50لاکھ پاکستانی بیروز گار ہوئے، 2کروڑ خط غربت سے نیچے چلے گئے، (ن) لیگ، حکومت نے اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کی: شہباز شریف 

      50لاکھ پاکستانی بیروز گار ہوئے، 2کروڑ خط غربت سے نیچے چلے گئے، (ن) لیگ، ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کے معاشی اعدادوشمار پر بڑا سوالیہ نشان ہے، سٹیٹ بینک نے بھی اس کی تصدیق نہیں کی۔ جعلساز حکومت ہیرا پھیری کا ہنر جانتی ہے اعدادوشمار میں ہیرا پھیری کی۔شہباز شریف کا پری بجٹ سیمینار سے خطاب میں کہنا تھا کہ ماضی میں حکومت نے جو منی بجٹ بھی پیش کیے، وہ بھی سب کے سامنے ہیں۔ 3 سال میں مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ سی پیک اس وقت سست روی کا شکار ہے۔ معاشی شرح نمو منفی میں جا چکی ہے۔ حکومت کی 3 سالہ کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ حکومت اچھا کام کرتی تو تعریف کرتے۔پری بجٹ سیمینار سے خطاب میں شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہر وزیر اسمبلی میں کہتا ہے کہ سرکلر ڈیٹ کو کنٹرول کر لیا ہے۔ اگر کنٹرول کر لیا تو سرکلر ڈیٹ دگنا کیوں ہو رہا ہے؟ جب الیکشن چوری اور غیر نمائندہ حکومتیں آئیں گی تو پھرعوام کے ساتھ یہ ہوتا ہے۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ 2018ء  میں 11 روپے 72 پیسے آج بجلی کا یونٹ 19 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ حکومت کے کارنامے ہیں۔ حکومت کی بجلی کی آمدن اخراجات سے 300 ارب سے زائد ہے۔ بجلی کی قیمت میں تین سالوں میں 62 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سرکلر ڈیٹ ہے جو کسی نہ کسی دن ادا کرنا ہوگا۔ ہماری حکومت نے 1150 ارب کا سرکلرڈیٹ چھوڑا جو آج 2150 ارب ہو چکا ہے جو اگلے دو سالوں میں تین ہزار ارب تک پہنچ جائے گا۔

شہباز شریف

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں ا)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے زیراہتمام اسلام آباد میں منعقدہ پری بجٹ سیمینار میں پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیز اور کارکردگی  رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت  میں کھانے پینے کی اشیاء میں پانچ گنا اضافہ اورمعاشی نمو میں بڑے پیمانے پر کمی واقع ہوئی، 50 لاکھ پاکستانی بے روزگار،2 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے چلے گئے،(ن)لیگ کی حکومت میں پاکستان کی معیشت کا حجم 313 ارب امریکی ڈالر تھا،عمران خان نے 5.5 فیصد کمی کرتے ہوئے 296 ارب امریکی ڈالر پر پہنچا دیا،(ن)لیگ کے آخری سال جی ڈی پی کی شرح نمو 5.8 فیصد تھی، 2020 میں منفی 0.5 فیصد شرح نمو رہی، پی ٹی آئی ریونیو بڑھانے میں ناکام اور ٹیکس وصولیوں میں کاکردگی انتہائی خراب رہی،موجودہ حکومت نے قومی قرض میں 13000 ارب روپے کا اضافہ کیا،پہلے دفاع اور قرض کی ادائیگی کی رقم محفوظ ہوتی تھی،اب قومی دفاع کیلئے تقریباً تمام رقم ہی ادھار لینا پڑیگی جو ہماری سلامتی کیلئے ایک مالیاتی خطرہ ہوگا، رواں برس ایک بار پھر  بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 8 فیصد سے زیادہ ہوگا،تین سال میں پی ٹی آئی بجٹ خسارے 10000 ارب روپے سے بڑھ جائیں گے،بجلی کی قیمت میں 60 فیصدظالمانہ اضافہ کرنے کے باوجود گردشی قرض آج تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، رواں برس گردشی قرض 2800 ارب کی حد عبور کرجائے گا،مالیاتی عدم استحکام اور سپلائی میں تعطل پیدا ہوسکتا ہے،برآمدات اب بھی اس سطح پر نہیں پہنچ سکیں جہاں 2018 میں تھیں،حزب اختلاف پاکستان کے عوام پرحکومت کو مزید بوجھ لادنے نہیں دے گی،ہم حکومت کو اشرافیہ اور مافیاز کے لئے بجٹ لانے کی اجازت نہیں دیں گے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عوام کو مزید بوجھ کا شکار کرنے کیلئے نئے ٹیکس لگائے جائیں اور نہ ہی شرح