ حضرات و خواتین کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ موت اتنی ارزاں بھی ہوتی ہے…… خدا لگتی بات یہ ہے کہ میں خود ان لوگوں میں شامل تھا!

پھر اس برس مارچ میں یہ خبریں بھی میڈیا پر فلیش ہونے لگیں کہ کووڈ۔19کی یہ تیسری لہر جو برطانیہ سے پاکستان آئی پہلی دو لہروں سے بھی زیادہ کاری اور ہولناک ہے…… خدا لگتی بات یہ ہے کہ میں پھر بھی اس خبر کی صداقت کے بارے میں گومگو کے عالم میں رہا۔ 20سیکنڈز تک ہاتھ دھونا، ماسک زیبِ رخ کرنا اور سماجی فاصلہ رکھنا میرا شعار تو بن گیا لیکن اس کی معقولیت پھر بھی احاطہ ء یقین سے تقریباً باہر رہی۔ اتنے میں دوستوں کے فون آنے شروع ہوئے:

”یار، کیا تم نے ویکسین لگا لی ہے؟“……

میرا سوال یہ ہوتا تھا: ”کیا تم لگوا چکے ہو؟“……

جواب ملتا: ”ہاں میں نے دس روز پہلے لگوا لی تھی“۔

سچی بات یہ ہے کہ میں نے محض ’دیکھا دیکھی‘ ویکسین سنٹر کا رخ کیا اور اینٹی وائرس ویکسین کا انجکشن لگوا لیا۔ یہ 25مارچ کی تاریخ تھی۔28مارچ کو میرے نواسے کی شادی تھی۔ لاہور کے DHA کلب میں جا کر شادی کی اس تقریب میں شامل ہوا۔ بڑا وسیع و عریض شامیانہ تھا اور لوگ زیادہ نہیں تھے۔ سماجی فاصلوں کا خیال رکھا گیا تھا لیکن جہاں تک ماسک پہننے کا سوال ہے تو اس کی پابندی 50% سے زیادہ نہ تھی۔ میں کبھی ماسک پہن لیتا تھا اور کبھی اسے ایک تکلف سمجھ کر ایک کان میں لٹکا لیتا تھا۔ میں دولہا کی طرف سے مدعو تھا۔ دلہن کے والد ائر بلیو کے پائلٹ ہیں۔ ان سے سلیک علیک ہوئی اور بہت سے دوسرے جاننے والوں اور نہ جاننے والوں سے بھی گپ شپ کا موقع ملا…… ایسی تقریبات میں ایسا ہوتا ہی رہتا ہے۔

اگلے روز 29مارچ تھی۔ صبح بیدار ہوا تو گلے میں خراش سی محسوس ہوئی۔ شام ہوتے ہوتے اس میں اضافہ ہونے لگا۔ اگلے روز ہلکا بخار ہوا تو میں نے پینا ڈال اور آئزو میکس کیپسول منگوا کر اپنی طرف سے اینٹی کووڈ کورس شروع کر دیا۔ لیکن جب 31مارچ کی شام کو بخار زیادہ تیز ہو گیا تو CMH کا رخ کیا۔ ڈاکٹر نے کووڈ کا ٹیسٹ لکھ دیا اور ساتھ ہی سینے کی MRI بھی تجویز کی۔ CMH کی MRIمشین خراب تھی اس لئے مجھے ائر فورس ہسپتال کی مشین کی طرف بھیج دیا گیا۔ وہاں ایکس رے تو ہو گیا لیکن رزلٹ اگلے روز آنا تھا۔ بخار سے افاقہ نہ ہوا اور مجھے CMH میں Admit کر لیا گیا۔ باقی ٹیسٹ وغیرہ بھی ہوئے…… لیکن خدا لگتی بات یہ ہے کہ مجھے پھر بھی کووڈ کے Positiveہونے کا کوئی خاص خیال نہ آیا۔

اگلے روز اپریل فول تھا!…… ازراہِ اتفاق میجر جنرل ڈاکٹر کرامت حسین شاہ بخاری  ستارۂ امتیاز (ملٹری) جو میڈیکل کے شعبے کے سربراہ ہیں اور میرے بیٹے سے پرانی یاد اللہ ہے۔ انہوں نے میرے پیپرز دیکھے اور فوراً اینٹی وائرل انجکشن لگانے کو کہا۔ اس انجکشن کا نام Remdesivirہے۔ یہ مسلسل 5روز تک لگایا جاتا ہے۔ اب تو یہ نام بہت عام ہو گیا ہے لیکن ان دنوں خال خال لوگوں کو لگایا جاتا تھا۔ شائد زیادہ مہنگا تھا اور تین گھنٹے تک ڈرپ لگی رہتی تھی۔ مجھے کووڈ وارڈ کے کمرہ نمبر23 میں رکھا گیا۔ جہاں دو بیڈ لگے ہوئے تھے۔ میرا نمبر23-A تھا اور دوسرے بیڈ کا 23-B…… لیکن میں جب تک اس کمرے میں زیر علاج رہا، دوسرا بیڈ خالی رہا جس پر رات کو میرا ایک عزیز (بیٹا / داماد) لیٹ جایا کرتا تھا کہ سونے کی مہلت کہاں تھی؟

