پندرہ کروڑ کے گھوڑے کی تلاش

پندرہ کروڑ کے گھوڑے کی تلاش
پندرہ کروڑ کے گھوڑے کی تلاش

  

سینیٹ کے انتخابات بائیسویں ترمیم کے بغیر ہی ہو رہے ہیں۔ بیلٹ پیپر پر ووٹر کا نام بھی نہیں ہو گا۔تحریک انصاف کے قائد عمران خان شکوہ پر شکوہ کر رہے ہیں۔ کہ ایک تو میاں نواز شریف اور ان کے اتحادی بائیسویں ترمیم کے لئے سنجیدہ نہیں ہیں اور دوسرا بڑا شکوہ یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی اس ترمیم کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ عمران خان کا یہ شکوہ کس حد تک جائز ہے۔ کہتے ہیں کسی پر الزام لگانے سے پہلے اپنے کردار کو بھی دیکھنا چاہئے۔ یہ بائیسویں ترمیم کسی کنٹینر پر نہیں ہونی تھی ۔ بلکہ قومی اسمبلی میں ہو نا تھی۔ اور عمران خان اور ان کی جماعت خود تو قومی اسمبلی میں آنے کے لئے تیار نہیں۔ بلکہ یہ چاہتی ہے کہ وہ خود تو گھر بیٹھے رہیں لیکن دوسری جماعتیں ان کی حسب منشا ترامیم کرکے بنی گا لا پہنچا دیں۔ چونکہ دوسری جماعتوں نے ان کی یہ خواہش پوری کرنے سے انکار کر دیا ہے اس لئے وہ ان سے ناراض ہیں۔ دوسری طرف ایک روز قبل دانشوروں کی ایک غیر سرکاری محفل میں اس بات پر کافی دیر بحث ہوتی رہی کہ کیا۔ عمران خان نے سابق صدر آصف زرداری کو خود فون کیا تھا۔ یا آصف زرداری نے عمران خان کو فون کیاتھا۔ میں نے ان دانشوروں سے پوچھا کہ آپ کے نزدیک یہ بات اتنی اہم کیوں ہے کہ کس نے کس کو فون کیا۔ تو ان کا موقف تھا کہ اگر آصف زرداری نے عمران خان کو فون کیاتو یہ کوئی غیر معمولی خبر نہیں ہے ۔ لیکن اگر عمران خان نے آصف زرداری کو فون کیا ہے تو اس کی ان کے نئے پاکستان میں گنجائش نہیں ہے۔ آصف زرداری نے تو عمران خان کو ڈاکو یا چور قرار نہیں دیا تھا ۔ لیکن عمران خان تو دھرنا کنٹینر سے مسلسل آصف زرداری کو ڈاکو اور چور کہتے رہے ہیں۔ اسی لئے بڑے کہتے ہیں پہلے تو لو پھر بولو۔ عمران خان اپنے دھرنا کنٹینر سے کی جانیوالی تقریروں کے حوالے سے یقیناًمشکل میں ہیں۔ انہوں نے دھرنا کنٹینر سے جس جس کو برا بھلا کہا ہے ۔ اب انہیں ملک کی سیاست میں ان کے ساتھ ہی چلنا پڑ رہا ہے۔ جو یقیناًان کے لئے ایک کڑوی گولی ہے۔ اور سب کے لئے ایک سبق بھی۔

عمران خان کی جماعت میں اس وقت سب سے زیادہ گروپ بندی ہے۔ عمران خان نے اپنی پارٹی کے ایک رکن جاوید نسیم کی رکنیت ختم کر دی ہے کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کے کاغذات سینیٹ انتخابات کے لئے تجویز کر دئے تھے۔ ا س سے پہلے وہ اپنی پارٹی کے صدر جاوید ہاشمی کو بھی ن لیگ کی حمایت کرنے پر پارٹی سے نکال چکے ہیں۔ حالانکہ وہ منتخب صدر تھے۔ یہ بھی کہا جا رہاہے کہ عمران خان کی جماعت میں بغاوت نے پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کو بائیسویں ترمیم سے دور رکھا ہے ۔ عمران خان کا یہ موقف درست ہے کہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ ہو نا چاہئے۔ لیکن کوئی ان سے پوچھنے کی جرات کر سکتا ہے کہ وہ اپنی جماعت میں ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لئے کیا کر رہے ہیں۔ تسنیم نورانی کی رپورٹ میں ان کی اپنی جماعت میں ٹکٹوں کی خرید و فروخت کے جس سکینڈل کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس پر عمران خان نے خاموشی کیوں اختیار کی ہوئی ہے۔ کیوں وہ اپنی جماعت میں ٹکٹوں کی فروخت پر تو کوئی ایکشن لینے کے لئے تیار نہیں ۔ اور یہ خواہش رکھتے ہیں کہ باقی جماعتیں ان کا گند صاف کریں۔ عمران خان نئے پاکستان کا نعرہ لیکر میدان میں آئے۔ انہوں نے نعرہ لگا یا کہ وہ با کردار اور پڑھی لکھی ایماندار قیادت سامنے لائیں گے۔ لیکن کیا ہوا ۔ آج عمران خان کو ہی شکایت ہے کہ ان کی جماعت میں ضمیر فروشوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ کیا وہ اپنا اور اپنے پارلیمانی بورڈ کے احتساب کا حوصلہ رکھتے ہیں کہ اس نے اس قدر ضمیر فروشوں کو ٹکٹ کیوں جاری کئے۔ کیا وہ اس کا خود کوْ قصور وار نہیں سمجھتے۔

اس ساری صورتحال میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے عمران خان کو عجیب چیلنج دے دیا ہے۔ انہوں نے عمران خان کو چیلنج دیا ہے کہ وہ بتائیں کہ انہیں سینیٹ کی ٹکٹ کے لئے پندرہ کروڑ روپے کی پیشکش کس نے کی ہے۔ اس کے ساتھ پرویز رشید نے عمران خان کو دھمکی بھی لگا دی ہے کہ اگر وہ نہیں بتائیں گے تو وہ بتا دیں گے کہ تحریک انصاف نے کس کو پندرہ کروڑ روپے سے زائد رقم لیکر ٹکٹ دیا ہے۔ ایک رائے تو یہ بھی ہے کہ یہ چیلنج بھی باقی چیلنج کی طرح سیاسی بیان بازی کا شکار ہو جائے گا۔ اور جواب میں شیریں مزاری صاحبہ ایک زبردست پریس کانفرنس کر کے معاملہ کو گول کرنے کی کوشش کریں گیں اور انم سامنے نہیں آئے گا۔ لیکن تجزیہ نگاروں کی رائے یہ بھی پرویز رشید ساحب نے بھی موقع کی مناسبت سے صرف سکو ر کیا ہے۔ وہ بھی نام سامنے نہیں لائیں گے۔ یہی پاکستان کی سیاست کا حسن ہے۔ عمران خان پر یہ تنقید بھی کسی حد تک جائز ہے کہ جب سے ان کی جماعت کو مقبولیت ملی ہے ۔ وہ بھی سیاست کو انجوائے کرنے لگ گئے ہیں۔ ساری عمر انہوں نے مختلف ائیر لائنز کی معمول کی پروازوں میں سفر کیا ہے۔ لیکن اب وہ چارٹر طیاروں میں سفر کرنا پسند کرتے ہیں۔ بڑی گاڑیوں میں سفر کرنا پسند کرتے ہیں۔ وہ پاکستانی سیاست کے رنگوں میں نہائے جا چکے ہیں۔

مزید :

کالم -