میں کوئی اضافہ کیاجائے،بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیاجائے، ٹیوب ویل پر بجلی کے نرخ (ن) لیگ کے دور کے 5.35 روپے فی کلو واٹ فی گھنٹہ کی سطح پر واپس لائے جائیں،سی پیک، آبی شعبے اور موجودہ سکیموں کو مکمل کرنے کے لئے ترقیاتی اخراجات کو بڑھایا جائے،ہائیر ایجوکیشن کے لئے افراط زر میں اضافے کے تناسب سے بجٹ میں اضافہ کیا جائے،چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور زرعی شعبے کے لئے خصوصی مراعات دی جائیں،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام،احساس پروگرام کے ذریعے غریب عوام کے ریلیف کو بڑھایا جائے۔ جمعرات کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے زیراہتمام اسلام آباد میں منعقدہ پری بجٹ سیمینار میں پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیز اور کارکردگی کا مختصر جائزہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہاگیا کہ پاکستان کے عوام کو اپنے معیار زندگی میں بہت بڑی تنزلی کا سامنا کرنا پڑا ہے، 2018 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جب حکومت چھوڑی تھی تو پاکستان کی معیشت کا حجم 313 ارب امریکی ڈالر تھا،تین سال بعد عمران خان نے اس میں 5.5 فیصد کمی کرتے ہوئے 296 ارب امریکی ڈالر پر پہنچا دیا،ہماری آبادی کی رفتارتین سال میں 7.5 فیصد بڑھ چکی ہے جبکہ سالانہ اڑھائی فیصد بڑھ رہی ہے۔ یعنی پاکستانیوں کی آمدنی میں براہ راست کمی آئی ہے اور ان کی قوت خرید میں 13 فیصد کمی واقع ہوچکی ہے، ان تین سال کے دوران پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہماری شرح نمو (جی ڈی پی) ڈالرز میں کم ہوئی۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ اپنے پانچ سال کے دور حکومت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے شرح نمو (جی ڈی پی) 2.8 فیصد سے بڑھا کر 5.8 فیصد کی، افراط زر (مہنگائی) 11.8 فیصد سے 3.9 فیصد کی اور ٹیکس وصولی 1946 سے دوگنا بڑھا کر تقریبا 3900 ارب روپے کیں،تین سال میں انتہائی زیادہ مہنگائی (افراط زر) کے باوجود پی ٹی آئی کی ٹیکس وصولی جمود کا شکار رہی اور جی ڈی پی کے فیصد کے لحاظ سے اس میں کمی آئی ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور کے مقابلے میں پی ٹی آئی نے مہنگائی میں تین گنا اضافہ کیا، کھانے پینے کی اشیاء میں پانچ گنا اضافہ ہوا اور اس کے نتیجے میں معاشی نمو میں بڑے پیمانے پر کمی واقع ہوئی، تین سال بعد اگر ہم پی ٹی آئی کے متنازعہ اور ناقابل اعتبار اعدادوشمار کو قبول کرلی بھی لیں تو بھی فی کس آمدنی کے لحاظ سے روپے کی حقیقی قدر میں جی ڈی پی کم ہوا۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) حکومت کے آخری برس جی ڈی پی کی شرح نمو 5.8 فیصد تھی جو 16 سال میں بلند ترین تھی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پانچ سال کے دوران ہر سال جی ڈی پی 4 فیصد سے زائد کی شرح سے مسلسل بڑھ رہا تھا، پی ٹی آئی کے دور میں جی ڈی پی میں نمایاں اور مسلسل کمی آئی۔ 2019 میں 2.1 فیصد اور 2020 میں منفی 0.5 فیصد شرح نمو رہی جو 1952 کے بعد سب سے کم ترین سطح تھی۔ پی ٹی آئی 2021 میں شرح نمو 3.9 فیصد ہونے کا دعوی کررہی ہے لیکن اس دعوے کو غیرجانبدار معاشی ماہرین چیلنج کررہے ہیں۔ پی ٹی آئی کا یہ دعوی بالفرض مان بھی لیا جائے تو بھی تین سال میں پی ٹی آئی کے دور کی اوسط جی ڈی پی شرح نمو1.8 فیصد بنتی ہے جو آبادی میں اضافے کی رفتار کی شرح سے کم ہے۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ پی ٹی آئی حکومت کی غلط پالیسیز اور بدانتظامی سے ملک میں بے روزگاری اور غربت میں خوفناک اضافہ ہوا ہے، اس کے نتیجے میں 50 لاکھ پاکستانی بے روزگار ہوگئے جبکہ اضافی 2 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے چلے گئے۔