ڈاکٹر فاچی جانتے ہیں کورونا ووہان تجربہ گاہ میں ”انجینئر“ کیا گیا: امریکی میڈیا 

  ڈاکٹر فاچی جانتے ہیں کورونا ووہان تجربہ گاہ میں ”انجینئر“ کیا گیا: ...

  

 واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی تجزیاتی رپورٹ) امریکی میڈیا رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکٹر انتھونی فاچی کو جنوری2020ء میں ہی علم تھا کہ چین سے پوری دنیا میں پھیلنے والی”کووڈ19“ کی وباء کو ووہان کی تجربہ گاہ میں ”انجینئر“ کیا گیا تھا۔ اس کے آغاز یا منبع کے بارے میں جو تھیوریاں سامنے آئی تھیں ان کے مطابق یہ چینی شہر ووہان کی مچھلی مارکیٹ میں چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوا یا اسی شہر کی تجربہ گاہ میں چمگادڑروں پر ہونے والے تجربوں کے دوران دو طرح سے انسانوں تک پہنچا۔ ایک تو یہ کہ کسی لاپرواہی کی وجہ سے چمگادڑوں میں موجودوائرس وہاں کام کرنے والے افراد میں کسی حادثے کی بناء پر داخل ہو گیا اور خطرناک تھیوری یہ ہے کہ اسے جان بوجھ کر کسی ورکر کے جسم میں داخل کیا گیا تاکہ اس طرح امریکہ یورپ وغیرہ میں چین کے مخالفین پر حیاتیاتی حملہ کیا جا سکے۔ چین میں پھیلاؤ کو علاقہ بند کر کے روک دیا جائے اور بیرونی دنیا سے زیادہ دیر تک چھپایا جائے تاکہ جب یہاں سے مسافر وہاں جائیں تو وہ اس کا صحیح سدباب نہ کر سکیں۔ عالمی ادارہ صحت کی تفتیش میں یہ بات تو سامنے آ چکی ہے کہ ناول کرونا وائرس کے چین میں ظاہر ہونے کے بعد کم از کم دو ماہ تک اسے بیرونی دنیا سے خفیہ رکھا گیاکرونا وائرس کم خطرناک صورتوں میں قبل ازیں گزشتہ دس پندرہ برسوں میں مختلف شکلوں میں وبائی صورت اختیار کرتا رہا ہے اس لئے ووہان شہر کی تجربہ گاہ میں چین نے اس پر تحقیقی کام شروع کیا تاکہ اس کے آئندہ فروغ کا سدباب کیا جا سکے۔ یہ ایبولا کی شکل میں امریکہ میں محدود وباء بن کر چند ہزار افراد کو اوبامہ کے دور میں ہلاک کر چکا تھا اس لئے ڈبلیو ایچ اوکے ساتھ امریکہ نے بھی فنڈ فراہم کیا تھا۔ جب یہ وباء مسافروں کے ذریعے امریکہ پہنچی تو اس وقت کے صدر ٹرمپ نے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کیں اور سا کی شدت کو ”پلے ڈاؤن“ کیا اور جلد چین میں اس پر ڈرامائی طور پر کنٹرول ہو گیا اور امریکہ اور یورپ میں یہ وباء زور پکڑنے لگی تو یہ تھیوری معتبر ہوتی نظر آئی کہ اس کا پھیلاؤ قدرتی طور پر نہیں ہوا بلکہ اس مصنوعی طور پر ”انجینئر“ کر کے اس میں انسانوں تک منتقل ہونے کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے جو دراصل امریکہ سمیت یورپی مخالف ممالک ہر چین کے حیاتیاتی حملے کی ایک صورت ہے۔ سابق صدر ٹرمپ اس کے امریکہ میں وبائی صورت اختیار کرنے سے اب اقتدار سے الگ ہونے تک مسلسل الزام لگا رہے ہیں کہ چین نے جان بوجھ کر اس حیاتیاتی جنگ کا آغاز کیا ہے۔”واشنگٹن پوسٹ“ اور ایک اور میڈیا ادارے نے سابق صدر ٹرمپ اور صدر بائیڈن کے کرونا وائرس کے بارے میں اعلیٰ مشیر ڈاکٹر انتھونی فاچی کی کلاسیفائیڈ ای میلز کا ریکارڈ”فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ“ کے تحت حاصل کیا ہے ان میں ان کی 31جنوری2020ء کی ایک ای میل شامل ہے جو انہوں نے پروفیسراینڈرس کے جواب میں بھیجی تھی جس میں انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ اس نئے کرونا وائرس میں کچھ ایسے خصائص پائے گئے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ان میں مصنوعی طور پر داخل کئے گئے ہیں جن کی بناء پر اس میں انسانوں تک منتقل ہونے کی صلاحیت پیدا ہوئی ہے۔ سابق صدر ٹرمپ نے ڈاکٹر فاچی کو فارغ کر کے ڈاکٹر سکاٹ اٹلس کو اپنی ٹاسک فورس کا مشیر بنایا تھا۔ انہوں نے ڈاکٹر فاچی پر الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے علم کو طویل عرصہ تک چھپا کر رکھا۔ وہ اس وقت اسے شیئر کرتے تو وائرس کو ”انجینئر“ کرنے کی تھیوری زیادہ معتبر ہو جاتی۔

امریکی میڈیا

مزید :

صفحہ اول -