پنجاب اسمبلی میں بھارت سے ڈیوٹی فری اجناس کی درآمد پر ٹیکس کی قرار داد منظور

پنجاب اسمبلی میں بھارت سے ڈیوٹی فری اجناس کی درآمد پر ٹیکس کی قرار داد منظور

  

 لاہور ( نمائندہ خصوصی ) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بھارت سے درآمد کی جانے والی ڈیوٹی فری اجناس پر ٹیکس لگانے سمیت ٹریفک حادثات کے ذمہ داران کو سخت ترین سزا دینے اور ارکان اسمبلی و بیورو کریٹس کے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلے کی قراردادیں منظور کر لی گئیں۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز ایک گھنٹہ اور10منٹ کی تاخیر سے قائمقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی کی زیر صدارت شروع ہوا تو غیر سرکاری ارکان کی کارروائی کے دوران جماعت اسلامی کے ڈاکٹر سید وسیم اختر نے ایک قرارداد پیش کی کہ بھارت سے ڈیوٹی فری زرعی اجناس کی درآمد سے مقامی کسان کومسلسل نقصان پہنچ رہا ہے لہٰذا وفاقی حکومت ان اجناس کی درآمد پر ٹیکس عائد کرے تاکہ مقامی کسان اپنی محنت کا صلہ پاسکے ،حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کے وزیر خلیل طاہر سندھو نے قرارداد کی مخالفت نہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد میں وفاق سے مطالبہ کیا گیا ہے لہٰذا اس قرارداد کی منظور ی پر پنجاب حکومت کو کوئی اعتراض نہیں تاہم حکومتی رکن میاں نصیر احمد نے قرارداد کی مخالفت کی، اجلاس میں اپوزیشن رکن احمد شاہ کھگہ نے ’’روڈ ایکسیڈنٹ‘‘ میں ہلاکت کے ذمہ داروں کو کو سخت سے سخت سزا دینے کے ساتھ ساتھ بھاری جرمانے عائد کرنے کی قرارداد پیش کی جبکہ حکومتی رکن اعجاز احمد شیخ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کے معیار تعلیم میں اضافے نیز متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبا و طالبات کے احساسِ محرومی کے خاتمے کیلئے اراکین اسمبلی اور بیورو کریٹس کو ترغیب دی جائے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں داخل کرائیں،اجلاس کے دوران پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے ایم پی اے خرم جہانگیر وٹو نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نابینا افراد کے حقیقی مطالبات پر غور کیا جائے ۔خدیجہ عمر فاروقی نے مطالبہ کیا بصارت سے محروم شہریوں کو ان کے حقوق دئیے جائیں جس پرقائم مقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی نے کہا کہ خصوصی افرادنے ہماری طرف سے دی جانے والی عزت کاناجائز فائدہ اٹھایا گیا اور اسمبلی کا صدر دروازہ توڑنے کی کوشش کی گئی لہٰذاانہیں اپنے رویے پر نظرثانی کرنی چاہیے، اس مرحلے پر انسانی حقوق کے وزیر خلیل طاہر سندھو نے کہا کہ بصارت سے محروم افراد کو بصیرت سے محروم کچھ لوگ اشتعال دلا رہے ہیں۔ قبل ازیں وقفہ سوالات کے دوران سرکاری محکموں کی جانب سے سوالات کے درست جوابات موصول نہ ہونے پر ارکان نے احتجاج کیا جبکہ پارلیمانی سیکرٹری مہوش سلطانہ کے’’سوری سوری کے جوابات‘‘ سے ارکان محظوظ ہوتے رہے۔ اجلاس میں اپوزیشن رکن خدیجہ عمر فاروقی نے قائم مقام سپیکر کے روئیے کو متعصبانہ قرار دیا تو سپیکر نے انہیں ایسی بات کرنے سے منع کردیا جس پر اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

پنجاب اسمبلی

لاہور ( نمائندہ خصوصی ) کم عمری کی شادیوں کی روک تھام اور سزا کے قانون میں ترمیم کا بل پنجاب اسمبلی میں پیش کردیا گیا ، غیر سرکاری ارکان کی کارروائی کے دوران پیپلز پارٹی کے ایم پی اے خرم جہانگیر وٹو نے بل پیش کیا تھاجسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ہے۔ مذکورہ بل میں کم عمری کی شادی پر جرمانے کی شرح کو ایک ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے جبکہ قید کی مدت بھی ایک سال سے بڑھا کر تین سال کرنے کی تجویز دی گئی ۔

مزید :

صفحہ اول -