اسلام آباد

اسلام آباد

  

اسلام آباد سے ملک الیاس

ملک کے دیگر علاقوں کی طرح جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی طوفانی موسلادھار بارشوں نے تباہی مچادی ہے ، مسلسل بارش کے باعث پارلیمنٹ ہاؤس کی چھتیں بھی ٹپکنا شروع ہو گئی ہیں جبکہ بالائی منزل میں نمی اور دوسری منزل پر مختلف جگہوں پر ملازمین نے بالٹیاں رکھ دی ہیں،کچی بستیاں زیرآب آگئیں،متعدد علاقوں میں کچے مکانوں کی چھتیں گرنے اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں اسلام آباد میں راول ڈیم بھرجانے سے سپل وے کھولنے پڑ گئے جبکہ راولپنڈ ی میں شدید بارشوں کے بعد نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد سے تجاوز کرگئی ہے جس کے بعد شہر میں سیلاب کی وارننگ جاری کرتے ہوئے نالے کے اطراف کی آبادیوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کے لیے خطرے کے سائرن بجادیئے گئے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر پاک فوج کے جوانوں کو الرٹ کردیا گیا ہے ،پاک فوج امدادی کاروائیوں کیلئے تیار ہے، ملک بھر میں کل 5 مارچ سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی بھی کی گئی ہے،بارشوں اور پہاڑی علاقوں پر برفباری سے جاتی سردی ایک بار پھر لوٹ آئی ہے۔لوگوں نے جو پچھلے دنوں گرم کپڑوں خاص کر سویٹرزکااستعمال ترک کرنا شروع کردیا تھا دوبارہ سے پہننے شروع کردیے ہیں بارشوں سے جہاں ایک طرف نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں وہاں متعلقہ اداروں کی نااہلی کا پول بھی کھل گیا ہے نکاسی آب کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے گلیوں سڑکوں پر پانی کھڑا ہے راولپنڈی کی حالت تو بہت ہی بری ہے کیونکہ میٹرو بس منصوبے کی وجہ سے مری روڈ کا نکاسی آب کا نظام پہلے ہی بری طرح تباہ ہوچکا ہے ساتھ ہی ساتھ اندرون شہر کی گلیاں اور سڑکیں بھی تالابوں کا منظر پیش کررہی ہیں پانی کھڑا رہنے کیوجہ سے وبائی امراض بھی پھوٹنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔حکومت کو اس طرف بھی فوری طور پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ جیسے ہی بارشیں رکیں گلیوں سے پانی کا اخراج بھی ممکن ہوسکے۔