رپورٹ میں کہاگیاکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے دورحکومت مکمل کیا تو پاکستان میں صرف 35 لاکھ بے روزگار رہ گئے تھے،اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنے پانچ سال کے دور میں روزگار کے مواقع پیدا کئے،تین سال میں پی ٹی آئی نے اضافی 50 لاکھ لوگوں کو بے روزگار کردیا،آج پاکستان میں بے روزگار افراد کی تعداد تقریبا 85 لاکھ ہے اور ملک میں بے روزگاری کی شرح تقریبا 15 فیصد ہے جو ملک کی تاریخ میں بے روزگاری کی سب سے بلند ترین شرح ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کو 2013 میں جب وفاقی حکومت کی ذمہ داری ملی تو تقریبا ساڑھے 7 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے تھے،پانچ سال کے دور حکومت میں غربت کے خاتمے کی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) 2 کروڑ لوگوں کو بدترین غربت کے شکنجے سے نکالنے میں کامیاب ہوئی،پی ٹی آئی کی غریب کْش اور غلط پالیسیز کے باعث تین سال سے بھی کم عرصے میں 2 کروڑ مزید لوگ بدترین غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔ اس طرح عمران خان نے ”غربت“ ختم کی اور اس تمام محنت پر پانی پھیر دیا جو پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنے پانچ سال کے دور میں دن رات کی تھی۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ غیرہنرمندافراد کی حقیقی آمدن گزشتہ تین سال میں 18 فیصد کم ہوچکی ہے۔ وفاقی اور صوبائی عوامی ترقیاتی (پبلک ڈویلپمنٹ) اخراجات میں جی ڈی پی کے تعلق سے تقریبا نصف یا 2.5 فیصد کمی ہوئی، جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کی نسبت سے اس کمی نے بے روزگاری کو مزید بڑھایا۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ اس پر شدید ترین مہنگائی خاص طورپر کھانے پینے کی اشیاء یا خوراک کی قیمتوں میں ایک دہائی میں سب زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا جس سے عوام پر ناقابل برداشت بوجھ پڑا اور ان کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول محال ہوگیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے اختتام کے بعد آٹے (گندم) کی قیمت 70 روپے فی کلو اور چینی کی قیمت 110 روپے کلو ہے،یہ پی ٹی آئی کی غلط پالیسیز کا براہ راست نتیجہ ہے جو مافیاز کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے اور اشیاء کی فراہمی برقرار رکھنے، اس کے مناسب انتظام میں نہ صرف ناکام رہی بلکہ اس میں بدترین اور مجرمانہ نااہلی کی مرتکب ہوئی۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ قیمتوں خاص طورپر کھانے پینے کی اشیاء میں اس ہوشربا اضافے کی بنیادی وجہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر کیا جانے والا اضافہ بھی ہے، اس کے علاوہ نوٹ چھاپنا اور پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ خسارہ ہے۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ 2018 کے آخری برس ہمارے ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیوز اتنی مقدار میں موجود تھے جس میں سے ہم صوبوں کو ان کا حصہ دینے اور قرض کی ادائیگی کے علاوہ قومی دفاع کی ضروریات پوری کرلیتے تھے اور اس کے بعد بھی کچھ رقم ہمارے پاس بچ جاتی تھی، لہذا دفاع اور قرض کی ادائیگی کی رقم محفوظ ہوتی تھی۔ تین سال کے مختصر عرصے میں اب صورتحال یہ ہے کہ فی کس آمدنی میں منفی شرح نمو، منفی کے بعد کم ترین قومی شرح نمو، انتہائی زیادہ مہنگائی، بلند ترین افراط زر کے باوجود جی ڈی پی کے فیصد کے لحاظ سے ٹیکس وصولیوں میں کمی ہوئی ہے۔ لہذا رواں برس قابل تقسیم محاصل سے صوبوں کو حصہ دینے اور قرض کی ادائیگی کے بعد دفاع سمیت کسی اور چیز پر خرچ کے لئے یا تو پیسے نہیں ہوں گے یا پھر انتہائی قلیل مقدار میں ہوں گے۔ لہذا قومی دفاع کے لئے تقریبا تمام رقم ہی ادھار لینا پڑے گی جو ہماری سلامتی کے لئے ایک مالیاتی خطرہ ہوگا۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ پی ٹی آئی ریونیو بڑھانے میں ناکام رہی اور اس نے ہماری قومی سلامتی کو ایک ایسے وقت میں خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ موجودہ دور حکومت کے محض تین سال میں جی ڈی پی کے تناسب سے حکومتی قرض 68 فیصد سے بڑھ کر تقریبا 80 فیصد ہوچکا ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر پاکستانی پر جو قرض ہمارے دور میں 7218 روپے تھا، وہ پی ٹی آئی کے دور میں انتہائی تیزی سے بڑھ کر اب 20,871 روپے ہوگیا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ ہر سال اضافی ٹیکسوں کی بھرمار کے باوجود پی ٹی آئی حکومت کی ٹیکس وصولیوں میں کاکردگی انتہائی ہولناک رہی ہے،پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 1.9 کھرب روپے سے بڑھا کر 2018 میں 3.8 کھرب روپے کر دی تھیں۔ پی ٹی آئی اپنے ابتدائی دو سال میں ایف بی آر کے ریونیوز بڑھانے میں ناکام رہی۔ 2019 اور 2020 دونوں سال کے ایف بی آر کے ریونیوز ملا کر 3.8کھرب روپے تھے، جبکہ اس کے مقابلے میں اتنے ریونیوز پاکستان مسلم لیگ (ن) کے آخری ایک سال میں جمع ہوئے تھے۔ پی ٹی آئی ٹیکس ہدف بھی پورے نہ کرسکی۔ 2021 میں 400 ارب ہدف سے کم تھا۔ اس سال افراط زر اور شرح نمو کے مقابلے میں کم ہونے کا امکان ہے،بظاہر اس معمولی اضافے کا اصل مطلب یہ ہوگا کہ حقیقی معنوں میں اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنی حکومتی مدت جب مکمل کی تھی تو دوگنا کرنے کے ساتھ ریونیوز جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس جی ڈی پی کا 13 فیصد تھے، جو کم ہوکراب10.9 فیصد پر ہیں۔ بالواسطہ (Indirect) ٹیکسوں کی انتہائی زیادہ شرح کے باعث ٹیکس ڈھانچہ اور بھی مشکل بنادیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ عمران خان کے دور میں مالیاتی خسارہ پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین (9.1 فیصد اور8.1 فیصد) ہے اور رواں برس ایک بار پھر بدقسمتی سے بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 8 فیصد سے زیادہ ہوگا۔۔ اس کے علاوہ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں نقصانات بڑھے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دورکے آخری برس یہ نقصانات 18 فیصد پر تھے جو آج 19 فیصد ہیں،پی ٹی آئی حکومت نے بار بار میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی کی، اس کے علاوہ انہوں نے زیادہ مہنگے اور کم بجلی پیدا کرنے والے کارخانے چلائے۔ گزشتہ برس نومبر اور دسمبر میں پی ٹی آئی نے بجلی بنانے کے لئے ڈیزل پلانٹ چلائے۔ مسلم لیگ (ن) دور حکومت میں تجویز کردہ سی پیک کے تحت کراچی تا پشاور(ML-1)ریلوے لائن کی تعمیر کے آغاز میں سہولت دی جائے۔ ہائیر ایجوکیشن (اعلی تعلیم) کے لئے افراط زر میں اضافے کے تناسب سے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ مطالبہ کیا گیاکہ 5 برآمدی شعبوں کو سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دیاجائے جیسا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں کیاگیا تھا،مینجمنٹ میں بہتری، ’ایس او ایز‘ میں اصلاحات، نظم ونسق چلانے پر اٹھنے والے اخراجات میں معاشی حسن تدبیروکفایت اور حکومتی قرض کے بہتر انتظام کے ذریعے اخراجات جاریہ پر قابو پایاجائے،بجلی کے شعبے میں اصلاحات منظر عام پر لائی جائیں اور ان پر عوامی بحث کرائی جائے۔ مطالبہ کیاگیاکہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (SMEs) اور زرعی شعبے کے لئے خصوصی مراعات دی جائیں جبکہ مقامی برآمدات کی حوصلہ افزائی کے لئے برآمدات کے فروغ کی حامل زیادہ وسیع مراعات دی جائیں،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام/ احساس پروگرام کے ذریعے غریب عوام کے ریلیف کو بڑھایا جائے۔ 

مسلم لیگ ن رپورٹ

مزید :

صفحہ اول -