فیضان امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ

 فیضان امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ

  

مولانا محمدالیاس عطار قادری 

ایک چھوٹے سے بچے کے والد فوت ہو چکے تھے، اللہ پاک کا کرنا ایسا ہوا کہ بچپن ہی میں اسکی آنکھوں کی روشنی چلی گئی، ان کی نیک سیرت والدہ کو بہت دکھ ہوا، انہوں نے اپنے بچے کا علاج بھی کروایا مگر اسکی آنکھوں کی روشنی واپس نہ آ سکی، اب تو بیچاری ماں بہت پریشان ہوئی، وہ اس صدمے سے روتی رہتی اور اللہ پاک کی بارگاہ میں اپنے بچے کی آنکھوں کی روشنی واپس آ جانے کی دعائیں کرتی رہتی، اللہ پاک کی رحمت جوش میں آئی اور اس نے اپنی نیک بندی پر رحم فرمایا۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک رات سوتے میں قسمت کا ستارہ چمکا، دل کی آنکھیں کھل گئیں اور خواب میں اللہ پاک کے پیارے نبی حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: اللہ پاک نے تمہاری دعاؤں کی وجہ سے تمہارے بیٹے کو دوبارہ آنکھوں کی روشنی عطا کر دی ہے۔ صبح اٹھ کر ماں نے جب اپنے نونہال کو دیکھا تو الحمدللہ! اسکی آنکھیں روشن ہو چکی تھیں۔(مرقاۃ، 53/1)۔ یہ چھوٹا بچہ آگے چل کر بہت بڑا عالم دین و محدث بن کر دنیا میں ظاہر ہوا جنہیں لوگ ”امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ“ کے نام سے جانتے ہیں۔ اللہ رب العزت کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہوے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 13 شوال 194 ہجری بروز جمعہ ازبکستان کے شہر بخارا میں ہوئی۔ آپ کا نام محمد اور کنیت ابوعبداللہ ہے۔ (فتح الباری، 452/1)۔ آپ کے القابات میں سے یہ بھی ہیں: امیر المومنین فی الحدیث، حافظ الحدیث، ناصر الاحدیث النبویۃ، حبرالاسلام، سید الفقہاء و المحدثین، امام المسلمین اور شیخ المومنین وغیرہ۔ (سیرا علام النبلاء، 293,299/10، طبقات الشافعیہ الکبریٰ، 212/2، مقدمہ نزہۃ القاری، 106/1، الاعلام للزر کلی، 34/6) 

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے والد حضرت اسماعیل بن ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ کروڑوں مالکیوں کے امام، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد اور ولی کامل حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے صحبت یافتہ تھے۔ ان کے تقویٰ اور پرہیزگاری کا یہ عالم تھا کہ اپنے مال و دولت کو شبہات (ایسی چیزیں جن کے حلال یا حرام ہونے پر شبہ ہو ان) سے بچاتے تھے۔ انتقال کے وقت آپ نے ارشاد فرمایا: میرے پاس جس قدر مال ہے میرے علم کے مطابق اس میں ایک بھی شبہے والا درہم نہیں۔ (ارشاد الساری، 55/1)۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے والد محترم کے تقویٰ و پرہیزگاری کی کیا بات ہے، واقعی شبہ والے مال سے بچنا بہت بڑا کمال ہے مگر افسوس! آج کل شبہ والے مال سے بچنا تو دور کی بات، لوگ حرام کمانے سے باز نہیں آتے۔ یاد رکھئے حرام مال کی بڑی نحوست ہے، حرام مال نسلوں کے کردار کو تباہ و برباد کر سکتا ہے۔ اپنی اولاد کی شریعت و سنت کے مطابق پرورش کرنے کے ساتھ ساتھ حلال کمانے اور حلال کھانے کھلانے کا ضرور خیال رکھنا چاہئے ورنہ یاد رکھئے کہ مال حرام کھانے اور کھلانے کی نحوست سے قیامت کے دن سخت سزا کی صورت ہو سکتی ہے۔ 

حدیث پاک کی مبارک دنیا میں جو مقام و مرتبہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو حاصل ہوا وہ اپنی مثال آپ ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ کو لاکھوں احادیث زبانی یاد تھیں۔ آپ پر اللہ پاک اور اسکے پیارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خصوصی فضل و کرم تھا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ خواب دیکھا کہ میں اللہ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسمل کی مگس رانی کر رہا ہوں (یعنی جسم پاک پر بیٹھنے والی مکھیاں ہٹا رہا ہوں) خواب دیکھ کر آپ پریشان ہوئے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک جسم پر مکھی تو بیٹھتی نہ تھی۔ علمائے کرام نے خواب کی یہ تعبیر ارشاد فرمائی کہ آپ کو مبارک ہو، آپ احادیث میں جو خلط (یعنی گڈمڈ) ہو گیا ہے اسے پاک و صاف کریں گے۔ (مقدمہ فتح الباری، الفصل الاول، 9/1) 

