کورونا سے بچاؤ کی ویکسینیشن بڑے پیمانے پر شروع کر دی: تیمور سلیم جھگڑا

      کورونا سے بچاؤ کی ویکسینیشن بڑے پیمانے پر شروع کر دی: تیمور سلیم جھگڑا

  

 پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا میں شہریوں کو کورونا وباء  سے محفوظ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر ویکسنیش شروع کر رہے ہیں۔ ویکسینیشن سینٹرز کی تعداد 270 سے بڑھا کر 1 ہزار اور یومیہ ایک لاکھ تک شہریوں کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین دی جائے گی۔ ابھی 30 ہزار سے زائد افراد کی روزانہ ویکسنیش ہو رہی ہے۔ ویکسین کی سپلائی کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔ عوام ویکسن کے حوالے سے افواہوں پر یقین نہ کریں۔ ویکسن کے کوئی سنجیدہ نوعیت کے سائیڈ ایفیکٹس نہیں۔ ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا اور وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران خان بنگش نے صوبے میں کورونا سے بچاؤ کی ویکسینیشن سے متعلق سول سیکرٹریٹ پشاور میں ایک میڈیا بریفنگ میں کیا۔ اس موقع پر تیمور جھگڑا کا کہنا تھا کہ صوبے میں بنیادی مراکز صحت اور آر ایچ سیز سمیت تمام ہسپتالوں میں ویکسنیش سینٹرز بنائے جا رہے ہیں۔ جس سے ان کی تعداد 270 سے بڑھ کر 1 ہزار ہو جائے گی۔ کورونا ویکسین کی سپلائی کا بھی کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ وفاق سے خیبرپختونخوا سمیت تمام صوبوں کو ویکسین کی کھیپ تواتر کے ساتھ مل رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت روزانہ 30 ہزار سے زائد شہریوں کو ویکسین لگائی جا رہی ہے جبکہ آئندہ 2 سے 3 ماہ میں روزانہ 1 لاکھ سے زائد شہریوں کو ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 70 فیصد آبادی کی ویکسینیشن کے بعد کورونا پابندیاں کم یا ختم ہو سکیں گی۔ برطانیہ میں بڑے پیمانے پر کورونا ویکسینیشن کے بعد کوئی موت ریکارڈ نہیں ہوئی جبکہ وہاں ہیلتھ ورکرز میں نئے کورونا کیسز بھی نہیں ریکارڈ ہو رہے۔ تیمور جھگڑا نے کہا کہ یہ ہمارے پاس سنہری موقع ہے کہ ہم کورونا وباء کو مستقل بنیادوں پر شکست دیں اس کے لیے میڈیا سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو آگے آنا ہوگا اور عوام میں ویکسین سے متعلق آگہی پیدا کرنی ہوگی۔ صوبے میں کورونا ویکسنیش کے آغاز کے بعد نئے کیسز کی شرح میں کمی آئی ہے۔ 25 اپریل کو ہمارے ہسپتالوں میں 90 فیصد بستر زیر استعمال تھے جبکہ اب صرف 30 فیصد زیر استعمال ہیں اور 8 سو کے قریب مریض ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ اس وباء کے دوران ہماری معیشت کو باقی دنیا کے مقابلے میں کم نقصان اٹھانا پڑا تاہم چھوٹے کاروبار اور روزانہ اجرت حاصل کرنے والا طبقہ شدید متاثر ہوا۔ اس تمام تر صورتحال سے نکلنے کے لیے ہمیں خود، اپنے خاندان، عزیز و اقارب اور دوستوں کو ویکسنیش کے لیے راغب کرنا ہوگا۔ میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران خان بنگش کا کہنا تھا کہ عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ہر شہری کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لے۔ شہری کورونا ویکسین سے متعلق افواہوں پر یقین نہ کریں۔ اس کے سنجیدہ نوعیت کے سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں۔ تمام طرح کی ویکسینز عالمی ادارہ صحت اور ملکی اداروں سے اجازت کے بعد لگائی جاتی ہیں۔ کامران بنگش نے کہا کہ میڈیا ویکسین کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں کردار ادا کرے۔ وباء  کے صوبے سے مکمل خاتمے کے لیے سب کا ویکسنیش کرانا لازمی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے وزیراعلیٰ محمود خان کی زیر قیادت عوام کو اس وباء  سے محفوظ رکھنے کے لیے بہتر اقدامات اٹھائے ہیں اور آئندہ بھی اٹھائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام نے کورونا وباء  کی پہلی دوسری اور تیسری وباء  کے دوران صوبائی حکومت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ 

