سچے عا شق رسولﷺ، محب اہل بیتؓ و صحابہ کرامؓ مولانا عبدالرحیم ؒ 

سچے عا شق رسولﷺ، محب اہل بیتؓ و صحابہ کرامؓ مولانا عبدالرحیم ؒ 

  

میرے بڑے بھائی جان محبوب العلماء و الصلحاء حضرت مولانا عبدالرحیم  ؒ کو اللہ تعالی نے بے پناہ خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا آپ ذہانت و فطانت، زہد و تقوی، حاضر جوابی کے حسین مرقع اور علم و عمل کے پیکر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو محبوبیت اور مقبولیت بھی عطاء فرمائی آپ ؒ کو اپنے والد گرامی بانی جامعہ اشرفیہ لاہور حضرت مولانا مفتی محمد حسن ؒ کی مجلس میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ملفوظات سنانے کی سعادت حاصل رہی آپ ؒکو مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ملفوظات و اقوال اور خواجہ عزیز الحسن مجذوبؒ کے اشعار ازبریاد تھے گویاکہ وہ ان کے حافظ تھے اور ان کو موقع محل کے مطابق سنانے کا بھی ملکہ حاصل تھا مجھے اپنے پیارے بھائی جان مولانا عبدالرحیم ؒ کے ساتھ قرآنِ کریم حفظ کرنے اور درسِ نظامی کی کتب پڑھنے کی سعادت اور بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی میں 2 سال تعلیمی رفاقت حاصل رہی وہاں پر بھی مولانا عبدالرحیم کو اللہ تعالیٰ نے جہاں علامہ شمس الحق افغانیؒ کی خدمت کے ساتھ ساتھ ان کی قربت حاصل کرنے کی سعادت عطا فرمائی وہاں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ملفوظات بھی مسلسل آپ ہی کو سنانے کا موقع ملا قرآنِ کریم حفظ انہوں نے میرے ساتھ پہلے قاری خدابخشؒ سے شروع کیا اور ان کی سعودی عرب روانگی کے بعد تکمیل قاری رونق علی مدظلہٗ سے ہوئی جس پر والدِگرامی حضرت مفتی محمد حسنؒ نے بے پناہ خوشی کا اہتمام کرتے ہوئے ضیافت کا اہتمام کیا درس نظامی کا آغاز بھی ہم نے اکٹھے کیا آپ ؒکے اساتذہ کرام میں مولانا رسول خانؒ، مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ،مولانا محمدعبیداللہ قاسمیؒ، مولانا عبدالرحمن اشرفی،ؒ مولانا وکیل احمدشیروانیؒ، مولانا محمد یعقوب ؒ، مولانا غلام مصطفی ؒ، مولانا محمد سرورؒاور مولانا غلام محمدؒ قابلِ ذکر ہیں۔ مولانا عبدالرحیم ؒ کو دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیبؒ، علامہ شمس الحق افغانیؒ اور دیگر نامور علماء و مشائخ سے اجازت حدیث حاصل تھی۔ جامعہ اسلامیہ بہاولپور سے واپسی کے بعد آپؒ کو جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد انارکلی لاہور میں استاذ ہونے کے ساتھ ساتھ پہلے نائب مہتمم کے منصب پر فائز ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپؒ میں حسن انتظام کی صلاحیت کوبھی کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا تھا آپؒ نے جس خوبصورت انداز میں بطور نائب مہتمم ذمہ داری کو نبھایا وہ قابل تقلید اور لائق تحسین ہے۔

  طلباء کی تعلیم و حاضری، تدریس اور مطبخ کے نظام کو بہترین اور مثالی انداز میں چلایا۔آپؒ بہترین اور کامیاب مدرس تھے طلبہ کو سمجھانے اور بات دل و دماغ میں ڈالنے کا فن اور طریقہ جانتے تھے، طلبہ کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ روزانہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ملفوظات سنانے اور ختم خواجگان کا اہتمام بھی باقاعدگی سے کرتے رہے والدِ گرامی حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کی وجہ سے جامعہ اشرفیہ لاہور میں بڑے بڑے اکابرین اور علماء و مشائخ کی آمد کا سلسلہ بھی جاری رہتا جن میں حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیبؒ، علامہ سید سلمان ندویؒ، علامہ شمس الحق افغانیؒ، شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک،مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیعؒ، شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ،مولانا بدرعالم میرٹھیؒ،مولانا شاہ عبدالغنیؒ،مولانا جلیل احمد شیروانیؒ،مولانا مسیح اللہ خانؒ، مولانا احتشام الحق تھانویؒ، مولانا سید داؤد غزنیؒ، مولانا محمد سالم قاسمیؒ اور دیگر اکابرین کا جامعہ اشرفیہ لاہور میں آمد کا سلسلہ جاری رہتا اور ان اکابرین کی خدمت کی سب سے زیادہ سعادت بھی مولانا عبدالرحیم ؒہی کو حاصل ہوتی تھی۔ 