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے طلب علم کے دوران بسااوقات سوکھی گھاس کھا کر بھی وقت گزارا، آپ ایک دن میں عام طور پر صرف دو یا تین بادام کھایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ بیمار ہو گئے تو طبیب نے بتایا کہ سوکھی روٹی کھا کھا کر ان کی مبارک آنتیں سوکھ چکی ہیں، اسوقت آپ نے ارشاد فرمایا کہ 40 سال سے میں خشک روٹی کھا رہا ہورں او راس عرصے میں سالن کو بالکل بھی ہاتھ نہیں لگایا۔ (تذکرہ المحدثین، ص183 بتغیر) 

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جس کتاب کو ایک نظر دیکھ لیتے تھے وہ انہیں حفظ ہو جاتی تھی۔ تحصیل علم کے ابتدائی دور میں انہیں 70ہزار احادیث زبانی یاد تھیں اور بعد میں جا کر یہ تعداد تین لاکھ تک پہنچ گئی۔ ایک مرتبہ حضرت سلیمان بن مجاہد رحمۃ اللہ علیہ حضرت محمدبن سلام رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو حضرت محمدبن سلام رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سلیمان بن مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا: اگر آپ کچھ دیر پہلے آ جاتے تو میں آپ کو وہ بچہ دکھاتا جو 70ہزار حدیثوں کا حافظ ہے۔ یہ حیرت انگیز بات سن کر حضرت سلیمان رحمۃ اللہ علیہ کے دل میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات کا شوق پیدا ہوا، چنانچہ حضرت محمدبن سلام رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ سے فارغ ہونے کے بعد حضرت سلیمان بن مجاہد رحمۃ اللہ علیہ نے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو تلاش کرنا شروع کر دیا، جب آپ سے ملاقات ہوئی تو حضرت سلیمان بن مجاہد رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: کیا 70ہزار احادیث کے حافظ آپ ہی ہیں؟ یہ سن کر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: جی ہاں، میں ہی وہ حافظ ہوں بلکہ مجھے اس سے بھی زیادہ احادیث یاد ہیں اور جن صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین سے میں حدیث روایت کرتا ہوں ان میں سے اکثر کی تاریخ پیدائش، رہائش اور تاریخ انتقال کو بھی میں جانتا ہوں۔ (ارشاد الساری، 59/1) 

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: میں نے جب بھی اپنی کتاب (صحیح بخاری) میں کوئی حدیث لکھنے کا ارادہ کیا تو اس سے پہلے غسل کیا اور دو رکعت نماز ادا کی۔ میں نے اس کتاب میں موجود حدیثوں کو 6لاکھ حدیثوں میں سے منتخب کیا، سولہ سال کے عرصے میں اس کتاب کو لکھا اور یہ کتاب میرے اور اللہ کریم کے درمیان حجت (یعنی دلیل) ہے۔ (المستطرف، 40/1)۔

یوں تو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کئی کتابیں تحریر فرمائیں لیکن جو مقبولیت و شہرت ”بخاری شریف“ کو ملی اس قدر کسی اور کتاب کو حاصل نہ ہو سکی۔ امام ابوزید مروزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں ایک مرتبہ مکہ پاک میں مقام ابراہیم اور حجراسود کے درمیان سو رہا تھا کہ خواب میں اللہ پاک کے پیارے اور آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوزید! ہماری کتاب کا درس کیوں نہیں دیتے؟ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میری جان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کتاب کون سی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: محمدبن اسماعیل (یعنی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ) کی کتاب ”بخاری شریف“۔ (بستان المحدثین، ص 274، 275 ملتقطا) 

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کاشتکار اور تاجر تھے، آپ کو والد کی وراثت میں سے بہت سا مال ملا جسے مضاربت کے طور پر دیا کرتے تھے۔ (مصابیح الجامع للدمامینی، 49/5، فتح الباری، 454/1)۔ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا: مجھے ہر ماہ 500 درہم آمدنی ہوتی تھی اور میں وہ سب کی سب علم کی طلب میں خرچ کر دیتا تھا۔ (سیر اعلام النبلاء، 309/10) 

پہلی شوال المکرم 256 ہجری (چاند رات) کو 62 سال کی عمر میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہوا۔ ایک عرصے تک آپ رحمۃ اللہ علیہ کی قبر سے مشک و عنبر سے زیادہ اچھی خوشبو آتی رہی، بار بار قبر پر مٹی ڈالی جاتی مگر لوگ خوشبو کی وجہ سے تبرک کے طور پر اٹھا لے جاتے تھے۔ (طبقات الشافعیہ الکبریٰ، 232/2، 233 مفہوما)۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مزار شریف ازبکستان کے شہر سمرقند کے قریب خرتنگ نامی علاقے میں ہے۔ 

 امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جس کتاب کو ایک نظر دیکھ لیتے وہ انہیں حفظ ہو جاتی تھی

مزید :

ایڈیشن 1 -