کاروبار کے لئے صبح آٹھ سے مغرب کا وقت لاک کر دیا جائے!

کاروبار کے لئے صبح آٹھ سے مغرب کا وقت لاک کر دیا جائے!
کاروبار کے لئے صبح آٹھ سے مغرب کا وقت لاک کر دیا جائے!

  

پوری دُنیا سوا سال سے کورونا کی آزمائش سے گزر رہی ہے کوئی شعبہ اور کاروبار ایسا نہیں ہے جو متاثر نہ ہوا ہو، تاریخ بتاتی ہے عروج و زوال قوموں کا حصہ رہیں ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے ہمیشہ قومیں آزمائشوں سے سیکھتی ہیں اور یہ بھی مشہور ہے برے دِنوں کے بعد اچھے دن آتے ہیں، یہ حقیقت ہے امید ہی زندگی اور اچھے دِنوں کی علامت میں پاکستانی عوام کا کورونا اور  لاک ڈاؤن نے جو حال کیا اس میں طویل بحث کی جا سکتی ہے، جو مقصود نہیں ہے البتہ ایک بات طے ہے لاک ڈاؤن سے درجنوں کاروبار دیوالیہ کا شکار ہوئے اور تعلیم جیسے اہم متعدد شعبے تباہی کے آخری دہانوں پر پہنچ چکے ہیں ان کے لئے فوری  ہنگامی اور لانگ ٹرم منصوبہ بندی نہ کی گئی تو نئی نسل کا بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔

اور یہ بھی سچ ہے کہ کورونا بہت سے شعبوں کے لئے فائدہ مند بھی رہا،ان شعبوں سے تعلق رکھنے والوں نے عوام کی مشکلات سے خوب فائدہ اٹھایا۔ اہل ِ پاکستان نے جو ایک دوسرے کی خیر خواہی کرنے کی بجائے لاک ڈاؤن میں جس انداز میں مجبوری سے فائدہ اٹھایا ہے اور کھال ادھیڑی ہے اور بلیک میل کیا ہے یہ بھی کرب ناک تاریخ رقم ہو چکی ہے، فائدہ کن محکموں کو ہوا ہے اس میں پولیس سرفہرست رہی ہے اس نے شٹر ڈاؤن،سیلز پرچیز کا نیا نظام متعارف کرایا ہے، تھانوں کا بالعموم اور مخصوص اہلکاروں کا بالخصوص ایسا نیٹ ورک متعارف کرایا ہے بڑے بڑے عش عش کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ راقم نے خود دیکھا پولیس اہلکار دکانداروں کی رہنمائی کرتے اور انہیں دکان کے سامنے آٹے چینی کی بوریاں رکھنے کی تجویز دے کر جنرل سٹور قرار دیتے رہے اور یہ بھی عملاً دیکھنے کو ملا، اہلکار تھانے اور دیگر ایجنسیوں کے راؤنڈ کا وقت گاڑیوں کی آمد کا شیڈول بروقت پہنچاتے رہے۔مَیں نے گزشتہ دو کالموں میں تعلیمی اور امتحانی نظام کی تباہی اور آنے والے ممکنہ نقصان کی تفصیل لکھ چکا ہوں، ایک دوست نے توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے آپ تو زیادہ باتیں نجی تعلیمی اداروں کی لکھ رہے ہیں، جو نقصان سرکاری تعلیمی اداروں کا ہوا ہے اس کی سزا کئی سالوں تک قوم کو ملے گی۔ نجی تعلیمی ادارے تو کسی نہ کسی طرح کچھ نہ کچھ کرتے رہے، ڈوبتے اور تیرتے رہے، مگر سرکاری تعلیمی ادارے تو نہ صرف کھنڈر بن گئے، بلکہ ان کے طلبہ کے ساتھ اساتذہ کے لئے بھی فوری ریفریشر کورس کی ضرورت ہے۔

یہ ہماری علمی دوست کی توجہ بڑی بروقت ہے آج کا موضوع نہیں ہے،لیکن مختصر انداز میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا تعلیمی اداروں کی طرف سے سلیبس مکمل نہ ہونے کا اعتراف اور بچے بچیوں کے مطالبات کو جائز قرار دینا کافی نہیں ہے۔ تین یا چار اختیاری مضامین کے 11ویں، 12ویں،9ویں اور10ویں کے امتحان لینے کا ڈرامہ یقینا آن لائن کلاسز کی ریہرسل ہو گا،مگر عملاً جس نقصان کا سامنا ہے اس حوالے سے وفاقی حکومت کے نمائندہ شفقت محمود کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے، اختیاری مضامین کے جیسے تیسے امتحان لے کرپاس تو کر دیئے جائیں گے آپ بغیر امتحان کے پرموٹ کرنے کے الزام سے بری تو قرار پائیں گے، مگر عملاً پرائیویٹ سیکٹر کے نصاب کی کوئی کتاب تیار نہیں ہوئی۔ معلوم ہوا ہے پرائیویٹ پبلشرز کے ساتھ گزشتہ کئی ماہ سے جاری تنازعہ طے نہیں ہوا اس طرح ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتب کے علاوہ کسی کلاس کی کتابیں پرنٹ نہیں ہو پائیں۔ تعلیمی ادارے 7سے کھلنے کے بعد بچے بچیاں کون سی کلاسوں میں جائیں گے اور کون سی کتابیں پڑھیں گے۔ یہ بھی وزارتِ تعلیم کا بڑا سکینڈل بننے جا رہا ہے۔