پشاور(سٹاف رپورٹر)محکمہ بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا کی اگلے مالی سال کی ضروریات کا جائزہ لینے اور مالی نظم و ضبط یقینی بنانے کیلئے لوکل گورنمنٹ سیکرٹریٹ پشاور میں غیر معمولی اجلاس کا انعقاد ہوا صوبائی وزیر بلدیات اکبر ایوب خان نے اجلاس کی صدارت کی جبکہ صوبائی وزیر خزانہ و صحت تیمور خان جھگڑا نے اجلاس میں خصوصی طور پر شرکت کی اجلاس میں سیکرٹری بلدیات، ڈائریکٹر جنرل بلدیات،  سیکرٹری انتخابات و حدبندی، سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ، چیف ایگزیکٹیو ڈبلیو ایس ایس پی و دیگر ادارہ جاتی سربراہان کے علاؤہ محکمہ خزانہ کے اعلٰی حکام نے شرکت کی اجلاس میں تمام بلدیاتی و میونسپل اداروں کے سربراہان نے محکمہ خزانہ کو اپنی اپنی کارکردگی رپورٹ کے علاؤہ مالی ضروریات سے آگاہ کیا اس موقع پر مختلف تجاویز و سفارشات پر تفصیلی غور و خوض کے بعد حکومتی کارکردگی اور مالی امور میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کیے علاؤہ بلدیاتی اداروں کی مالی ضروریات اور مالی کارکردگی کی بہتری کیلئے بعض لینڈ مارک فیصلے بھی کئے گئے اجلاس میں بلدیاتی انتخابات کیلئے ایک ارب روپے کی گرانٹ مختص کرنے پر اتفاق کیا گیا جو الیکشن کمیشن کی جانب سے اس مقصد کیلئے مختص فنڈز کے علاؤہ ہوں گے اس طرح صوبے بھر میں صفائی و حفظان صحت کیلئے خطیر فنڈز مختص کرنے جبکہ کرپشن اور وسائل کے ضیاع کی روک تھام اور شفافیت یقینی بنانے کیلئے سخت ترین اقدامات کا فیصلہ بھی کیا گیا جن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال بھی شاملِ ہے اس کے ساتھ ساتھ تمام شہروں اور دیہات میں یقینی صفائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کیلئے درکار جدید مشینری کی خریداری کی غرض سے دو ارب روپے جبکہ مالی طور پر کمزور ٹی ایم ایز کیلئے ایک ارب روپے کی گرانٹ فراہمی پر بھی اتفاق کیا گیا اجلاس میں پشاور کی چھ نئی قائم شدہ تحصیلوں کیلئے دو دو کروڑ روپے اور ڈبلیو ایس ایس پی پشاور کیلئے چالیس کروڑ روپے خصوصی گرانٹ منظوری پر بھی اتفاق رائے ہوا جبکہ بلدیاتی عملہ کے تمام آپ گریڈیشن کیس نمٹانے کے علاؤہ صوبے بھر میں درکار مزید عملہ صفائی کی بھرتی کیلئے آپریشنل گرانٹ کی بھی منظوری پر اتفاق کیا گیا اسی طرح شہری ترقی کا عمل مربوط بنانے کیلئے اربن ڈویلپمنٹ بورڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا جس کیلئے صوبائی بجٹ میں حسب ضرورت فنڈز مختص کرنے پر بھی اتفاق ہوا وزیر بلدیات اکبر ایوب خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ صوبے میں 95 فیصد مسائل کا براہ راست تعلق صفائی اور ماحولیاتی آلودگی سے ہے جن کے ازالے کیلئے بھرپور اقدامات کا منظم پلان بنایا گیا ہے انہوں نے بلدیاتی معاملات میں خصوصی دلچسپی لینے پر وزیراعلی محمود خان اور وزیر خزانہ تیمور جھگڑا کے ساتھ ساتھ وزیراعظم پاکستان عمران خان کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ ان اقدامات کی بدولت شہری و دیہی ترقی کا عمل انتہائی تیز رفتاری سے آگے بڑھے گا اور عوام اپنے اطراف میں انقلابی تبدیلیاں محسوس کریں گے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا نے بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ وزیراعلی محمود خان کی واضح ہدایات کی روشنی میں صوبائی حکومت محدود وسائل کے باوجود ٹی ایم ایز کو مستحکم بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی نیز بلدیاتی انتخابات کے کامیابی سے انعقاد میں الیکشن کمیشن سے پورا تعاون کرے گی انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار پی ٹی آئی حکومت نے وفاقی اور صوبائی سطح پر معاشی استحکام کے اہداف حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کے فوری اور خودکار طریقے سے حل کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اور انقلابی اقدامات شروع کر دیئے ہیں جو عنقریب کامیابی سے دوچار ہوں گے اور اسکی بدولت عوام کا معیار زندگی زیادہ بہتر ہوگا وزیر بلدیات نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پشاور کی چھ نئی تحصیلوں کیلئے گرانٹ کو تحصیل کی بجائے مخصوص تعاد کے یو سی اور وی سی میں تقسیم کیا جائے تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کے تقاضے پورے ہوں اور تمام علاقے یکساں طور پر قومی ترقی کے دھارے میں شامل ہوں۔

مزید :

صفحہ اول -