’’سینیٹ اصلی ہے؟‘‘

’’سینیٹ اصلی ہے؟‘‘
’’سینیٹ اصلی ہے؟‘‘

  

آج کل پاکستانی سیاست میں سب سے اہم ایشو سینیٹ الیکشن اور اس حوالے سے ہارس ٹریڈنگ ہے جس کے سدباب کے لئے حکومت سرگرمِ عمل ہے۔ وزیراعظم نے جمعتہ المبارک کو تمام پارلیمانی جماعتوں کو وزیر اعظم ہاؤس مدعو کیا۔ اس میں تحریکِ انصاف کی نمائندگی بھی تھی (جس نے قومی اور پنجاب و سندھ کی اسمبلیوں سے استعفے دے رکھے ہیں)۔۔۔ سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کا رجحان خاصا قدیم ہے۔ سب سے زیادہ بولی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لگتی ہے۔ سندھ اور پنجاب میں بہت حد تک پارٹی ڈسپلن پایا جاتا ہے۔ حالیہ سینیٹ انتخابات میں کے پی کے اور بلوچستان میں ایک ووٹ کی بولی چار سے پانچ کروڑ تک لگ رہی ہے جبکہ فاٹا میں فی ووٹ 40 کروڑ کی خبریں آ رہی ہیں۔

عمران خان نے گزشتہ دِنوں اپنی پریس کانفرنس میں ایک بار پھر ہارس ٹریڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیااور اس کے سدباب کے لئے حکومتی اقدامات کو سراہا۔ حکومت سینیٹ انتخابات کو شفاف بنانے کیلئے آئین میں ترمیم کرنا چاہتی ہے جسکی پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم حمایت جبکہ پی پی پی اور جے یو آئی (ف) مخالفت کر رہی ہے۔پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ اب جبکہ سینیٹ کے انتخابات کا عمل شروع ہوچکا ہے، ایسی کسی ترمیم کی ضرورت ہے، نہ گنجائش جبکہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ حکومت نے 21ویں ترمیم بارے ہمارے تحفظات دور نہیں کئے تو اب 22ویں آئینی ترمیم کی حمایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ویسے حکومتی کمیٹیاں آئینی ترمیم کے لئے سیاسی جماعتوں سے رابطے کر رہی ہیں۔

عمران خان اور ان کی تحریکِ انصاف کا معاملہ بھی عجیب ہے، ’’میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑواتھو تھو‘‘ کے مصداق قومی اور دوصوبائی اسمبلیوں سے تومستعفی ہوگئی لیکن کے پی کے میں برجمان ہے ۔ ادھر استعفوں کا معاملہ بھی ڈرامہ بن چکا ہے۔ نہ ارکانِ اسمبلی انفرادی طور پر پیش ہو کر اپنے استعفے کی تصدیق کرتے ہیں، نہ سپیکر صاحب انہیں منظور کرتے ہیں۔درجنوں ایم این ایز اور ایم پی ایز ’’مستعفی‘‘ ہوچکے ہیں، اس کے باوجودرکن اسمبلی کی حیثیت سے تنخواہوں اور مراعات سے فیضیاب بھی ہورہے ہیں۔ ادھر ان کے حلقوں کے عوام اپنے منتخب نمائندوں سے محروم ہیں۔2013ء کے انتخابات پورے ملک میں ایک ہی الیکشن کمیشن اور ایک ہی سسٹم کے تحت ہوئے لیکن پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں، جہاں پی ٹی آئی ہاری، وہاں ریٹرننگ افسروں نے دھاندلی کی اور جہاں پی ٹی آئی جیتی(کے پی کے میں) اور اپنی حکومت بنائی وہاں انتخابات صاف شفاف ہوئے اور وزارتِ اعلیٰ کا ہما اُس شخصیت کے سر پر آن بیٹھا جو اے این پی اور پی پی پی سمیت مختلف حکومتوں میں اقتدار کے مزے لوٹتے رہے تھے اور اب پنجاب اور سندھ اسمبلی میں سینیٹ کے انتخاب کا بائیکاٹ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان دونوں صوبوں میں پی ٹی آئی سینیٹ الیکشن پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں نہیں اور بلوچستان میں سرے سے اس کی نمائندگی ہی نہیں۔

عمران خاں اس قومی اسمبلی کو جعلی قرار دیتے آرہے ہیں۔ کیا اب ان کے لئے سینیٹ اصلی ہوگئی ہے؟ اور اگر سینیٹ اصلی اور آئینی ہے تو پھر قومی اسمبلی جعلی اور غیر آئینی کیسے ہوگئی؟ خان صاحب کی پوری زندگی ادلتے بدلتے سیاسی مؤقف سے بھری پڑی ہے۔2005 ء میں’’پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو‘‘ پرویز الٰہی 2014ء میں پنجاب کا شیر شاہ سوری بن جاتا ہے۔ 2007ء میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف فائلیں اُٹھائے سکاٹ لینڈ یارڈ پہنچ جاتے ہیں اور اسے دہشت گرد قرار دیتے ہیں اور پھر کراچی میں جلسے کا معاملہ ہو تو ’’الطاف حسین جیسا ویژن رکھنے والے لیڈر کی پاکستان کوضرورت ہے‘‘۔ شیخ رشید کو 2005 ء میں اپنا چپڑاسی تک نہ رکھنے کا اعلان لیکن 2014 ء میں وہ عمران خان کاپولیٹیکل ایڈوائزر، کبھی مشرف کی حمایت تو کبھی مخالفت، خان صاحب ’’سینیٹ اصلی ہے‘‘ تو پھر مہربانی فرما کر قومی و صوبائی اسمبلیوں کا بائیکاٹ ختم کریں۔ عوام کو اپنے منتخب نمائندوں کے پاس جانے دیں تاکہ ان کے مسائل حل ہوں۔ آپ کے اس ’’یو ٹرن‘‘ کو یقیناًسراہا جائے گا!

مزید :

کالم -