مجھ پر کووڈ کا یہ اٹیک کتنا شدید تھا اس کا علم اس وقت ہوا جب ڈاکٹر صاحب نے میرا پلازما تبدیل کرنے کا کہا۔ یہ ایک طرح کا ڈائی لائی سز ہوتا ہے اور 5،6 بار کروانا پڑتا ہے۔ اس کے لئے CMH لاہور میں باقاعدہ ایک الگ وارڈ مختص ہے۔ میں نے یہ سنا تو جنرل صاحب سے درخواست کی کہ وہ اس پراسس کو ایک روز کے لئے ملتوی کر سکیں تو عنائت ہوگی۔ مجھے اب معلوم نہیں کہ میں نے ایسا کیوں کہا، کیا خوف تھا جو پلازما تبدیل کرنے کی گھمبیرتا سے گھبراتا تھا۔ بہر کیف ڈاکٹر صاحب نے یہ کہا کہ یہ التوا آپ کی ذمہ داری پر کیا جا سکتا ہے…… خیریت گزری کہ اگلے روز ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ دوچار روز اور ٹھہر جاتے ہیں، شائد اس کی ضرورت نہ پڑے اور ساتھ یہ فقرہ بھی کہا:

Col Sahib, you are a great fighter!

آکسیجن لگی ہوئی تھی اور ساتھ مانیٹر بھی لگا ہوا تھا۔ اس میں آکسیجن لیول، دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر، مانیٹر کی ڈسپلے سکرین پر سامنے نظر آ رہا تھا۔ وینٹی لیٹر پر بھی یہی تین چیزیں ریکارڈ ہوتی رہتی ہیں۔ ہاں ایک مخصوص وِسل کی آواز بھی آتی ہے جسے میری درخواست پر بند کر دیا گیا۔

دو روز کے بعد ڈاکٹر صاحبان نے فیصلہ کیا کہ مجھے ICUمیں شفٹ کر دیا جائے۔…… میرا ماتھا ٹھنکا کہ بس اب وقت قریب آ گیا ہے…… لیکن خیریت گزری کہ کوئی بیڈ وہاں خالی نہیں تھا۔ میں نے بیٹے کو ICU بھجوایا کہ معلوم کرو ایک کمرے میں کتنے بیڈ ہیں اور واش روم کا انتظام کیا ہے۔ جو حضرات یا خواتین کووڈ کا شکار ہو کر ICU میں یا کسی الگ کمرے میں زیر علاج ہوتی ہیں ان کے لئے واش روم جانا ایک ’عذابِ عظیم‘ سے کم نہیں ہوتا۔ آکسیجن کا سیلنڈر ساتھ ہوتا ہے اور ٹیوب آپ کی ناک میں لگی ہوتی ہے۔ کموڈ پر بیٹھ کر  ذرا سا زور لگائیں تو سانس رکتی محسوس ہوتی ہے۔ مجھے دوبار ایسا محسوس ہوا کہ یہ سانس بس اب ہمیشہ کے لئے رک رہی ہے!

شاید قسمت اچھی تھی کہ اس روز ICU میں کوئی بیڈ خالی نہ تھا۔ اور جب خالی ہوا تو ڈاکٹر صاحبان نے فیصلہ کیا کہ مریض کو ICU میں شفٹ کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ میں اس Gesture کو سینئر ڈاکٹر صاحبان (ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ اور کمانڈانٹ CMH لاہور) کی نوازش بھی قرار دوں گا۔ ازراہِ اتفاق میرے دو داماد لاہور ہی میں تھے۔ دونوں بریگیڈیئر ہیں۔ بڑا داماد حال ہی میں ریٹائر ہو کر DHA میں ڈائریکٹر پراپرٹیز ہے اور دوسرا ایک آرٹلری بریگیڈ کا کمانڈر ہے۔ ان ایام میں تیسرا داماد بھی سعودی عرب سے پاکستان آیا ہوا تھا۔ وہ وہاں ریاض میں ایک سٹیل مل میں چیف انجینئر ہے اور وہاں اپنے عملے کے علاج کے سلسلے میں غیر ملکی ڈاکٹروں سے اس کی راہ و رسم رہتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اسے اے کلاس ہسپتالوں کے شب و روز کی روٹین معلوم تھی۔ میرا بیٹا (میجر سہیل) بھی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک تعمیراتی فرم کا CEO ہے اور CMH کے ڈاکٹر صاحبان سے پرانی رسم و راہ ہے۔ اور یہ بتانے میں بھی کوئی عار نہیں کہ ڈاکٹر صاحبان میں سے اکثر میرے کالموں کے قاری تھے۔ یہ بات مجھے تب معلوم ہوئی جب خود کمانڈانٹ (بریگیڈیئر) نے کہا کہ: ”ان کو تو ہم روز پڑھتے ہیں بلکہ یہ ملٹری موضوعات پر لکھنے والے واحد کالم نگار ہیں!“

یہ باتیں اگرچہ ’خود تعریفی‘ کی ذیل میں بھی شمار کی جا سکتی ہیں لیکن اس لئے عرض کر رہا ہوں کہ بعض اوقات تقدیر آپ کے ساتھ وفا کر رہی ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو بقول میر ساری تدبیریں الٹی ہو جاتی ہیں اور کوئی ’دوا‘ کارگر نہیں ہوتی۔ میر کو تو دل کی بیماری تھی لیکن یہ کووڈ سانس کی بیماری ہے اور یہ گویا دہری دھار کا خنجر ہے جو زندگی کو طوفان بنا دیتا ہے، جیسا کہ خواجہ میر درد نے کہا تھا:

آتی جاتی سانس کا عالم نہ پوچھ

جیسے دہری دھار کا خنجر چلے

…………………………

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -