پیف سکولوں میں سخت داخلہ پالیسی،والدین پریشان

پیف سکولوں میں سخت داخلہ پالیسی،والدین پریشان

  

کوٹ ادو(تحصیل رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے آنے کے بعدپیف کی طرف سے داخلہ پالیسی انتہائی سخت کی گئی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف والدین (بقیہ نمبر14صفحہ6پر)

پریشان ہیں بلکہ سکولوں کے مالکان بھی اذیت میں مبتلا ہیں، بچوں کی ویری فکیشن کے لیے ب فارم ویریفکیشن کرنے میں 4 ماہ لگ جاتے ہیں جب کہ جتنے بچوں کی ویریفیکیشن نہیں ہوگی حکومت اس  بچے کی سکولوں کو رقم بھی ادا نہیں کرے گی،اس حوالے سے پیف کے ادارہ شانزے پبلک سیکنڈری سکول کے پر نسپل امجد خان گرمانی نے کہا جب سے یہ نئی حکومت آئی ہے پیف پارٹنرز کے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے،پیف طرف سے داخلہ پالیسی ایک ہی بچہ جب گورنمنٹ سکول میں داخلہ لے تو کوئی شرط نہیں اور اگر پیف سکول میں داخلہ لے تو ب فارم کے ساتھ خاندان بھر کی معلومات دے جو کہ انتہائی اذیت ناک مرحلہ ہے،انہوں نے کہا کہ کئی کئی ماہ تک انہیں قسطیں ادا نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے وہ بجلی کے بل اور بلڈنگ کے کرائے ادا نہیں کر پاتے،مالکان کی طرف سے عمار تیں خا لی کر نے کے نوٹس بھی جا ری کر دئے جاتے ہیں،بروقت تنخواہیں نہ ملنے سے میل فی میل سٹاف کے گھروں میں فا قے شروع ہو جاتے ہیں اور ان کے بے روز گار ہو نے کا بھی خد شہ بڑھ گیا ہے،پیف کے سکو لوں میں لا کھوں غریب طلباء معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن کا مستقبل بھی داو پر لگ گیا ہے، سکول ما لکان عمار توں کے کرا یہ،سٹاف کی تنخوا ہوں اور دیگر اخرا جا ت کی وجہ سے بھاری قر ضوں کے بو جھ تلے دب گئے ہیں اور معا شی بد حا لی کا شکار ہیں،انہوں نے کہا کہ 2015کے بعد آج تک پیف ا دارہ نے بچوں کی فیس کے پیسے نہیں پڑھائے، 2015 میں جیسے پرائمری بچے کے 550 روپے مڈل کے بچے کی 600 روپے اور سکینڈری کے بچے کے11سو روپے تھے آج تک وہیں چلے آرہے ہیں،انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی کہ پیف کے اداروں کو دی جانے والی رقم سیلری بجٹ میں ڈالی جائے تاکہ ہر ماہ ان کے اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر ہو سکے،مہنگائی کے تناسب سے فی بچہ رقم بھی بڑھائی جائے اورداخلوں کی بندش پر فوری نوٹس لیکر پنجاب کی غریب عوام پر مفت معیاری تعلیم کے بند دروازے کھولے جائیں  تاکہ غریبوں کے بچے معیاری تعلیم حاصل کرسکیں۔

پریشان

مزید :

ملتان صفحہ آخر -