ایک طرف ملک میں بارشوں نے تباہی مچائی ہوئی ہے تو دوسری طرف چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پاکستان پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) پر الزام لگایا ہے کہ یہ دونوں جماعتیں سینٹ کے حالیہ الیکشن کے حوالے سے ہارس ٹریڈنگ میں بری طرح ملوث ہیں،انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تحریک انصاف سینٹ انتخابات میں کسی بھی جماعت سے کوئی ڈیل نہیں کریگی اور نہ ہی کسی غیرجمہوری فعل کیلئے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حمایت کریگی،سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ پیپرز کے ذریعے کرانے کا مطالبہ تھا اور اے پی سی میں شرکت بھی اسی تناظر میں کی تھی ،خیبرپختونخواہ میں اگر ہارس ٹریڈنگ ہوئی تو خود اس کو منظرعام پر لاؤں گا،عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی لہذا اب چاہتے ہیں کہ سینٹ الیکشن صاف و شفاف ہوں انہوں نے حکومت پر بھی الزام لگایا کہ حکومت ہارس ٹریڈنگ کو روکنے لئے آئینی ترمیم کرنے میں سنجیدہ نہیں حکومت اگر سنجیدہ ہوتی تو وزیراعظم محمدنوازشریف سعودی عرب جانے کا پروگرام نہ بناتے ،دوسرے جانب یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ حکومت نے ہارس ٹریڈنگ کیخلاف قانون سازی کیلئے بائیسویں آئینی ترمیم کو واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کی بڑی وجہ پیپلز پارٹی،اے این پی اور جے یو آئی (ف) کی مخالفت بیان کی جارہی ہے ،لگتا ہے کہ حکومت قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئینی ترمیم کا مسودہ پیش نہیں کریگی،سینٹ انتخابات میں بلوچستان اور خیبرپختونخواہ،فاٹا سے ہارس ٹریڈنگ کی خبریں آرہی ہیں لگتا ہے سیاسی جماعتوں کے سربراہان بھی سینٹ کے ووٹ خریدنے والے والی ارب پتی شخصیات کے آگے بے بس ہوچکے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید کا سینٹ انتخابات پر کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو ہارس ٹریڈنگ سے محفوظ رکھنے کیلئے مخلصانہ کوششیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان انتخابی اصلاحات کمیٹی میں اپنا کردار ادا کرتے تو سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا راستہ بند ہوچکا ہوتا۔عمران خان کو یہ بات سمجھ آ جانی چاہئے کہ سیاسی نظام میں بہتری محاذ آرائی سے نہیں مفاہمت اور تعاون سے ہی ممکن ہے۔موقع پرستی کی جس وباء کا شکار پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں ہوئی وہ عمران خان کے اپنے فلسفہ سیاست کی پیداوار ہے۔حکومت نے اپنی جماعت کے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کوہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنی متعلقہ اسمبلیوں کے اجلاسوں میں حاضری کو یقینی بنائیں اسی ہفتے طلب کیے گئے اجلاسوں میں اسمبلیان آئندہ مدت کیلئے سینٹ کے نئے ارکان منتخب کریں گی۔

اسلام آباد میں ایک بار پھر کئی برسوں کے بعد 23مارچ کو مسلح افواج کی پریڈ کاانعقاد کیا جارہا ہے ،وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اسلام آباد پولیس کے 23 مارچ کی پریڈ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرنے والے دہشت گردوں کی گرفتاری کے دعویٰ پر مبنی خبروں کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور اس پر شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے ایسی خبروں کو خوف و ہراس پھیلانے کے مترادف قراردیا ہے اس معاملہ پر آئی جی اسلام آباد کی سرزنش بھی کی گئی ہے،قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے 23 مارچ کی پریڈ کی سیکیورٹی کیلئے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ دن رات محنت کر رہے ہیں۔

حکومت نے وزیراعظم کی ہاؤسنگ سکیم کے تحت کم آمدنی والے افراد کیلئے ملک بھر میں کم لاگتی ہاؤسنگ یونٹس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں ضلع چارسدہ ، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، لاہور، جہلم، کراچی، حیدر آباد، کوئیٹہ اور گوادر میں قطعہ اراضی کی نشاندہی بھی کر لی گئی ہے،حکومت کے لوگوں کے ساتھ کیے گئے وعدے کے مطابق 5 لاکھ مکانات کی بڑی تیزی سے تعمیر کروانا ہوگی یہ سستے مکانات آسان ماہانہ اقساط پر عوام کو دیئے جائیں گے،سکیم پر جلد از جلد عملدرآمد کیلئے وزارت ہاؤسنگ نے متعلقہ حکام کو تمام رکاوٹیں فوری دورکرنے کی ہدایات بھی دی ہیں،حکومت کا کم آمدنی والے افراد کیلئے یہ ایک بہترین اقدام ہے کیونکہ اس وقت ملک میں ایک بڑی آبادی اپنی چھت سے محروم ہے اس طرح انہیں آسان اقساط پر سستے مکانات مہیا ہوسکیں گے دوسری طرف حکومت کی یہ بھی کوشش ہے کہ یہ سکیم انہی کے دورحکومت میں پایہ تکمیل کو پہنچے تاکہ اس کے ثمرات جہاں عوام کو ملیں وہیں حکومت کی کارکردگی کو بھی عوام سراہ سکیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -