خارجہ سیکرٹریوں کے مذاکرات :بھارت دہشتگردی میں ملوث ہے :پاکستان

خارجہ سیکرٹریوں کے مذاکرات :بھارت دہشتگردی میں ملوث ہے :پاکستان

  

 اسلام آباد(آئی این پی، آن لائن، مانیٹرنگ ڈیسک) خارجہ سیکرٹریوں کے مذاکرات میں پاکستان نے بھارت کو دہشت گردی میں ملوث قرار دیا ہے اور سمجھوتہ ایکسپریس میں دہشت گردی کی تحقیقاتی رپورٹ نہ آنے پر بھی اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر مسئلہ کشمیر ، سیاچن اور سرکریک کے معاملات پر گفت و شنید ہوئی اورپاکستان نے کنٹرول لائن پر بلا اشتعال بھارتی فائرنگ کا معاملہ بھی اٹھایا۔تفصیل کے مطابق گزشتہ روزبھارت کے سیکریٹری خارجہ ایس جے شنکر ، مشیر خارجہ سرتاج عزیز ،وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ اور پاکستانی سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری کے درمیان غیر رسمی مذاکرات ہوئے جبکہ ایس جے شنکر اور اعزاز احمد چودھری کے درمیان دفتر خارجہ میں ملاقات ہوئی۔ملاقات میں دونوں ملکوں کے نمائندوں نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے بات چیت کی ، بعد ازاں دونوں ملکوں کے وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے ، بھارتی وفد کو سرحدی معاملات پر بریفنگ بھی دی گئی،بعد ازاں بھارتی سیکرٹری خارجہ ایس جے شنکر نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی سے ملاقات کی اور ان سے مختلف امور پر تبادلہ خیالات کیا۔ بعدازاں وزیر اعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے بھی بھارتی سیکرٹری خارجہ نے ملاقات کی ، اس موقع پر دوطرفہ تعلقات ، سرحدی کشیدگی خطے کی تازہ ترین صورتحال سمیت دیگر اہم امورپر بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں پاکستان نے سرحدی کشیدگی اوردیگر تحفظات بھارتی سیکرٹری خارجہ کے سامنے رکھے۔ملاقات کے بعد میڈیا سے مختصر گفتگو میں بھارتی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ مثبت ماحول میں ہونے والی یہ بات چیت تعمیری رہی۔انھوں نے کہا کہ اس ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات پر بھی بات ہوئی اورہم نے کھلے ذہن کے ساتھ ایک دوسرے کے خدشات اور مفادات پر بات کی۔ایس جے شنکر کے مطابق ملاقات میں دونوں ملکوں نے ساتھ مل کر کام کرنے، اتفاقِ رائے کے نکات تلاش کرنے اور اختلافات کم کرنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں اختلافات اور سرحدی کشیدگی ختم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ سرحد پر امن قائم رکھنا انتہائی اہم ہے۔ایس جے شنکر نے بتایا کہ ملاقات میں بھارت کی جانب سے ممبئی حملوں سمیت سرحد پار دہشت گردی کے معاملات پر اس کے دیرینہ موقف کو دہرایا گیا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے سارک کو آگے بڑھانے کے معاملات پر بھی بات چیت کی ۔پاکستان سارک کا اگلا چیئرمین ہوگا اور بھارت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے تاکہ سارک اپنی بھرپور استعداد کے مطابق کام کر سکے۔جے شنکرکاکہناتھاکہ ہمسایہ ممالک سے بہترتعلقات چاہتے ہیں ، سارک میں پاکستان کے ساتھ مل کرکام کرنے کوتیارہیں۔واضح رہے کہ بھارت نے گذشتہ برس دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کی کشمیری حریت رہنماؤں سے ملاقات کو جواز بنا کر پاکستان سے سیکریٹری سطح کے مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس اقدام کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ دو طرفہ مذاکرات کی بحالی بھارت کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ عمل اسی نے معطل کیا ہے۔ایس جے شنکر کے اس دورہ پاکستان کی اطلاع 13 فروری کو بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے پاکستانی وزیرِ اعظم کو ٹیلیفونک بات چیت میں دی تھی۔خیال رہے کہ بھارت میں قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں تلخی میں اضافہ ہوا ہے۔گذشتہ برس لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی جانب سے سرحدوں پر بلااشتعال فائرنگ کے متعدد واقعات پیش آئے جس کی وجہ سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تھا۔ذرائع کے مطابق پاکستان کی طرف سے بات چیت میں خاص طور پر لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی جارحیت اور بلوچستان میں بھارت کی طرف سے شرپسندوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندر دہشتگردی میں مبینہ طور پر بھارت کے ملوث ہونے کے ایشوز کو اٹھایاگیا جبکہ بھارت نے ایک بار پھر ممبئی حملوں کا معاملہ اٹھا کر پاکستان سے حافظ سعید کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری کی پریس کانفرنس میں نمائندوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہ سبرامنیم جے شنکرسے مسئلہ کشمیر، سیاچن اور سرکریک سمیت تمام اہم امور پر بات چیت ہوئی۔ جبکہ بلوچستان اور فاٹا میں بھارتی مداخلت، سمجھوتہ ایکسپریس اور سرحدی کشیدگی کا معاملہ بھی اٹھایا گیااور 2003ء4 کے سیز فائر امن معاہدے پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی جانب سے مسلسل فائرنگ کے واقعات پر پاکستان کو انتہائی تشویش ہے۔ اعزاز احمد چودھری نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سارک کو مزید فعال بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح کے رابطوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ سبرامنیم جے شکنر نے وزیراعظم محمد نواز شریف سے بھی ملاقات کی اور انھیں بھارتی ہم منصب نریندر مودی کا خط پہنچایا۔

مزید :

صفحہ اول -