آٹھ برس میں دالوں کی قیمتوں میں 100گنا اضافہ

آٹھ برس میں دالوں کی قیمتوں میں 100گنا اضافہ

  

اسلام آباد(آئی این پی)گزشتہ آٹھ برس میں صرف دالوں کی قیمتوں میں 100 گنا اضافہ ہوگیا ۔ عوام دالیں بھی نہیں کھاسکتے، آٹھ سال قبل مونگ کی دال اڑتالیس روپے کلو تھی جو آج کے دور میں ایک سو ستر روپے فی کلو میں فروخت ہورہی ہے۔ پاکستانی عوام کے لیے ہر الیکشن کے بعد قیادت تو ضرور بدلتی ہے لیکن ان کے حالات نہیں بدلتے بلکہ ہر گذرتے وقت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے۔ پہلی بار جمہوری حکومت پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے اقتدار کے پورے پانچ سال مکمل کیے اور جمہورت کے پروان چڑھنے کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ایک جائزے کے مطابق اگر صرف دالوں کی بات کی جائے تو اس وقت غریب صرف اس کے بارے میں سوچ ہی سکتا ھے دوہزار آٹھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت سے موجودہ میاں نواز شریف حکومت کا موازنہ کیا جائے تو صرف دالوں کی قیمت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ دوہزار آٹھ میں مسور کی دال تہتر روپے تاہم اب ایک سو بائیس روپے فی کلو ھے۔ مونگ کی دال اڑتالیس روپے تھی جو اب ایک سو ستر روپے فی کلو ہے۔ماش کی دال ساٹھ روپے فی کلو تھی جو اب ایک سو پینتالیس روپے کلو ھیارہڑ کی دال ستر روپے تھی جو اب ایک سو پچیس روپے کلو ھیچنے کی دال جو چوالیس روپے تھی اور اب پچھتر روپے فی کلو میں فروخت ہورھی ہے۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہر گذرتے لمحے غریب کا دستر خوان مزید چھوٹا ہوتا چلا جا رہا ہے۔

مزید :

کامرس -