صنعتکاروں اور تاجروں کے مسائل کمرشل بینکوں کے ہیڈز حل نہیں کر سکتے 

صنعتکاروں اور تاجروں کے مسائل کمرشل بینکوں کے ہیڈز حل نہیں کر سکتے 

  

 پشاور(سٹی رپورٹر)بزنس مین فورم کے لیڈر اور یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سینئر رہنما اورسینیٹ آف پاکستان میں عوامی نیشنل پارٹی کے سابق پارلیمانی لیڈر سینیٹر الیاس احمد بلور نے خیبر پختونخوا میں کمرشل بینکوں کے ریجنل ہیڈز کو لیٹر آف کریڈٹ سمیت قرضوں اور دیگر معاملات میں اختیار نہ دینے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں کمرشل بینکوں کے ہیڈز صنعتکاروں اور تاجروں کے معمولی نوعیت کے مسائل بھی حل نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے یہاں کی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔  ایک بیان میں ملک کے ممتاز سینئر پارلیمنٹرین اور یونائیٹڈ بزنس گروپ کے لیڈر سینیٹر الیاس احمد بلور نے کہا کہ سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بنکوں کے ریجنل ہیڈز کو بااختیار بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے بزنس کمیونٹی کو ریجنل ہیڈز کے ذریعے 50 لاکھ روپے تک قرضہ کا اجراء فوری طور پر پر ممکن ہوتا تھا لیکن ریجنل ہیڈز سے اختیارات واپس لینے کے بعد لیٹرز آف کریڈیٹ کا حصول اور عمل کو پیچیدہ بنایا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے بزنس کمیونٹی کوکافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمرشل بینکوں کے معمولی نوعیت کے کام کے لئے کراچی ٗ لاہور اور کراچی سے منظوری لینا لازم قرار دیا ہے جو کہ تاجربرادری کو بروقت و جلد سہولیات کی فراہمی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ سینیٹر الیاس احمد بلور نے کہا کہ کمرشل بینکوں نے خیبر پختونخواکو ریڈ زون میں ڈالا ہے جو کہ اس صوبہ کی بزنس کمیونٹی اور عوام کے ساتھ ناانصافی اور سراسر زیادتی ہے جوکہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہاکہ بینکوں کی جانب سے لیٹرز آف کیریڈٹ ملنے کے باوجود بھی کاغذات کی جانچ پڑتال اور منظوری کے عمل کافی وقت ضائع کیا جاتا ہے۔سینیٹر الیاس احمد بلور نے کہاکہ صوبہ میں بینکوں کے ڈیپازٹ میں بہتری آنے کے باوجود اس صوبے میں لینڈنگ نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے صنعتی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنامشکل ہی ناممکن ہوچکا ہے۔ انہوں نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا کہ ریگولیٹری اتھارٹی ہونے کے ناطے کمرشل بینکوں کو ہدایات جاری کریں کہ وہ اپنے ریجنل ہیڈز کو بااختیار بنائیں تاکہ ملک بھر بالخصوص خیبر پختونخوا میں صنعتی ترقی اورملکی معیشت میں استحکام لایا جائے اور بزنس کمیونٹی کو فوری و جلد سہولیات کی فراہمی کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے بصورت دیگر بینکوں کے ریجنل ہیڈز بے اختیار رکھنے سے بزنس کمیونٹی کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا اور ملکی معیشت اور صنعتی ترقی کا عمل بھی متاثر ہوگا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -