اندرون شہر: خطرناک عمارتیں؟

اندرون شہر: خطرناک عمارتیں؟

  

ایک مرتبہ پھر خبر شائع ہوئی کہ پرانے لاہور (اندرون شہر) میں چودہ سو عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے صرف 40عمارتوں کو زیادہ خطرناک قرار دے کر نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ خبر کے مطابق ورلڈ سٹی اتھارٹی بھی ناکام ہو گئی ہے اور یہ عمارتیں خالی نہیں کرائی جا سکیں اور ہزاروں زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب اندرون شہر کے حوالے سے یہ سروے رپورٹ شائع ہوئی ایسا ہر سال ہوتا اور بلدیاتی یا ضلعی انتظامیہ خطرناک عمارتوں کے مکینوں کو نوٹس دے کر خاموش ہو جاتی ہے اور اب والڈ سٹی اتھارٹی نے بھی یہی رویہ اپنایا ہے اور جانی نقصان سے بچنے کا کوئی طریقہ یا فارمولا نہیں بنایا۔یہ دیرینہ مسئلہ ہے، پرانے شہر میں مکانات قیام پاکستان سے بھی کہیں پہلے سے تعمیر ہوئے ہیں اور امتداد زمانہ سے شکست و ریخت کا شکار ہوتے چلے آئے ہیں، برسات کے موسم میں کئی بار حادثات بھی ہو چکے ہوئے ہیں اگرچہ بہت سی پرانی عمارتوں کی جگہ نئی تعمیر نے لے لی ہے لیکن جو حضرات صاحب حیثیت نہیں وہ معمولی مرمت کے سوا کچھ نہیں کر پاتے اور پھر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان عمارتوں میں کرایہ دار رہتے ہیں جو کم کرایہ ہونے کے باعث یہاں سے منتقل نہیں ہونا چاہتے اور مالک مکان مرمت نہیں کراتے اور عمارتیں خالی کرانا چاہتے ہیں۔خطرناک عمارتوں کے حوالے سے کئی بار غور ہوا اور ان کو خالی کراکے گرانے کی کوشش کی گئی نوٹس دیئے گئے لیکن ناکامی ہوئی۔ اس سلسلے میں یہی حل تجویز کیا جاتا ہے کہ حکومت مکینوں کے لئے متبادل رہائش کا انتظام کر دے اور ان عمارتوں کے مالکان کو آسان شرائط پر قرض مہیا کرنے کا اہتمام کرے کہ یہ تعمیر نوکراکے ان عمارتوں میں منتقل ہو سکیں۔ ان میں مقیم حضرات بے گھر ہونے کے خدشے کی وجہ سے جانوں کا خطرہ مول لے کر رہ رہے ہیں۔

مزید :

اداریہ -