ایک ارب نوری سال سے زائد فاصلے پر انتہائی شدید نوعیت کا دھماکہ،مناظر کیمرے میں محفوظ 

ایک ارب نوری سال سے زائد فاصلے پر انتہائی شدید نوعیت کا دھماکہ،مناظر کیمرے ...
ایک ارب نوری سال سے زائد فاصلے پر انتہائی شدید نوعیت کا دھماکہ،مناظر کیمرے میں محفوظ 
سورس:   Pxhere (creative commons license)

  

برلن(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دنوں ہماری زمین سے 1ارب نوری سال سے زائد فاصلے پر انتہائی شدید نوعیت کا دھماکہ دیکھنے میں آیا جسے سائنسدان کیمرے میں محفوظ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ میل آن لائن کے مطابق آج تک کائنات میں ہونے والے دھماکوں میں سے یہ سب سے بڑا دھماکہ ہے جو کیمرے میں محفوظ ہو سکا۔ جرمنی کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ ’جرمن الیکٹران سنکرٹران‘ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ ایک سیارے کی موت ہونے اور موت کے بعد اس کے بلیک ہول میں تبدیل ہونے کے نتیجے میں ہوا۔ 

ماہرین کے مطابق یہ ایک انتہائی نوعیت کا ’گیما رے‘ (Gamma-ray)دھماکہ تھا، جس سے نکلنے والی چمکدار روشنی آسمان میں مشاہدہ کی گئی۔ یہ دھماکہ جنوبی افریقہ کے ملک ’نامیبیا‘ میں نصب کی گئی’ ہائی انرجی سٹیریوسکوپک سسٹم ٹیلی سکوپ‘ کی مدد سے خلاءمیں موجود فیرمی اینڈ سوفٹ ٹیلی سکوپس (Fermi and Swift Telescopes)کے ذریعے دیکھا گیا۔ یہ دھماکہ آج تک ہونے والی اس نوعیت کے دھماکوں میں ہماری زمین کے قریب ترین ہوا۔ قبل ازیں اس طرح کے جتنے دھماکے دیکھے گئے وہ کم از کم 20ارب نوری سال کے فاصلے پر ہوئے۔ اس دھماکے کو دیکھنے والے جرمن ماہرین نے اسے ’جی آر بی 190829اے‘ (GRB 190829A)کا نام دیا گیا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -