تدریس و تعلم کی زبوں حالی

تدریس و تعلم کی زبوں حالی
تدریس و تعلم کی زبوں حالی

  

تشکیل پاکستان سے پیشتر انگریز حکمرانوں کے دور میں نہ پریپ کا تصور تھا نہ نرسری کا۔ پاکستان بننے کے بعد تک تین آر (R) پر زور دیا جاتا تھا یعنی ریڈنگ، رائٹنگ اور ریتھمیٹک (ریاضی) ایک دو ماہ بچہ ایک قاعدہ پڑھتا تھا پھر باقاعدہ پہلی جماعت میں داخل ہو جاتا تھا۔ پڑھائی، لکھائی اور ریاضی پر زور ہوتا تھا۔ بیس بیس پچیس پچیس سیر (اب کلو) کے بستے نہیں اٹھانے پڑتے تھے۔ جس طرح ہر شعبہ ارتقائی منازل طے کرتا ہے۔ محکمہ تعلیم میں بھی دوررس تبدیلیوں کا شعور پیدا ہوا۔ لیکن امریکن کتابوں کی مدد سے ضخیم رپورٹیں تیار کی گئیں اور وہ نہ معلوم کن کمروں میں بند ہیں؟

تین آر (R) کے بعد تین اے (A) کا چرچا ہوا، یعنی ایج(Age) قابلیت (Ability) اور رجحان طبع (Apptitude) رجحان طبع ناپنے کا مدارس میں کوئی پیمانہ نہیں ، مگربچوں کی عمر اور لیاقت کا تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے، لیکن یہ سب کچھ پیچھے رہ گیا اور روپیہ پیسہ آگے آ گیا۔ نہ تعلیم رہی نہ معیار تعلیم۔ مدارس میں جا کر دیکھیں جو نصاب مختلف مدارس میں پڑھایا جاتا ہے کیا وہ بچوں کی عمروں، قابلیتو ں اور رجحان طبع کے مطابق ہے؟

تدریس و تعلم کے عمل کو دو افراد آگے چلاتے ہیں۔ ایک معلم اور دوسرا بچہ، تدریس کا تعلق استاد سے ہوتا ہے اور تعلم کا تعلق بچے سے معلم پڑھاتا، سکھاتا ہے اور بچہ سیکھتا ہے۔ ظاہر ہے معلم بالغ اور پڑھا لکھا شخص ہوتا ہے۔ بچہ معلم سے علم حاصل کرتا ہے۔ وہ نہ بالغ ہوتا ہے نہ بالغ النظر۔ تعلیم کے عمل میں استاد کا رول اہم ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے وطنِ عزیز میں پرائمری مدارس کا تو ذکر کیا۔ مڈل اور ہائی سکولوں کے اساتذہ کی تعلیمی قابلیت پر بھی کئی سوال اُٹھائے جا سکتے ہیں سرکاری مدارس ہوں۔ یا پرائیویٹ ہر جگہ اہل اساتذہ کی کمی محسوس کی جاتی ہے۔

سرکاری پرائمری سکولوں میں میٹرک ، پی ٹی سی ٹیچرز تعینات کئے جاتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ وہ چوتھی اور پانچویں کی اردو کی کتاب صحیح طور پر پڑھانے کے قابل نہیں ہوتے۔ نہ اُنہیں ریاضی آتی ہے۔ یہ سب اساتذہ پر الزام نہیں لگا رہا، لیکن بہت سے ایسے مل جائیں گے جن کا اوپر کی سطور میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ پرائیویٹ مدارس میں چونکہ تنخواہیں سرکاری مدارس کے برابر نہیں دی جاتیں۔ لہٰذا وہاں بھی اساتذہ کا یہی حال ہے۔ایک اور المیہ بھی ہے۔ سکولوں میں ضروری سامان موجود نہیں ہوتا۔ بے شمار سکول ایسے ہیں جہاں کلاسیں تو پانچ ہیں لیکن استاد ایک یا دو ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں تعلیم کیا ہو گی؟

تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن صد افسوس کہ ہمارے ملک میں تعلیم پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ سرکاری مدارس میں تو ٹیکسٹ بورڈ کی کتب پڑھائی جاتی ہیں لیکن پرائیویٹ مدارس میں اپنا اپنا نصاب ہے مختلف پبلشرز کتب شائع کرتے ہیں۔ وہ بچوں کو تھما دی جاتی ہیں گائیڈ بکس بھی چھاپی جاتی ہیں۔ جن میں اغلاط کی بھرمار ہوتی ہے۔ اخباری کاغذ پر چھاپی گئی ان کتب کی قیمتیں بہت زیادہ رکھی جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں غیر ضروری کاپیاں، یوں بچوں کے بستے بہت بوجھل ہو جاتے ہیں۔ جو وہ بمشکل اُٹھاتے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے تعلیم کا شعبہ لاوارث ہے۔ معیاری تعلیم اور یکساں نصاب کے لئے آج تک کوئی سعی نہیں کی گئی۔ چیکنگ کا کوئی خاطر خواہ انصرام نہیں ہے اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ، اصلاح اُسی وقت ممکن ہے جب روپے پیسے کی دوڑ سے اجتناب کر کے بچوں کی بہبود کو پیش نظر رکھا جائے۔ اس کے لئے حکومت اور پرائیویٹ مدارس کی انجمنوں کا مشترکہ لائحہ عمل ہونا ناگزیر ہے۔

مزید :

کالم -