محکمہ سی اینڈ ڈبلیو پنجاب میں 13ارب 60کروڑ روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف 

محکمہ سی اینڈ ڈبلیو پنجاب میں 13ارب 60کروڑ روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف 

  

 لاہور (ارشد محمود گھمن )محکمہ سی اینڈ ڈبلیو پنجاب قومی خزانہ کے13ارب 60 کروڑ روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جبکہ چیف انجینئر ہائی وے نارتھ وسیم طارق کی ناک تلے 4 ایس ای،اور 19 ایگزیکٹیو انجنیئرز کی مبینہ کرپشن تبدیلی سرکار کے ویژن پر سوالیہ نشان ہے۔ ان افسران میں 4 ایس ای رائے نواز جس کے پاس گوجرانوالہ ڈویژن 1 اور ٹو سر کل کا چارج تھا جن کے ماتحت 12 ایگزیکٹیو انجنیئر ہیں، ایس ای راولپنڈی1 نوید احمد بھٹی جن کے ماتحت 4ایگزیکٹیو انجنیئر، ایس ای 2 راولپنڈی طاہر محمود انجم 3 ایگزیکٹیو انجنیئر ہیں کو ترقیاتی منصوبوں کے لئے اربوں روپے کے فنڈز جاری کئے گئے جو کہ تمام افسران نے ماتحت عملہ اور ٹھیکداروں کی مبینہ ملی بھگت سے قومی خزانہ کے اربوں روپے کی بند بانٹ کر لی۔اس ضمن میں ایوان وزیر اعلیٰ سے کرپٹ افسران کی تعیناتیوں کے سرکلر جاری کئے جانے کے انکشافات ہوئے ہیں جبکہ ان افسران کی کرپشن کے خلاف سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کیپٹن اسد بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں۔تفصیلات  کے مطابق حکومت پنجاب نے اراکین صوبائی و قومی اسمبلی کے حلقوں میں یکم جولائی 2020تا 30 جولائی 2021 کے لئے 50 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز جاری کئے جو وزیراعظم پاکستان عمران خان کے حلقہ انتخاب میانوالی سمیت دیگر حلقوں میں استعمال ہونے تھے مگر چیف انجینئر ہائی وے نارتھ نے ایوان وزیراعلیٰ سے اپنے قریب دوست کی سفارش سے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں من پسند عہدوں پر ایگزیکٹیو انجنیئر کی تعیناتی کروا لی جن میں ایس ای گوجرانوالہ رائے نواز،اور ایگزیکٹیو انجنیئرسیالکوٹ دلشاد احمد مبینہ طور پر سر فہرست ہیں۔ جن کو ایوان وزیراعلیٰ سے ایک اہم شخصیت کی حمایت حاصل ہے  جنکی مبینہ کرپشن کے چرچے حکومتی ایوانوں تک دکھائی دینے کے باوجود تمام تحقیقاتی ادارے بے بس دکھائی دیتے ہیں مذکورہ افسران نے تبدیلی سرکار کے دور حکومت میں من پسند عہدوں پر فائز ہیں۔ذرائع نے بتایا کے مذکورہ افسران کے خلاف جب تحقیقات کے لئے تحقیقاتی ادارے ان کی کرپشن کی داستان لکھنے کے لئے متحرک ہوتے ہیں تو ایوان وزیراعلیٰ سے کی جانے والی کالز تحقیقاتی اداروں کے ہاتھ پاؤں باندھ دیتی ہے۔تحقیقاتی اداروں کے ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ایسے کرپٹ افسران کی کرپشن سے لا علمی سوالیہ نشان ہے جن کی وجہ سے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کئے جانیوالے فنڈز محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے کرپٹ افسران کی نذر کر دیئے جاتے ہیں۔اس حوالے سے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ہائی وے نارتھ سیالکوٹ دلشاد ایگزیکٹیو انجنیئر کادعویٰ  ہے کہ وہ اپنے اثرورسوخ سے ایک کال پر محکمہ کے سیکرٹری کیپٹن اسد کے تبادلہ کا پروانہ تھما نے کی سکت رکھتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ان کرپٹ افسران کی کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کی تحقیقات کے لئے ایک شہری کی درخواست پر سابق چیف سیکرٹری محتسب اعلیٰ پنجاب میجر ر اعظم سلیمان نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کرکے اس میں ذمہ دران افسران کے تعین کرنے کے بعد سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایگزیکٹیو انجنیئر سیالکوٹ دلشاد احمد پر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں باعزت گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ورغلا کر شادیاں کرنے اور ان کو بعد میں مبینہ طور پراپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے الزامات بھی ہیں۔یاد رہے مذکورہ چیف انجینئر، ایس ای رائے نواز اور ایگزیکٹیو انجنیئر کی جولائی 2019 تا جون 2020 تک پہلے ہی اینٹی کرپشن میں 22 ارب روپے کی بے ضابطگیاں اور بوگس ادائیگیوں کے حوالے سے 2انکوائریاں چل رہی ہیں مگر ایوان وزیراعلی کی اہم شخصیت کی کال پرایک سال سے ردی کی ٹوکری کی زینت ہو چکی ہے۔اس حوالے سے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کیپٹن اسد کا کہنا ہے کہ کرپشن میں ملوث ذمہ دار افسران کے خلاف محکمہ قانونی کارروائی کرے گا۔

محکمہ سی اینڈ ڈبلیو 

مزید :

صفحہ آخر -