پاکستان کی جوہری قوت: چند تاثرات!

پاکستان کی جوہری قوت: چند تاثرات!
پاکستان کی جوہری قوت: چند تاثرات!

  

کسی بھی موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے کالم نگار کو دو باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔۔۔ ایک تو یہ کہ موضوعِ زیرِ بحث پر اس کی اپنی گرفت کا کیف و کم کیا ہے اور دوسرے یہ کہ جن کے لئے یہ کالم لکھا جا رہا ہے، ان کی تفہیم (Understanding) کی حدود کیا ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ کالم نگاری کا اصل مقصد کسی موضوع کے مثبت یا منفی پہلوؤں کو اجاگر کرنا اور قارئین کو انفارم اور ایجوکیٹ کرنا ہوتا ہے۔ اگر لکھاری خود ہی ان دونوں صفات (انفرمیشن اور ایجوکیشن) سے کما حقہ آگاہ نہ ہو تو وہ قارئین کے علم میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتا۔

ایک اور بات جو کالم نگار کو ذہن میں رکھنی چاہیے وہ یہ ہے کہ اس کا مطالعہ خواہ کسی موضوع پر کتنا ہی کثیر اور بلیغ کیوں نہ ہو، اس کو دیکھنا چاہیے کہ اوسط سمجھ بوجھ رکھنے والے قاری کا مبلغ علم کیا اور کتنا ہے۔ بعض اوقات موضوع ایسا مشکل اور ہمہ گیر ہوتا ہے کہ اس کی تفہیم ایک اوسط درجے کے اہلِ علم قاری کو نہیں ہو سکتی۔ اس مشکل کا حل یہ ہے کہ کالم نگار کو ایک تو زبان و بیان کو زیادہ گنجلک اور مشکل نہیں بنانا چاہیے اور دوسرے کالم میں جن نکات پر روشنی ڈالنا مقصود ہو ان کی معنوی اور پروفیشنل اصطلاحات کی بڑی آسان زبان میں تشریح و توضیح کر دینی چاہیے ۔ مجھے احساس ہے کہ ایسا کرنے سے کالم کا مقرر کردہ حجم زیادہ بڑھ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے، جبکہ قاری کے پاس نہ اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ کسی تفصیل کو کماحقہ طور پر ’’ہضم‘‘ کر سکے اور نہ اتنا ذوق ہوتا ہے کہ وہ ایک ایک لفظ اور ایک ایک جملے پر رک کر پہلے اس کو سوچے اور پھر ذہن میں اتارے۔ اخبار کے کالم کا ایک اوسط قاری، ایک اوسط درجے کے موضوع اور ایک اوسط درجے کی نگارش کا طلبگار ہوتاہے۔ چنانچہ کالم نویس کے لئے ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ وہ اپنے کالم کو مقالہ نہ بننے دے۔

بعض موضوعات کا کنیوس زیادہ وسیع ہوتا ہے اور کالم نگار مجبور ہوتا ہے کہ اس کو اقساط میں تقسیم کر دے۔ لیکن اس میں خدشہ یہ ہوتا ہے کہ ہر قاری، ہر روز کسی ایک اخبار کی ورق گردانی کا مکلف نہیں ہوتا اس لئے موضوع کی مکمل تفہیم اس کی گرفت سے باہر رہ جاتی ہے۔ پھر کالم کو موضوعات کے حساب سے مختلف اصناف میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، مثلاً سیاسیات، شعر و ادب، مذہب، تعلیم، صحت ، رفاہِ عامہ، سماجی مسائل، جرم و سزا، بین الاقوامی موضوعات اور جنگ و جدال وغیرہ۔ جوں جوں دنیا آگے بڑھتی جاتی ہے، علم و ہنر کے نئے نئے آفاق وا ہوتے جاتے ہیں۔ ان کو سمیٹنا اور پھر قارئین تک پہنچانابھی، کالم نگار کے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔

علاوہ ازیں ہر کالم نگار کا ایک اپنا من پسند موضوع ہوتا ہے۔وہ اس کے گِرد ہی اپنی Studies کو گھماتا رہتا ہے۔ وہ اِدھر اُدھر کی معلومات سے آشنائی ضرور پیدا کرتا ہے لیکن ہر پھر کے اپنے اسی من پسند موضوع کی طرف لوٹ آنا چاہتا ہے۔ اس کو ایسا کرنے سے کوئی روک تو نہیں سکتا، مگر اس کو یہ خیال ضرور رکھنا چاہیے کہ اس کے قارئین اس پر کسی مخصوص موضوع کے ’’سپیشلسٹ‘‘کی چھاپ نہ لگا دیں۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ فلاں کالم نگار کا اصل ’’فن‘‘ فلاں موضوع کو محیط ہے چنانچہ قارئین بعض اوقات کالم کا عنوان دیکھ کر ہی منہ پھیر لیتے ہیں کہ یہ تو ’’وہی جگہ‘‘ ہے جہاں سے ہم پہلے بھی کئی بار گزر چکے ہیں۔۔۔ مزید کتنی بار اس گلی سے گزریں؟

پھر کسی کالم نگار کا اپنا مخصوص اسلوبِ نگارش بھی اس کو باقی کالم نگاروں سے ممیز کر دیتا ہے۔ بعض لکھاری اپنے کالموں میں اشعار کا استعمال کرکے قاری کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بعض اثنائے تحریرمیں، طنز و مزاح سے کام لیتے ہیں، بعض زبان و بیان کی وہ روش اختیار کرتے ہیں جو ادبِ عالیہ سے مملو ہوتی ہے۔ بعض حضرات اپنی خود نوشت قاری تک پہنچانے کے لئے اپنی ساری تحریری کاوشیں صرف کر دیتے ہیں۔ اسی طرح مذہبی اور مسلکی موضوعات کا اپنا کنیوس ہے، بزرگانِ دین کے فرمودات الگ دلچسپی رکھتے ہیں، ادوارِ ماضی کی داستانیں سنانے کے لئے ایک الگ طرزِ نگارش اختیار کی جاتی ہے۔۔۔ ان تمام کوششوں اور کاوشوں کا نہائی مقصود یہی ہوتا ہے کہ قاری کو اپنی تحریر کی طرف متوجہ کیا جائے۔ ایک بار کوئی قاری جب کسی لکھاری کے دامِ تحریر میں گرفتار ہو جاتا ہے تو وہ جہاں کہیں اس کا نام لکھا دیکھتا ہے، اس کو پڑھنے کی کوشش ضرور کرتا ہے خواہ وہ اس سے پوری طرح متفق اور مطمئن ہو کہ نہ ہو!

راقم السطور ایک طویل عرصے سے کوشش میں ہے کہ اپنے قارئین کو ایک ایسے موضوع سے شناسا کرے کہ جس کے باب میں اردو زبان میں بہت کم موادملتا ہے۔۔۔ میرا مطلب حدیثِ شمشیروسناں سے ہے!

یہ حدیث گزشتہ دو تین سو سالوں میں ہم مسلمانوں سے یا تو عمداً دور رکھی گئی یا ہم نے قصداً اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ مسلم اقوام کی یہ خود فراموشی بڑی جانگداز ہے۔ تاہم برصغیر کے باسی اس ذیل میں باقی مسلم ممالک کے باسیوں سے زیادہ خوش نصیب ہیں کہ ان کی اساس میں اس حدیثِ شمشیروسناں کا وافر موادِ تعمیر (ریت، چونا، پتھر، بجری، سیمنٹ، اینٹ وغیرہ) موجود ہے۔ 14اگست 1947ء کو جب برصغیر تقسیم ہوا تو ہماری یہ حدیث، باقی مسلم ممالک کی احادیث کے مقابلے میں زیادہ ’’مشہور اور عزیز‘‘ تھی جبکہ دیگر مسلم ممالک کی احادیثِ شمشیروسناں آج بھی ’’غریب اور ضعیف‘‘ ہیں۔۔۔ مسلم امہ کا یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔۔۔آج جس ملک کے پاس جدید سلاحِ جنگ و جدل کی مختلف صورتیں موجود ہیں اس کے پاس دوسرے ’’غیر جنگی سلاح‘‘ کی ٹیکنالوجیکل سہولتیں اور آسانیاں بھی دستیاب ہیں!

