الیکٹرانک ووٹنگ اور بیرون ملک پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کے آرڈیننس کیخلاف کیس میں  فریقین کو نوٹس جاری

الیکٹرانک ووٹنگ اور بیرون ملک پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کے آرڈیننس ...
الیکٹرانک ووٹنگ اور بیرون ملک پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کے آرڈیننس کیخلاف کیس میں  فریقین کو نوٹس جاری

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکٹرانک ووٹنگ اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کے آرڈیننس کے خلاف کیس میں فریقین سے جواب طلب کرلیا۔

جسٹس عامر فاروق نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وفاق ، الیکشن کمیشن اور وزارت قانون سے بھی جواب طلب کرلیا جبکہ اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی نوٹس جاری کردیا ، عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان سے کہا کہ اہم قانونی معاملے پر عدالت کی معاون کریں ۔

دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا کی الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست کی سماعت 14 جون تک ملتوی کر دی  ، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ فیصل واوڈا پر جعلی حلف نامہ جمع کرانے کا الزام ہے ۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا درخواست ہم سن بھی سکتے ہیں یا نہیں ، ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو کیسے کالعدم قرر دے سکتے ہیں ۔ 

عدالت نے فیصل واوڈا کے وکیل سے کہا کہ اگر آپ کو ہائیکورٹ کے فیصلے سے اختلاف تھا تو اپیل دائر کرتے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ یہ درخواست عدالت کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے ، آپ نظر ثانی درخواست وہیں دائر کرتے ، یہ عدالت اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو بائی پاس نہیں کر سکتی ،آپ کو بار بار سمجھا رہے ہیں ۔ آپ سپریم کورٹ جائیں یا اسلام آباد میں نظر ثانی دائر کریں ، پرویز مشرف کیس کی مثال موجود ہے ، یہ عدالتی حدود کا معاملہ ہے ، دو ہائی کورٹس الگ الگ نہیں جا سکتیں۔ 

فیصل واوڈا کے وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کا وقت گزر گیا ہے جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آپ ہم سے کیوں فیصلہ کرانا چاہتے ہیں ، آپ تیاری کر کے آئیں کہ درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں ۔

فیصل واوڈا  کے وکیل نے درخواست کی کہ کم از کم حکم امتناعی جاری کر دیں، الیکشن کمیشن کو روک دیں۔ جس پر جسٹس امجد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اب تو چھٹیاں ہو رہی ہیں ،کیس اگست میں سنیں گے ،فی الحال حکم امتناعی جاری نہیں کر سکتے ۔

عدالت نے کیس کی سماعت 14 جون تک ملتوی کر دی ۔

مزید :

قومی -