دینی مدارس: ترکی کی تاریخ سے ایک ورق

دینی مدارس: ترکی کی تاریخ سے ایک ورق
دینی مدارس: ترکی کی تاریخ سے ایک ورق

  

گزشتہ کچھ عرصے سے مغربی ذرائع ابلاغ کی تقلید میں قومی ذرائع ابلاغ میں بھی پاکستانی مدارس کے خلاف تنقید کا ایک سلسلہ جاری ہے۔ پچھلے دو چار سالوں میں اس تنقید میں ایک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گزشتہ برس 16دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول کے اندوہناک واقعہ کے بعد جو قومی عمل کا منصوبہ ترتیب دیا گیا، اس کا ہدف بھی مدارس ہی نظر آتے ہیں۔پاکستانی عوام جس قسم کی دہشت گردی کا شکار ہیں، اسی کے خاتمے کے لئے منصوبہ بندی اور اس پر عمل بہت ضروری ہے، لیکن اتنا ہی ضروری یہ امر بھی ہے کہ اہداف کا تعین مکمل چھان بین اور سوچ و بچار کے بعد کیا جائے۔

کچھ روز قبل بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابقہ کارندے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کی طرف سے کچھ انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کی تین چار وڈیو ریکارڈنگ بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ ان انکشافات کی روشنی میں را کی پاکستان کے شہروں میں سرگرمیاں جاری ہیں، اسی طرح دو روز قبل پاکستان کے وزیراعظم جناب نوازشریف اور وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے بیانات بھی شائع ہوئے ہیں، جن کی رو سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح نشانات ملے ہیں۔ ان حالات میں دہشت گردی کے حوالے سے قومی بیانیہ اور دہشت گردی کی وجوہات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔اس ضمن میں مزید بحث کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔ فی الوقت اس بارے میں ترکی کی تاریخ سے چند اوقات کا مطالعہ بروقت اور ضروری دکھائی دیتا ہے۔

ترکی میں عثمانی سلطنت کا قیام اگرچہ 1299ء میں عمل میں آیا، لیکن خلافت کے قیام کا اعلان 1453ء میں سلطان محمد دوم کی طرف سے قسطنطنیہ کی فتح کے بعد کیا گیا۔ قسطنطنیہ کی فتح کے بعد خلافت عثمانیہ کی سرحدیں ایشیا کی سرحد سے نکل کر یورپ تک پھیل گئیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ باقی علاقے بھی یکے بعد دیگرے خلافت عثمانیہ کی عملداری میں آ گئے۔ سلطان سلیم کے دور میں 1517ء میں مصر کی فتح کے بعد خلاف کی سرحدیں افریقہ تک پھیل گئیں۔ سلطان سلیم نے زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی قوانین کے نفاذ کا اعلان کیا۔

عثمانی سلطنت کم و بیش پونے چھ سو سال قائم رہی۔ عثمانی دور حکومت میں مذہب اور قانون کے لئے حد درجہ احترام پایا جاتا تھا۔ عثمانی سختی سے شریعت اسلامی کے پابند تھے۔ تمام عدلیہ شیخ الاسلام یا مفتی اعظم کے ماتحت تھی، جن کے سامنے انصاف کے حصول کے لئے آخری اپیل کی جا سکتی تھی۔ شیخ الاسلام کے فیصلے سلطان کو بھی تسلیم کرنا پڑتے تھے، عثمانی خلفاء کی طاقت اور فتوحات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عثمانی فوج نے 1683ء میں یورپ کے شہر ویانا کا کئی روز محاصرہ کئے رکھا، اگرچہ موسمی حالات کی وجہ سے انہیں واپس لوٹنا پڑا۔ اس کے بعد عثمانی سلطنت کا زوال شروع ہوا، جس کی تکمیل 1923ء میں عثمانی خلافت کے خاتمے پر ہوئی۔ جو علاقے عثمانی ترکوں نے ساڑھے تین سو سال کے عرصے میں فتح کئے، وہ ایک ایک کرکے اگلے دو سو سالوں میں ان سے چھن گئے۔ بعض مورخ یہ کہتے ہیں کہ ویانا کے محاصرے میں ترکوں کی شکست کے بعد ان کے زوال کا عمل شروع ہوا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عثمانی سلطنت کا زوال اس وقت شروع ہوا ،جب انصاف کی جگہ بے انصافی نے لے لی۔جب تک عثمانی سلطنت میں انصاف کا بول بالا رہا اور وہ اسلامی اصولوں پر قائم رہی، اس کی طاقت اور عملداری کے علاقہ جات میں اضافہ ہوتا رہا، لیکن جب سلطنت میں نسبتاً کم درجے یا کم علمی استعداد کے افراد شیخ الاسلام مقرر ہونے لگے اور انہوں نے سلطان کی مرضی کے تابع فیصلے شروع کئے، عثمانی سلطنت کا زوال شروع ہوگیا، معاشرے میں بے انصافی، لاقانونیت اور اقرباء پروری نے ڈیرے ڈال دیئے۔

عثمانی ترکوں نے پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کا ساتھ دیا۔ جنگ کے خاتمے پر عثمانی سلطنت کو ختم کرکے مختلف ملکوں کا قیام عمل میں لایا گیا، جس میں اسرائیل کا قیام بھی شامل تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے خاتمے سے قبل ہی فرانس اور برطانیہ کے مابین عثمانی سلطنت کے خاتمے کا تصفیہ ہو چکا تھا، جنگ میں ترکی کی شکست کے بعد مصطفےٰ کمال ایک قومی رہنما کے طور پر سامنے آیا۔ اس نے 1923ء میں ترک جمہوریہ کے قیام کا اعلان کیا۔ کمال اتاترک،خود سیکولر خیالات کا حامل تھا اور اس نے ترکی کو اپنے نظریہ کے مطابق ایک سیکولر ملک بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے خیالات کو باقاعدہ ایک نظریہ قرار دیکر کمالزم کو ترکی کا منشور بنانے کا فیصلہ کیا گیا، کمالزم کے ساختی عناصر میں سیکولرازم،ترک قومیت، مغربی جمہوریت اور عثمانی دور کے اثرات کو زائل کرنا شامل تھا، اس نظریئے کے مطابق سیاست، ثقافت اور تعلیم سمیت زندگی کے تمام شعبہ جات میں مذہب اور مذہبی شخصیات کے اثر کو زائل کرنا شامل تھا۔ اس نے مذہبی تعلیم اور مذہب سے متعلق تمام سرگرمیوں کو حکومت کے کنٹرول میں لانے کے لئے جو اقدامات کئے ان کا مختصر ذکر درج ذیل ہے۔3مارچ 1923ء کو کمال اتاترک نے اسمبلی میں ایک بل پیش کیا جس کی رو سے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ اور ملک سے اس کے اثرات کو زائل کرنا مقصود تھا، اس بل کے چند نکات یہ تھے۔جمہوریت ہر قیمت پر قائم کی جائے گی۔ سلطنت عثمانیہ ایک ڈھانچا تھا جو ناقص العقل اور خستہ حال مذہبی بنیادوں پر قائم تھا۔ خلیفہ اور اس کے بچے کھچے خاندان کو ترکی سے بے دخل ہونا چاہیے۔ دقیانوسی مذہبی عدالتوں کو ختم کرکے اس کی جگہ جدید عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ تبلیغی گروہوں کو اب غیر مذہبی یا سیکولر افراد کے لئے جگہ خالی کرنا ہوگی۔ ریاست اور مذہب کو جدا کرکے سیکولر ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

3مارچ 1923ء ہی کو یکساں نظام تعلیم کے نام پر ملک بھر میں قائم دینی مدارس پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ مدارس یا تو اصطبل میں بدل گئے یا پھر ان میں مارکیٹیں قائم کر دی گئیں۔ مذہبی اوقاف ضبط کرلئے گئے۔ درویشوں کے حجرے بھی بند کر دیئے گئے۔ ہجری کیلنڈر اور شرعی عدالتیں بھی کالعدم قرار دے دی گئیں۔1928ء میں عربی رسم الخط ختم کرکے لاطینی رسم الخط اختیار کیا گیا۔1932ء میں عربی میں قرآن کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی، عوام کو مجبور کیا گیا کہ وہ ترکی زبان میں لکھا گیا قرآن پڑھیں۔اسی سال عربی میں اذان دینے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔مساجد میں موذن حضرات کو زبردستی ترکی میں اذان دینے کا پابند کیا گیا، جبکہ عوام کی طرف سے اس کی مزاحمت کی گئی۔ 1950ء میں عام انتخابات کے نتیجے میں برسراقتدار آنے والے رہنما عدنان مندریس نے عربی زبان میں اذان دینے کی دوبارہ اجازت دی ، لیکن فوج اور عدالتوں کی طرف سے اس کی مزاحمت کی گئی اور بالآخر عدنان مندریس کو 1960ء میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔کمال اتاترک کو اسلامی تہذیب و ثقافت سے اس حد تک نفرت تھی کہ اس ثقافت سے جڑی ہر نشانی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ حتیٰ کہ اس نے درویشوں کے پہننے والے چغے اور ترکی ٹوپی پہننا بھی ممنوع قرار دے دی۔ اس وقت تو انتہا ہو گئی جب اس نے یہ حکم نافذ کیا کہ ترک مسلمان آئندہ خالقِ کائنات کو اس کے عربی نام اللہ کی بجائے ترکی نام ’’تانڑی‘‘ سے یاد کریں۔

