مفتی کا بیان شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش: حریت کانفرنس

مفتی کا بیان شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش: حریت کانفرنس

  

 جموں(کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس گ نے مفتی محمدسعید کے اس بیان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے اس پر حیرت اور تعجب کا اظہار کیا ہے، جس میں موصوف نے انتخابی ڈرامے کے انعقاد کے لیے حریت، پاکستان اور مجاہدین کی ستائش کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے الیکشن کے لیے سازگار ماحول بنانے میں تعاون کیا ہے۔ بیان کے مطابق حریت کانفرنس کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کی پوری قیادت اور اس کے سینکڑوں وابستگان الیکشن ڈرامے سے ڈیڑھ مہینہ قبل ہی حراست میں لیکر یا تو جیلوں میں پابندِ سلاسل بنادئے گئے تھے۔ یا انہیں اپنے اپنے گھروں میں نظربند کیا گیا تھا اور انہیں ایک دن کے لیے بھی لوگوں کے پاس جاکر اپنا موقف بیان کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا، لہذا الیکشن ڈرامے میں ان کے کسی رول کا تذکرہ کرنا غیر حقیقت پسندانہ اور غیر منصفانہ ہے اور اس کا سیاست کاری کے سوا کوئی نام نہیں دیا جاسکتا ہے۔ حریت ترجمان ایاز اکبر نے کہا کہ یہ بیان ایسا ہی ہے کہ ایک شخص کے ہاتھ پیر باندھ کر اس کے منہ میں روئی ٹھونسی جائے اور آج مفتی اس کا اس بات کے لیے شکریہ ادا کریں کہ الیکشن ڈرامے کے وقت وہ خاموش بیٹھے تھے اور اس نے اس کے انعقاد میں تعاون کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مفتی نے اسطرح کا بیان دیکر اصل میں آزادی پسندوں کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ انہیں درپردہ طور ان کا تعاون حاصل ہے اور وہ ان کو اقتدار میں لانے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ترجمان نے کہا کہ دوسرے کوارٹرز خود اپنی پوزیشن کی وضاحت کرسکتے ہیں، البتہ جہاں تک حریت کانفرنس کا تعلق ہے تو الیکشن سے متعلق اس کی پالیسی میں کوئی ابہام اور تضاد نہیں ہے۔ حریت ساڑھے سات لاکھ مسلح افواج کی موجودگی میں اس عمل کو ایک فوجی آپریشن سے زیادہ نہیں سمجھتی ہے اور اس کا دعوی ہے کہ اس کی قیادت اور کارکنوں کو حراست میں نہ لیا جاتا اور انہیں لوگوں تک اپنا موقف پہنچانے کا موقعہ فراہم کیا جاتا تو عوام کی غالب اکثریت انتخابی عمل سے دور رہتی اور اس کا بائیکاٹ کرتی۔ انہوں نے کہا کہ حریت اصولی طور جمہوریت مخالف نہیں ہے اور اس کا چلینج ہے کہ عالمی برادری کی نگرانی میں یہاں لوگوں کی خواہشات اور مرضی جاننے کے لیے آزادانہ رائے شماری کرائی جائے تو کسی ہندنواز کا ایڈرس بھی نظر نہیں آئے گا، اس کے الیکشن جیتنے کی بات ہی نہیں ہے۔ مفتی سعید کی اس بات کہ ریاستی عوام نے دوقومی نظریہ کو مسترد کرکے بھارت کے ساتھ الحاق کیا ہے کو حریت ترجمان نے ہمالیہ جتنا بڑا جھوٹ قرار دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ریاست جموں کشمیر کو بھارت نے محض اپنی فوجی طاقت کے ذریعے سے اپنے ساتھ ملاکر رکھا ہے اور جہاں تک الحاق کا سوال ہے تو وہ 1846 کے معاہدۂ امرتسر جیسا معاہدہ ہے، جب انگریزوں نے جموں کشمیر کی پوری آبادی کو اس کی مرضی جانے بغیر گلاب سنگھ کے ہاتھوں فروخت کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 47 میں بھی صرف ایک فردِ واحد نے ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور اس میں لوگوں کی مرضی اور آمادگی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

مزید :

عالمی منظر -