ایران ایک دہائی کیلئے جوہری پروگرام منجمند کرے، امریکی صدر

ایران ایک دہائی کیلئے جوہری پروگرام منجمند کرے، امریکی صدر

  

 وا شنگٹن (آن لائن)امریکی صدر با راک اوباما نے کہا ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی معاہدہ چاہتا ہے تو اسے کم از کم دس برس کے لیے اپنی جوہری سرگرمیوں کو منجمد کرنا ہوگا۔برطانوی خبر رساں ادارے کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں صدر اوباما نے یہ بھی کہا کہ تاحال تو معاہدے کے لیے حالات موافق دکھائی نہیں دے رہے۔تاہم صدر اوباما نے کہا ہے کہ گذشتہ سال جب اس سلسلے میں ایک عبوری معاہدہ ہو رہا تھا تو نتن یاہو کی جانب سے اس کی مخالفت غلط قدم تھا۔انھوں نے کہا: ’اس مدت کے دوران ہم نے ایران کو اپنے پروگرام کو آگے بڑھاتے نہیں دیکھا اور کئی معنوں میں اس نے اپنے پروگرام میں تخفیف ہی کی ہے۔‘براک اوباما نے مزید کہا: ’ایران کے جوہری پروگرام پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے لیکن یہ تنازعہ واشنگٹن اور مشرق وسطی میں اس کے سب سے قریبی حلیف کے رشتوں کو ہمیشہ کے لیے متاثر نہیں کرے گا۔‘امریکہ ایران کے جوہری پروگرا کو 10 برسوں تک منجمد کیے جانے حق میں ہے جبکہ اسرائیل کا خیال ہے۔ کہ ایسا کوئی بھی معاہدہ جس کے تحت تہران کو قابل عمل جوہری صنعت کی اجازت ملتی ہے وہ خطرناک ہے ،صدر اوباما نے کہا کہ ’اگر ایران اس بات پر تیار ہے کہ 10 برسوں تک وہ اپنے پروگرام کو جہاں تک ہے وہیں تک رکھے گا بلکہ جو واپسی کے عناصر ابھی موجود اسے جاری رکھے اور ہمارے پاس اس کی تصدیق کے طریقے موجود ہیں اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے جس سے ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایران جوہری قوت کا حامل نہ ہوسکے۔

مزید :

عالمی منظر -