جب قرآن مجید کی عربی میں اشاعت ممنوع قرار دے دی گئی۔ عربی میں اذان دینے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ قرآن کی تعلیم دینے والے ادارے یعنی مدرسے بند کردیئے گئے تو کمال اتاترک مطمئن ہو گیا کہ اسلامی تہذیب و تمدن کے سارے آثار وقت کے ساتھ ساتھ مٹ جائیں گے اور ترکی مکمل طور پر یورپ کے سانچے میں ڈھل جائے گا۔ بظاہر اس بات کا امکان بہت کم نظر آتا تھا کہ ترکی میں اسلام کا نام لیوا کوئی فرد باقی رہ جائے گا، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ گھروں میں اور نجی طور پر ناصرف قرآن، بلکہ مذہب اسلام کی تعلیم ڈھکے چھپے انداز میں جاری رہی، جس کے لئے ترکی کے عوام، مذہبی تعلیمی نظام سے وابستہ افراد اور کچھ سیاسی رہنما بجا طور پر مبارکباد اور تحسین کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ ان میں ہزاروں دیگر افراد کے علاوہ نجم الدین اربکان، اس کی پارٹی کے افراد اور اس کی پارٹی سے تربیت یافتہ سابق صدر ترکی عبداللہ گل اور موجودہ صدر طیب اردگان شامل ہیں۔

جب راقم پہلی دفعہ ترکی گیا تو قونیہ شہر میں مولینا روم علیہ الرحمتہ کے مزار کے پاس ایک مارکیٹ میں جاتے ہوئے داخلی دروازے کی دیوار پر نظر پڑی تو اس پر لفظ مدرسہ دیوار پر کندہ نظر آیا،جس سے یہ انکشاف ہوا کہ موجودہ مارکیٹ کسی زمانے میں مدرسہ رہی تھی۔ اس کے بعد کوئی دوسری عمارتیں بھی تلاش کیں جو کبھی مدرسہ رہ چکی تھیں۔ جب دوسری بار 2010ء میں ترکی جانا ہوا تو استنبول شہر کے نقشے پر جابجا لفظ مدرسہ لکھا دیکھا۔ جب نقشے کی مدد سے ان عمارات تک پہنچا تو معلوم ہوا کہ سب مدارس کو مارکیٹ یا کسی دوسری عمارت میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ بازار میں گھومتے ہوئے بہت ساری ایسی دکانیں دیکھیں جن میں ہاتھ سے لکھی ہوئی اور فریم شدہ قرآنی آیات آویزاں تھیں۔ لوگ یہ فریم شدہ آیات خرید کر اپنے گھروں میں آویزاں کرتے ہیں۔ ترکی جیسے ملک میں یہ میرے لئے ایک نیا مشاہدہ تھا جو یقیناًایک غیر معمولی بات تھی، ایا صوفیہ کے اردگرد میں کسی مناسب ریستوان کی تلاش میں تھا، جہاں سستا کھانا میسر آ سکے، اسی تلاش میں ایک ایسا ریستوران نظر آیا، جہاں تین خواتین موجود تھیں اور وہ آنے والے گاہک کو تندور پر تازہ روٹی یا نان لگا کر کھانا پیش کرتی تھیں۔ مَیں اس ریستوران میں داخل ہو گیا۔ ریستوران میں قرآن کریم کی ایک آیت آویزاں تھی، جب میں نے ان خواتین سے پوچھا کہ وہ تحریر کیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ تحفہ، غالباً وہ تبرک کہنا چاہتی تھیں، جب میں نے پوچھا کہ کیا وہ اس تحریر کو پڑھ سکتی ہیں تو انہوں نے ایک نسبتاً عمر رسیدہ خاتون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف وہ پڑھ سکتی ہے، پھر انہوں نے اس خاتون کے سر کے اوپر دیوار کے ساتھ لگے ہینگر کی طرف اشارہ کیا، جس پر قرآن کریم کا ایک نسخہ رکھا تھا، معلوم ہوا کہ وہ خاتون فارغ وقت میں قرآن کریم کی تلاوت کرتی ہے، ترکی میں چونکہ اسلامی تہذیب و تمدن کے اثرات بہت گہرے تھے، اس لئے تقریباً پون صدی کی پابندی کے باوجود بھی وہاں کے عوام اپنا اسلامی تشخص برقرار رکھنے میں کامیاب رہے، اگرچہ اس کے امکانات بہت کم ہیں، لیکن پھر بھی اگر پاکستان میں ایسا ہوا تو اس کے کیا نتائج مرتب ہوں گے؟ اگر قرآن پڑھنے والے افراد اور قرآن مجید کی تعلیم دینے والے اداروں، یعنی مدارس پر قدغن لگائی گئی تو اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے اور پاکستان کو اپنی اسلامی شناخت واپس لینے کے لئے کتنا عرصہ درکار ہوگا؟

مزید :

کالم -