بیشتر لکھے پڑھے اور ’’ڈگری یافتہ‘‘ پاکستانیوں کو میں نے یہ ڈینگ مارتے سنا ہے کہ پاکستان کو اب کسی اور سلاحِ جنگ و جدل کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی فرمایا جاتا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور اس کے ساتھ اس کی میزائلی صلاحیت اس کینڈے کی ہے کہ اس کو کسی سے ’’ڈرنے ورنے‘‘کی ضرورت نہیں۔ ٹاک شوز میں اکثر شرکائے بحث کو آپ نے یہ نعرہ بلند کرتے سنا ہوگا کہ ہم کوئی چھوٹی موٹی قوم نہیں،ہماری آبادی 20کروڑ ہے اور ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں۔ بعض سادہ لوح فنکار یہ تک کہتے سنے جاتے ہیں کہ جس نے بھی ہماری طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی، ہم ’’ایٹم بم چلا دیں گے‘‘۔۔۔ اور یہ سوال بھی فرماتے ہیں کہ آخر یہ ’’بم‘‘ ہم نے کس دن کے لئے بنائے ہیں اور ان کا مصرف کیا ہے؟

بلاشبہ ہم ایک جوہری اور میزائلی قوت ہیں اور بلاشبہ جو دشمن بھی ہماری طرف ’’میلی آنکھ‘‘ اٹھا کر دیکھے گا، ہم اس کا خاتمہ کر دیں گے یا اسے قریب الاختتام انجام تک پہنچا دیں گے۔۔۔ لیکن یہی وہ مشکل موضوع ہے جس کی تفہیم اوسط پاکستانی قاری کے احاطہ ء فکر میں نہیں ہے اور جو لائی جانی چاہیے اور مَیں سمجھتا ہوں کہ میرے ’’شمشیرو سناں اول‘‘ کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کہ اپنے قارئین کو انفارم اور ایجوکیٹ کروں کہ بھارت اور پاکستان کو چھوڑ کر باقی پانچ علانیہ جوہری ممالک کے باسیوں کی تقدیر کیوں اوج پر ہے اور ہمارا مقدر پاتال میں کیوں گرا ہوا ہے۔۔۔ بظاہر یہ ایک بسیط اور وسیع موضوع ہے لیکن پریس میڈیا کے اوسط فہم و فراست کے قاری کو ان خدشات سے بھی آگاہ ہونا چاہئے کہ جو اس جوہری قوت اور میزائلی اہمیت کے حامل دوسرے ممالک کو درپیش ہیں۔

بعض جدید ممالک حیران ہیں کہ برصغیر کے ان دو ممالک(بھارت اور پاکستان) نے اپنی غربت و افلاس اور شدید پس ماندگی کے باوجود یہ جدید ترین جوہری اہلیت کیسے حاصل کر لی؟۔۔۔ جوں جوں وقت گزر رہا ہے ان دونوں ممالک کی جوہری مانگ زیادہ نکھر رہی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیں کہ اس مانگ میں سیندور بھی کم ہوتا جاتا ہے!

یادش بخیر1960ء کے عشرے میں امریکہ اور سوویت یونین دنیا کی دو سپر پاورز تھیں۔ یہ وہ وقت تھا کہ جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد یہ دونوں پاورز دنیا بھر میں اپنا حلقۂ اثر وسیع کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھیں۔ امریکہ کو زعم تھا کہ وہ جوہری قوت کا موجد ہے جبکہ سوویت یونین کو یہ احساسِ تفاخر نچلا نہیں بیٹھنے دیتا تھا کہ دوسری جنگِ عظیم میں اتحادیوں کی فتح میں امریکہ کے ایٹم بموں (ہیروشیما اور ناگا ساکی پر) نے وہ کلیدی رول ادا نہیں کیا تھا جو سوویت یونین نے1944-45ء میں ہٹلر کی نازی افواج کی کمر توڑنے اور اتحامدیوں کو فتح سے ہمکنار کرنے میں ادا کیا۔

بہرکیف 1960ء کے عشرے میں ان دونوں سپر پاورز میں یہ حریفانہ کشمکش جاری تھی۔دونوں کے پاس بین البراعظمی میزائل (ICBM) تیار تھے جو ماسکو اور واشنگٹن پر ترازو ہو چکے تھے۔دنیا ایک اور جوہری جنگ کے دہانے پر بیٹھی تھی۔کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ اگلی صبح، صبحِ قیامت ہوگی یا24گھنٹوں کی اور مہلت مل جائے گی۔الغرض یہ دونوں سپر پاورز ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر تلی ہوئی تھیں۔

کیوبا، امریکہ سے چند میل دور مغربی بحراوقیانوس میں جزیروں کا ایک مجموعہ تھا (جو آج بھی ہے) فیڈل کاسترو وہاں کا حکمران تھا (جو آج بھی ہے!) کیوبا میں کمیونزم تیزی سے پروان چڑھ رہا تھا جو امریکہ کے سرمایہ داری نظام کی عین ضد تھا(اور ہے) اور اسی سبب فیڈل کاسترو امریکی ایڈمنسٹریشن کی آنکھوں کا خار تھا۔۔۔۔ ایسے میں سوویت یونین نے چپکے چپکے جوہری بم اور میزائل روس سے کیوبا پہنچا دیئے۔ امریکہ کو اس کی خبر ہو ہوئی تو صدر کینیڈی نے مطالبہ کیا کہ ان کو واپس روس لے جایا جائے ورنہ ہم حملہ کرتے ان کو تباہ کر دیں گے۔ ہزاروں روسی انجینئرز دن رات کیوبا میں ان جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں کی تنصیب پر کام کر رہے تھے۔ کینیڈی نے الٹی میٹم دے دیا۔ سوویت یونین پر خروشیف کی حکمرانی تھی۔ وہ بھی اَڑ گیا، جوں جوں الٹی میٹم کی تاریخ اور وقت نزدیک آتا گیا، ساری دنیا دم بخود ہو کر بیٹھ گئی۔۔۔ شائد بارہ بارہ کوس پر دِیا جلنے والی پیشگوئی پوری ہونے کا لمحہ آن پہنچا تھا!

یہ وقت امریکی اور روسی حکمرانوں کے درمیان رسہ کشی کا بدترین دور تھا۔ اچانک خروشیف نے کینیڈی کو پیغام بھیجا:

’’مسٹر پریذیڈنٹ! اگر آپ کو خود پر کوئی قابو باقی ہے اور اگر آپ اس بات کو سمجھنے کا ذرا سا بھی شعور رکھتے ہیں کہ ہم دونوں کو رسّے کے اُن سِروں کو مزید نہیں کھینچنا چاہئے کہ جن میں سے ایک سرے پر آپ نے جنگ کی گرہ لگا دی ہے۔اب آپ اور مَیں دونوں ان گرہوں کو جتنا زیادہ کھینچیں گے یہ گرہیں اتنی ہی کَستی(Tight) جائیں گی۔حتیٰ کہ اس دوران ایک ایسا وقت بھی آ سکتا ہے کہ وہ شخص جس نے یہ گرہ باندھی تھی، وہ خود بھی اس کو نہیں کھول سکے گا اور پھر اس گرہ کو کاٹنا پڑے گا۔ اس کا مطلب کیا ہو گا اس کی تشریح کی مجھے کوئی ضرورت نہیں،کیونکہ آپ کو خوب معلوم ہے کہ ہم دونوں ممالک کے پاس کس قسم کی ہولناک فورسز (Dread Forces) موجود ہیں!‘‘

کرس گیگنی (Cris Gagni) جو جوہری جنگ و جدل کی تاریخ کا ایک معروف طالب علم سمجھا جاتا ہے، مَیں نے مندرجہ بالا تحریر، اس کے ایک مقالے سے لی ہے جس کا عنوان ہے:’’جنوبی ایشیاء میں جوہری جنگ کا خطرہ ٹالنے کا ایک مشترکہ لائحہ عمل‘‘۔

یہ مقالہ پڑھنے کی چیز ہے۔۔۔۔ وہ لکھتا ہے کہ خروشیف کی اس ہولناک دھمکی کے بعد بھی امریکی صدر نے اپنی ضد نہ چھوڑی اور آخر کار خروشیف ہی کو اپنے میزائل، کیوبا سے ہٹاتے بن پڑی۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے کسی دانشور، مبصر یا تجزیہ نگار کو اپنی جوہری اہلیت کی دھمکی نہیں دینی چاہئے۔ یہ جوہری قوت ایک ڈیٹرنٹ ضرور ہے لیکن ’’کیوبا بحران‘‘ کا سبق یہ ہے کہ جوہری بٹن دبانے سے پہلے خود کش حملہ آور کو سوچ لینا چاہئے کہ یہ دُنیا کئی بار برباد ہوئی اور پھر کئی بار ازسرِنوآباد ہوئی!

مزید :

کالم -