پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی بل سینیٹ سے بھی منظور 

پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی بل سینیٹ سے بھی منظور 

  

اسلام آباد(آئی این پی) سینیٹ میں قومی اسمبلی سے منظور شدہ ”پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی(ترمیمی) بل“ کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا  جبکہ”امیگریشن(ترمیمی)بل“ پیش کر دیا گیا  جسے چیئرمین سینیٹ نے مزید غور کے لئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔جمعرات کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا،  اجلاس کے دوران  وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے  قومی اسمبلی سے منظور شدہ بل”ایمیگریشن(ترمیمی)بل 2021“پیش کیا، چیئرمین سینیٹ نے مزید غور کے لئے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے قومی اسمبلی سے منظور شدہ بل  ”پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (ترمیمی) بل  2021“پیش کیا، اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی اور دیگر   اپوزیشن ارکان نے بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا تاہم چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ بل اسمبلی سے پاس ہو کر آیا  ہے، یہ آج لیپس ہو جائے گا، تین مہینے ہو گئے ہیں ، اس موقع پر اپوزیشن لیڈر بل پر رائے شماری کے لئے رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے  کہا کہ ہم بل میں ترمیم بعد میں ڈال لیں گے، اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے بل پر رائے شماری کرائی جس کے بعد بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا، وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے کہا کہ اس سے ریلوے کے سارے منصوبے مستفید ہوں گے سرمایہ کاری بڑھے گی، عوام کو اور سارے تاجروں کو مبارکباد پیش کرتا  ہوں، یہ سنگ میل ہے۔ اجلاس کے دوران  سینیٹر  کہدہ بابر نے سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں کمشنرز  اور دیگر اعلی سطح کے عہدوں سے  بلوچستان کی نمائندگی کم ہونے  سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا  جس کے جواب میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ ہم نے پالیسی میں ترمیم کی ہے،کمیشن میں دو کمشنر مارچ اور اپریل میں ریٹائرڈ ہوئے،اس بار کوشش کی جائے گی کہ چاروں صوبوں کو اس میں نمائندگی دی جائے، ہم چاروں صوبوں کو نمائندگی دیں گے۔دوسری طرف وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہاہے کہ ملکی پیسے کو سیاسی رہنماؤں سے کے نام سے پروگرام کیلئے استعمال نہیں ہوناچاہئے احساس پروگرام،کامیاب جوان پروگرام،کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرامز پر عمران خان اور  ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی تصویر موجود نہیں،بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام موجود ہے، اسے ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں،سیاسی لیڈرز کے نام پر قوم کا پیسہ خرچ کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔جمعرات کو وقفہ سوالات کے دور ان سینیٹ کا اجلاس چیئرمین محمد صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہاکہ بی آئی ایس پی کو ختم نہیں وسیع کیا گیا ہے،ملکی پیسے کو سیاسی رہنماؤں سے کے نام سے پروگرام کیلئے استعمال نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ ملکی پروگرام کا نام قائد اعظم کے نام سے ہونا چاہیے، یا علامہ اقبال کے نام سے ہونا چا ہیے،احساس پروگرام،کامیاب جوان پروگرام،کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرامز پر عمران خان اور نہ ہی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی تصویر موجود نہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم سرکاری پیسے پر اپنی تشہیر کرنے والے نہیں،جہاں کہیں ایسے اقدامات ہورہے ہوں اپوزیشن نشاندہی کرے۔ اجلاس کے دور ان قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ہماری حکومت میں آغاز ہوا تھا،بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کے پارلیمنٹ نے منظوری دی تھی،اگر کوئی حکومت اچھا کام کرے تو ہم اس کی تعریف کریں گے،لیکن کوئی حکومت دوسرے کے کام پر اپنا نام تو مت لگائے۔قائد ایوان ڈاکٹر وسیم شہزاد نے کہاکہ سیاسی جماعتوں نے سیاسی مقاصد کیلئے پروگرامز شروع کیے،موجودہ حکومت نے کوئی بھی ایسا پروگرام شروع نہیں جس میں عمران خان کا نام ہو،سیاسی جماعتوں کے راہنما سب کے لئے قابل احترام ہیں،قومی لیڈر صرف پاکستان بنانے والے ہیں،سیاسی اور قومی لیڈر میں فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بینظیر بہت بڑی لیڈر تھیں،وقت آئے گا کہ عمران خان ایک قومی لیڈر کے طور پر سامنے آئے گا،سینیٹر قرۃ العین مری نے بی آئی ایس پی سے متعلق سوال کاجواب علی محمد کی جانب سے دینے پر اعتراض اٹھا دیا اور کہاکہ جناب چیئرمین،معاون خصوصی بیٹھی ہوئی ہیں پھر بھی  علی محمد خان صاحب جواب دے رہے ہیں۔۔ چیئر مین سینٹ نے کہاکہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بطور وزیر حلف نہیں اٹھا وہ ایوان میں جواب نہیں دے سکتی،چیئرمین سینیٹ نے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کوبطور سینیٹر اظہار خیال کی اجازت دیدی۔ قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے جو بیان دیا وہ حکومتی پالیسی بیان نہیں،چونکہ وہ وزیر نہیں،یہ ان کی ذاتی رائے ہے،اس کو حکومتی پالیسی بیان نہیں سمجھا جائیگا۔ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ وہ اس پروگرام کو براہ راست ڈیل کررہی ہے،ان کا بیان حکومتی بیان ہے۔وزارت ہوا بازی نے بتایا ہے کہ  وزیر ہوا بازی غلام سرور کے پائلٹس سے متعلق بیان دینے سے 6 ماہ میں فلائٹس آپریشن متاثر ہونے کے باعث پی آئی اے کو 7.9 ارب کا نقصان ہوا۔ جمعرات کو وزارت ہوا بازی نے تحریری جواب جمع کرایا کہ وزیر ہوا بازی غلام سرور کے پائلٹس سے متعلق بیان دینے سے 6 ماہ میں فلائٹس آپریشن متاثر ہونے کے باعث پی آئی اے کو 7.9 ارب کا نقصان ہوا۔بتایاگیاکہ ئلٹ کے جعلی لائسنسوں کے حوالے سے 2020  کے بیان کے بعد پروازکی بندش کی وجہ سے ہونے والا تخمینی نقصان گزشتہ چھ ماہ کے دوران 7.9ارب ہے

بل منظور

مزید :

صفحہ آخر -