 آپؒ مدینہ مسجد پرانی انارکلی لاہور میں جمعۃ المبارک کے اجتماع میں بطور خطیب جو وعظ فرماتے وہ ایسے خوبصورت انداز اور اسلوب میں ہوتا کہ لوگوں کے دل و ماغ میں اس پر عمل کے جذبہ کے ساتھ اترتا چلا جاتا۔ آپؒ عاشق رسولﷺ، محب اہل بیتؓ و صحابہ کرامؓ تھے۔ مجھے ان کی رفاقت میں سفر حج کی سعادت نصیب ہوئی جہاں روضہ رسولﷺ اور اہل بیت و صحابہ کرامؓ کی قبور پر حاضری میں عاشقانہ اور والہانہ انداز ناقابلِ فراموش اور ایمان افروز ہے آپؒ جہاں جاتے محبوبیت اور مقبولیت آپ کو ملتی چلی جاتی۔

  جامعہ اسلامیہ بہاولپور سے لے کر مکہ مکرمہ تک قدم بقدم مشاہدے پر میں نے ان کا مشاہدہ کیا جہاں آپ ؒ میرے نزدیک تمام بہن بھائیوں میں سب سے زیادہ ذہین و فطین اور حاضر جواب تھے وہاں جس محفل میں ہوتے ”مرکزنگاہ“اورمیر محفل ہوتے۔ والد گرامی حضرت مولانا مفتی محمدحسن ؒ کے ٹانگ کٹنے اور آپریشن کے دوران بھی علاج و معالجہ اور ان کی خدمت کی زیادہ سعادت بھی آپ کو حاصل رہی اس کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک میں جہاں مجھے تراویح میں قرآن کریم کی سعادت ہوتی وہاں بھائی مولانا عبدالرحیم ؒ بھی بڑے خوبصورت انداز اور لہجے میں قرآن کریم تراویح میں سناتے............. والد گرمی حضرت مفتی محمد حسنؒ وفات سے قبل آخری دنوں کراچی میں قیام پذیر تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا اس وقت میں اپنے دیگر بھائیوں کے ساتھ سفرحج میں تھا آخری لمحات میں بھی مولانا عبدالرحیم ؒ والد صاحب کی خدمت اور ان کی مجلس میں مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ملفوظات سنانے کے لیے موجود ہوتے حضرت مفتی محمد حسنؒ کی وصیت تھی کہ جہاں میرا انتقال ہو وہیں مجھے عام قبرستان میں دفن کیا جائے اور جنازہ میں تاخیر نہ کی جائے۔حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ یکم جون 1961ء میں کراچی میں وفات پا گئے نماز جنازہ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے خلیفہ حضرت مولانا شاہ عبد الغنی ؒنے پڑھائی اور نماز جنازہ میں مفتی محمد شفیع ؒ، مولانا احتشام الحق تھانویؒ، مولانا ڈاکٹر عبدالحی عارفیؒ سمیت دیگر نامور علمی و دینی شخصیات نے شرکت کی بعد میں مفتی محمد حسنؒ کی وصیت اور مفتی محمد شفیع ؒ، مولانا احتشام الحق تھانویؒ اور دیگر علماء کی مشاورت کے ساتھ متفقہ طور پر یہی طے پایا کہ حضرت مفتی صاحبؒ کی لاہور کے بجائے کراچی ہی میں تدفین کی جائے چنانچہ سوسائٹی کے قبرستان کراچی میں مفتی محمد حسن ؒ کی تدفین ہوئی تدفین، جنازہ اور دیگر انتظامات بڑے احسن انداز میں مولانا عبدالرحیمؒ نے ہی سرانجام دیئے اور مولانا مفتی محمد حسن ؒکی تدفین سوسائٹی قبرستان طارق روڈ کراچی میں کی گئی۔مولانا عبدالرحیم ؒ اپنے والد گرامی حضرت مفتی محمد حسنؒ کی وفات بعد شبانہ روز اشاعتِ اسلام اور دین کی خدمت میں مصروف عمل رہے اور آخر وقت میں آپ نے گردوں کے عارضہ اور دیگر بیماری کا صبر کے ساتھ سامنا کیا اور اسی بیماری کے سبب 1972ء کو لاہور میں انتقال کر گئے آپؒ نے دوبیٹے حافظ خالدحسن اور حافظ حامد حسن، دوبیٹیاں اور اہلیہ سمیت سینکڑوں شاگرد او رہزاروں عقیدت مند سوگوار چھوڑے.....آپؒ کی نماز جنازہ حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ نے پڑھائی جس میں بہت بڑی تعداد میں علماء، صلحاء سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی بعد میں آپ کو شیرشاہ قبرستان اچھرہ لاہور میں سپرد خاک کر دیئے گئے۔

؎   خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

مزید :

ایڈیشن 1 -