سال 2021کی دوسری سہ ماہی میں معاشی بحالی کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں: سٹیٹ بینک

  سال 2021کی دوسری سہ ماہی میں معاشی بحالی کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں: سٹیٹ ...

  

 کراچی (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) سٹیٹ بینک سہہ ماہی رپورٹ کے مطابق سال 2021 کی دوسری سہ ماہی میں معاشی بحالی کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں، زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبے ترقی دکھا رہے ہیں۔ سٹیٹ بینک نے سال 2021 کی دوسری سہ ماہی رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق مہنگائی7 سے 9 فیصد رہنے کے اندا ز ے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیاہے کامیاب ویکسی نیشن مہم معاشی بحالی کو مزید بہتر بنائیگی، کوویڈ کی دوسری لہر میں لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں رہی۔سٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال ترسیلات زر 26.5ارب سے 27.5 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے، مالی سال 22 سے سالانہ امپورٹ 47 سے 48 ارب ڈالر ہوگی،آئندہ مالی سال سے بجٹ خسارہ جی ڈی پی تناسب سے 6.5 سے 7.5 فیصد رہیگا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کاروباری اعتماد بتدریج بہتر ہورہا ہے، آئی ایم ایف پروگرام بیرونی فنانسنگ کا اضافی مواقع پیدا کریگا،آئی ایم ایف ملکی معیشت کے ساختی مسائل ریفارم ایجنڈا کو سپورٹ کرتا ہے۔ادھرسٹیٹ بینک دوسری سہ ماہی رپورٹ کے مطابق کورونا کے روزگارپراثرات کے خصوصی سروے کے مطابق 67 لاکھ افراد کی آمدن میں کمی واقع ہوئی۔ لاک ڈاؤن کے دوران ورکرزکی تعداد 3 کروڑ50 لاکھ کی سطح پر آگئی، کورونا کی وبا سے قبل ورکرز کی تعداد 5 کروڑ 57 لاکھ تھی، معاشی سرگرمیوں کی بحالی اورآمدورفت کی آسانی کے بعد بے روزگار ورکرزکی تعداد 37 فیصد کم ہوگئی، ورکرزکی تعداد 5 کروڑ 25 لاکھ تک بحال ہوچکی۔سٹیٹ بینک کے مطابق لاک ڈاؤن میں تعمیراتی صنعت سے وابستہ روزگارمیں سب سے زیادہ 59 فیصد کمی واقع ہوئی، تعمیراتی صنعت سے وابستہ 21 فیصد ورکرزکو آمدن میں کمی کا سامنا کرنا پڑا، رواں مالی سال مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 2 سے 3 فیصد رہے گی، رواں مالی سال کی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 2.1 فیصد رکھا گیا تھا، مہنگائی کوہدف 6.5 فیصد تک محدود رکھنا مشکل ہوگیا ہے، مہنگائی کی شرح نمو7 سے 9 فیصد رہے گی۔سٹیٹ بینک کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا ایک فیصد تک رہے گا، مالیاتی خسارہ کو 7 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف رکھا گیا تھا، مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 6.5 سے 7.5 فیصد رہے گا۔اسٹیٹ بینک کے مطابق بسندھ اورپنجاب میں روزگارکی بحالی کا عمل تیز ہورہا ہے، جولائی نومبر 2021 میں روزگار کی نمو 0.9 فیصد کی سطح پر آگئی، جولائی تا نومبر 2020 میں روزگارکی نمو 0.3 فیصد تک گر گئی، مینوفیکچرنگ سیکٹر میں روزگار کی بحالی کا عمل تیز ہورہا ہے، تعمیراتی صنعت میں سرگرمیاں تیزہونے سے روزگارکی بحالی کا عمل بھی تیز ہوگیا ہے۔سٹیٹ بینک کے مطابق کپاس کی پیداوار1986 کے بعد کم ترین سطح پرآگئی، زرعی شعبے میں خریف کی اہم فصلوں نے گزشتہ برس کی نسبت بہترکارکردگی دکھائی، صنعتی نمومیں تعمیرات اورمنسلک صنعتوں، غذائی پروسیسنگ کی صنعتوں نے اہم کردارادا کیا۔

سٹیٹ بینک

مزید :

صفحہ اول -