وہ مسلمان شہری جس نے کروڑوں روپے خرچ کرکے بھارتی قیدی کی جان بچالی 

وہ مسلمان شہری جس نے کروڑوں روپے خرچ کرکے بھارتی قیدی کی جان بچالی 
وہ مسلمان شہری جس نے کروڑوں روپے خرچ کرکے بھارتی قیدی کی جان بچالی 

  

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک مسلمان بھارتی کاروباری شخص نے 5لاکھ درہم (تقریباً2کروڑ 11لاکھ روپے) ادا کرکے سزائے موت کے ایک بھارتی قیدی کی زندگی بچا لی۔ خلیج ٹائمز کے مطابق اس مخیر کاروباری شخص کا نام ایم اے یوسف علی ہے، جس نے متحدہ عرب امارات میں سزائے موت کے فیصلے پر عملدرآمد کے منتظر بھارتی شہری بیکس کرشنن کی جان بچائی۔ 45سالہ کرشنن ستمبر 2012ءمیں گاڑی چلا رہا تھا جو بچوں کے ایک گروپ پر چڑھ دوڑی اور ان میں سے ایک بچے کی موت واقع ہو گئی۔ اسے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے سزائے موت سنا دی گئی۔

اس کے بعد اپیلوں کے تمام مواقع بھی ختم ہو گئے تھے کہ متحدہ عرب امارات کی سپریم کورٹ تک نے کرشنن کی سزا برقرار رکھی تھی اور اب کرشنن کے پاس کوئی امید باقی نہ رہی تھی۔ کرشنن کی فیملی نے اس کی رہائی کے لیے ہر جتن کیا مگر ہر جگہ سے ناکامی ہوئی اور اس کی فیملی مایوس ہو کر سوڈان جا کر مقیم ہو گئی۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے آخری امید کے طور پر یوسف علی سے رابطہ کیا۔

یوسف علی نے کیس کی تمام تفصیلات معلوم کیں اور کرشنن کو چھڑانے کا ارادہ باندھ لیا۔ ایک موقع پر وہ کرشنن کی فیملی کو سوڈان سے لے کر ابوظہبی بھی گیا اور وہاں ایک مہینہ قیام کیا۔ اس دوران تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں اور قصاص کے بدلے کرشنن کی معافی کا معاملہ طے پا گیا۔ یہ معاہدہ رواں سال جنوری میں طے پایا جس میں جاں بحق ہونے والے بچے کی فیملی نے 5لاکھ درہم کے عوض کرشنن کو معاف کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ یوسف علی نے یہ رقم عدالت میں جمع کرا دی ہے اور اب دیگر قانونی کارروائی جاری ہے، جس کے بعد کرشنن کو رہا کر دیا جائے گا۔

مزید :

عرب دنیا -