بات دوسری طرف چلی گئی، اسی طرح کا دو عملی کا مظاہرہ ہمیں سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں 50 فیصد حاضری کی صورت میں دیکھنے کو ملا ہے اسی طرح ٹرانسپورٹر کو50فیصد سواریاں لے جانے کی اجازت کا ڈرامہ تھا۔ ٹرانسپورٹر، رینٹ اے کار نے جو لوٹ مار کی یہ الگ تاریخ رقم ہوئی ہے۔ بات پھر دوسری طرف چلی گئی، کورونا اور لاک ڈاؤن کی آزمائش سے اہل ِ پاکستان نے کیا سبق حاصل کیا، ذاتی طور پر تو مَیں کہوں گا کچھ نہیں سیکھا، ہم نے کورونا سے احتیاط کے لئے ماسک بھی فوج کے ڈر سے پہننا شروع کیا ہے۔ آج تک وبائی مرض سے بچنے کے لئے بھی سنجیدہ نہیں ہوئے۔

مَیں گزشتہ سال دُنیا بھر میں آنے والی وبائی مرض کورونا سے بہت پہلے اہل ِ پاکستان کی نئی نسل کی تباہی اور کاروباری افراد کی پریشانی کی وجہ تلاش کرتا رہا ہوں اس کے لئے بحیثیت مسلمان نبی ئ مہربان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہئ حسنہ پر نظر دوڑائیں،زندگی گزارنے کے لئے ایک رہنمائی میسر ہے ایک مسلمان کے روز و شب اور آج کے مسلمان کے روز و شب کا موازنہ کیا جائے تو بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ایک بھی چیز میں توازن اور برابری نظر نہیں آتی۔ اللہ کے نبی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی زندگی گزارنے کے اصول کا نتیجہ سرا سر فلاح کامیابی نظرآتا ہے اور ہمارے موجودہ دور میں ہمارے کاروبارِ زندگی پر نظر ڈالی جائے تو دوعملی دوعملی، عدم توازن فقدان نظر آتا ہے

جن کو اللہ اور اس کے رسولؐ نے زندگی کی کامیابی کا گُر سکھایا وہ اس سے کوسوں دور ہو چکے ہیں،رات بھر موبائل پر دُنیا دیکھنا اور11بجے اٹھنا، 12بجے دکان کھولنا اور رات12بجے بند کرنا فخر بن چکا ہے، حالانکہ نہ چاہتے ہوئے ہم اللہ اور اس کے رسولؐ کے فرمودات کے باغی ہو چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آ جائے تو بھولا ہوا قرار نہیں پایا، اس کے لئے حکومت کو بڑا قدم اٹھانا ہو گا۔ کورونا اور لاک ڈاؤن کی احتیاط کے لئے کاروبار کے لئے عوام کو دیئے گئے اوقات کو مستقل بنیادوں پر اپنانے کے لئے قانون پاس کرنا ہو گا، آرڈیننس کی ضرورت ہے تو لانا ہو گا صبح آٹھ سے مغرب تک کاروبارِ زندگی کا معمول بنانا ہو گا،کورونا کی آزمائش سے اچھا سبق جو ہمیں مل رہا ہے اپنی بھولی ہوئی روایات کو دوبارہ لانے، نحوست  بے برکتی ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا ہمارے پاس اچھا موقع ہے۔ یہ صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق دن کو کام رات کو آرام کی صورت میں ہو سکتا ہے۔جناب وزیراعظم مدینہ کی ریاست کی ایک روایت اب ایک سال سے لاک ڈاؤن کی صورت میں قوم کو  صبح آٹھ سے مغرب تک کاروبار کی شکل میں دے چکے ہیں۔ آپ مستقل طور پر صبح8 سے مغرب تک کاروبار کی پابندی کا قانون لا کر ریاست ِ مدینہ کی طرف پہلا قدم اٹھا سکتے ہیں۔ اس سے دُنیا بھی ملے گی اور آخرت بھی، انشاء اللہ

مزید :

رائے -کالم -