نور محمد قریشی (ایڈووکیٹ)

نور محمد قریشی (ایڈووکیٹ)

  

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لیئم

تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے

چرخ نادرئہ کار برسوں بعد کسی ایسی شخصیت کو جنم دیتا ہے جو صفحہ ءہستی پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہے اور میرکارواں کی طرح قافلے کو صحیح سمت دکھا جاتی ہے۔نور محمد قریشی مرحوم بھی ایسی ہی ہمہ اوصاف شخصیت تھے۔پیشے کے لحاظ سے ایڈووکیٹ تھے اور وکالت میں ان کے تخصص کا شعبہ انکم ٹیکس کے مقدمات کی پیروی تھا، جس میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔مولا کریم نے انہیں بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا۔انتہائی ذہین وفطین، نڈر، بے باک، بلند حوصلہ، صاحب فہم و فراست اور نفیس عادات کے مالک تھے۔وقار، سنجیدگی، متانت اور ایک عجب رعب و داب شخصیت کا خاصہ تھا۔ذہن یوں چلتاتھا کہ کمپیوٹر بھی پیچھے رہ جاتا۔ان کا نام مقدمے کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔

نور محمد قریشی نہ تو کوئی روایتی مولوی تھے اور نہ ہی کوئی بڑے عالم دین تھے، بلکہ جدید تعلیم یافتہ قانون دان تھے۔اس کے باوجود دینی علوم پر ان کی گرفت کسی عالم دین سے کم نہیں تھی، وہ اسم بامسمیٰ تھے، صرف نام ہی نور محمد نہیں تھا، ان کا ہر پل اور ہر عمل اطاعتِ محمدی کا عکس تھا۔آج سے تقریباً نصف صدی پہلے کوآپریٹو سے ملازمت اس لئے چھوڑ دی کہ وہ اپنی محنت کی اجرت سودی کاروبار میں ملوث ادارے کی آمدنی سے وصول کرنے کے روادار نہیں تھے۔شاید یہی وہ مبارک گھڑی تھی، جب اللہ نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں اٹھا یہ قدم بارگاہِ ایزدی میں شرفِ قبولیت پا گیا اور قلب و ذہن میں خدمتِ دین کی تحریک کروٹیں لینے لگی ، اس تحریک نے وہ کام کر دکھایا جو بڑے بڑے علماءسے بھی نہ ہو سکا۔تحفظ ختم نبوت کو اپنا موضوع بنایا اور ”نزول مسیح آخر کیوں“ ....” حیات مسیح اور ختم نبوت “ اور ”مرزا غلام احمد قادیانی کے کارنامے“ جیسی اعلیٰ پائے کی کتب تصنیف کر ڈالیں ،گو اس موضوع پر پہلے بھی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، مگر یہ لکھاوٹ ہنوز تشنگی لئے ہوئے تھی، ان کی تصانیف نے قاری کے ذہن کو سیراب کردیا۔

بہت سادہ مزاج اور درویش منش انسان تھے۔ان کی شخصیت بہت سحر انگیز تھی جو ایک بار مل لیتا، دوبارہ ملنے کی خواہش رکھتا، ان کی گفتگو جامع اور مدلل ہوتی تھی۔مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور تہہ تک پہنچنے کے عادی تھے۔پاکستان سے گہری محبت رکھتے تھے۔پاکستان کو بنتے اور پھر کمزور ہوتے بہت قریب سے دیکھا۔حالات کا بغور جائزہ لیتے۔سوچتے سوچتے آنکھیں اکثر نم ہو جاتیں۔ کیفیت یہ ہوتی کہ اگر بس چلتا تو کہیں سے جادو کی چھڑی لے آتے اور وطن عزیز کے دامن میں جمع سب کانٹے نکال دیتے۔اکثر اس بات پر بحث کررہے ہوتے کہ آخر وطن عزیز کا یہ ”نازک دور“ ختم کیوں نہیں ہوتا اور پھر ان کی عقابی نظریں پاتال میں اتریں اور اس کا سبب ڈھونڈ لائیں۔اہلِ وطن کو احساس دلایا کہ 66سالہ پاکستان کے بحرانوں کا سبب نیا نہیں، بلکہ ”مینوفیکچرنگ فالٹ “ہے جو پیدائش کے وقت ہی اس کی بنیادوں میں موجود تھا۔بغیرکسی لگی لپٹی کے ،بغیر کسی خوف کے انتہائی جرات و بیباکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی معرکہ آراءتصنیف ”تو صاحبِ منزل ہے کہ بھٹکا ہوا راہی“ رقم کر ڈالی۔ اس کتاب میں انہوں نے ہوا میں تیر نہیں چھوڑے، بلکہ جو بات کہی، اس کا مکمل ثبوت فراہم کیا، تاکہ قاری ہر طرح کے شک و شبہ سے بالاتر ہو کر کتاب کا مطالعہ کرسکے۔اس کتاب کو بے حد پذیرائی حاصل ہوئی۔

اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو دنیا میں بھیجتا ہی اس لئے ہے کہ ان سے کچھ خاص کام لینا ہوتا ہے۔نور محمد قریشی کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتاہے۔شعور کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد آخری سانس تک ان کی زندگی ایک جہد مسلسل تھی، کتاب سے عشق تھا، کتاب ہی دوست تھی، کتاب ہی اوڑھنا بچھونا تھی، مرتے وقت بھی تکیے کے نیچے کتابیں ہی موجود تھیں۔ جو لمحہ بھی ملتا،مطالعہ کی نذر ہو جاتا۔مَیں نے نہیں دیکھا کہ وہ کبھی تفریح طبع کے لئے فارغ بیٹھ گئے ہوں۔ جب بھی انہیں آرام کا کہا جاتا ، ان کا جواب یہی ہوتا: ”ابھی تو کام کرنے دیں، قبر میں جا کر آرام ہی کرنا ہے“....مگر مجھے یقین ہے کہ وہ وہاں بھی آرام نہیں کر رہے ہوں گے، بلکہ ان کی متلاشی نظریں ، اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں ڈوبی بے چین روح کسی نہ کسی کارخیر میں لگی ہوگی۔وہ ایک بیٹے کی حیثیت سے ، ایک بھائی کی حیثیت سے، ایک ہمسائے کی حیثیت سے ایک آئیڈیل انسان تھے۔کسی کو ان سے شکایت نہیں تھی۔ہر ایک کی راحت کا سامان کرتے۔

نور محمدقریشی تندرست و توانا اوراچھی صحت کے مالک تھے۔دوست احباب مذاق کیا کرتے کہ آپ نے بڑھاپے کی بجائے جوانی کی طرف سفر شروع کر رکھا ہے۔بس ایک سال سے عارضہ ءقلب میں مبتلا ہو گئے تھے، جس کے باعث کبھی کبھی سینے میں درد کی شکایت ہو جاتی تھی۔6-2-2013 کو حسب معمول نمازِفجر ادا کرنے کے بعد ایک پیالی چائے پی۔تھوڑی ہی دیر بعد سینے میں درد کی شکایت ہوئی جو شدت اختیار کر گئی، فوراً ہسپتال روانہ ہوگئے۔ آہ! یہ کون جانتا تھا کہ گھر کے یہ بادشاہ آج گھر بار چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے جا رہے ہیں۔تقریباً بیس روز ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد 24-2-2013 بروز اتوار پانچ بجے شام ہسپتال میں ہی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے.... انا للہ و انا الیہ راجعون.... کیا عظیم انسان تھے، مرنے کے لئے بھی اتوار کا دن پسند کیا تاکہ فرائض کی بجاآوری میں خلل نہ پڑے۔ جو بھی یہ کالم پڑھے اس سے استدعا ہے کہ وہ میرے میاں مرحوم و مغفور کی بخشش و مغفرت کی دعا ضرور فرمائے۔اللہ تعالیٰ جنت میں ان کی راحتوں اور آسائشوں کا سامان کرے اور ان کے درجات بلند فرمائے،آمین.... گو انہیں ہم سے جدا ہوئے ایک سال ہو چکا ہے، مگر سچ تو یہ ہے، اس ایک سال میں ایک پل بھی ایسانہیں، جب وہ ہماری نظروں سے یا ذہنوں سے اوجھل ہوئے ہوں:

چرچا تھا جہاں میں جس آواز کا

آہ! آج ہوگئی بند وہ زبان

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

مزید :

کالم -