بھائیوں کاتشدد کرکے اراضی پر قبضہ‘ بہن کا پولیس میں شنوائی نہ ہونے کا الزام

بھائیوں کاتشدد کرکے اراضی پر قبضہ‘ بہن کا پولیس میں شنوائی نہ ہونے کا الزام

  

لاہور(کرائم رپورٹر)بھائیوں نے اپنی حقیقی بہن کی ذاتی جگہ پر قبضہ کرکے اسے خوب تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے بیس تولے کے طلائی زیورات چھین کر دھکے مار کر گھر سے نکال دیا،ملزمان بااثر ہو نے کی وجہ سے پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکاری  متاثرہ خاتون نے روز نامہ پاکستان کی وساطت سے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کی اپیل تفصیلات کے مطابق طارق سٹریٹ الممتاز روڈ سمن آباد لاہور کی رہائشی خاتون نوشیلا زاہد نے سی سی پی او لاہور کو دی جانے والی ایک تحریری درخواست میں الزام لگایا ہے کہ ان کے دو حقیقی بھائیوں محمد وسیم اور عثمان منظور نے میری ذاتی ملکیتی جگہ برائے نو مرلے جہاں پر   سکول بنا رکھا ہے پر چوکیدار کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے سکول ہذا کے تالے توڑ کر مذکورہ جگہ پر قبضہ کرلیا تقریبا پانچ لاکھ مالیت کے فرنیچر کو بھی وہاں سے غائب کر دیا گیا اگلی صبح جب میں اس واقعہ کی تحریری درخواست لے کر مطلقہ تھانہ گلشن راوی پہنچی تو وہاں پر ملزمان نے پہلے سے ہی مبینہ طور پر پولیس والوں سے ملی بھگت کر رکھی تھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی    درخواست ہذا میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ میرے والد منظور حسین کی وفات کے بعد جگہ مذکورہ میں سے پانچ مرلے کے میرے چچا مقصود احمد مالک تھے جن سے میں نے اور میرے شوہر زاہد نے 2010 میں بذریعہ مختار عام خرید کر لیا تھا  مگر میرے حقیقی بھائیوں نے زبردستی جگہ مذکورہ پر قبضہ کرکے مجھے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے بیس تو لے کے طلائی زیورات بھی چھین لیے ظالم بھائیوں کے خلاف تھانہ گلشن راوی میں متعدد بار تحریری درخواست گزاری مگر میری کوئی نہیں سنتا اسی دوران میں گزشتہ چار ماہ سے سی سی پی او لاہور کے دفتر اور گھر کے درمیان فٹبال بن کر رہ گئی ہوں۔

مجھے سی سی پی آفس کے اندر  جانے نہیں دیا جاتا۔

مزید :

علاقائی -