اثاثہ جات کیس، خواجہ آصف کے جوڈیشل ریمانڈ میں 17جون تک توسیع

اثاثہ جات کیس، خواجہ آصف کے جوڈیشل ریمانڈ میں 17جون تک توسیع

  

لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت نے آمدنی سے زائد اثاثوں کے کیس میں گرفتار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماخواجہ محمدآصف کے جوڈیشل ریمانڈ میں 17جون تک توسیع کرتے ہوئے نیب کو ریفرنس دائر کرنے کی مہلت دے دی،احتساب عدالت کے ڈیوٹی جج شیخ سجاد احمد نے سابق وزیر دفاع خواجہ آصف کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثوں کے کیس پر سماعت کی،گزشتہ روزجیل حکام نے جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر خواجہ آصف کو عدالت پیش کیا،نیب کی جانب سے حافظ اسد اللہ اعوان نے عدالت کوبتایا کہ ملزم کے خلاف تحقیقات ابھی جاری ہیں جس کے بعد ریفرنس دائر کیا جائے گا،عدالت نے نیب کو خواجہ آصف کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی مزید مہلت دیتے ہوئے سماعت آئندہ پیشی تک ملتوی کردی،کمرہ عدالت مسلم لیگ (ن) کی ایم این اے نوشین افتخار نے خواجہ آصف سے ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی،اس موقع پر خواجہ آصف کے وکلاء نے انہیں لاہور ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت پر بریفنگ بھی دی،نیب کے تفتیشی افسر کے مطابق خواجہ آصف 1991 میں سینیٹر بنے اور اس وقت ان کے مجموعی اثاثے 51 لاکھ روپے کے تھے، 2018 تک خواجہ آصف کے اثاثے 221 ملین تک پہنچ گئے جو ملزم کی ظاہری آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے، خواجہ آصف نے متحدہ عرب امارات کی ایمیکو کمپنی کی ملازمت سے 13 کروڑ روپے وصولی کا دعوی کیا، ملزم خواجہ آصف نے متحدہ عرب اماراتی کمپنی سے بطور تنخواہ رقم وصولی کا کوئی ثبوت بھی فراہم نہیں کیا، ملزم خواجہ آصف نے طارق میر اینڈ کمپنی کے نام سے بے نامی کمپنی بنا رکھی ہے، خواجہ آصف کے ملازم طارق میر کے نام پر بنائی گئی کمپنی میں 40 کروڑ روپے کی رقم بھی جمع کروائی گئی ہے، ملزم نے بے نامی کمپنی میں جمع کروائی گئی رقم کے دستاویزی ذرائع بھی نہیں بتائے، ملزم خواجہ آصف نے اثاثوں کی نوعیت، ذرائع اور منتقلی کو دوران تفتیش ظاہر نہیں کیا، تفتیشی افسر کا مزید کہناہے کہ چئیرمین نیب کی باقاعدہ منظوری کے بعد ملزم خواجہ آصف کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے ہیں، ملزم خواجہ آصف کے خلاف آمدن سے زائداثاثوں اور منی لانڈرنگ الزامات کے تحت تحقیقات کی جارہی ہیں، سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں 29 دسمبر کو گرفتار کیا گیا ۔

خواجہ آصف 

مزید :

صفحہ آخر -