شاہ سلمان کی دعوت، وزیراعظم سعودی عرب کے سہ روزہ دورے پر!

شاہ سلمان کی دعوت، وزیراعظم سعودی عرب کے سہ روزہ دورے پر!

  

تجزیہ، چودھری خادم حسین

وزیراعظم محمد نواز شریف سعودی عرب کے فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر آج سعودی عرب کے سہ روزہ دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ یہ دورہ بڑی اہمیت کا حامل ہے وزیراعظم اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور سعودی حکام کے درمیان مذاکرات ہوں گے، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مثالی اور دیرینہ ہیں اِن مذاکرات میں جہاں پاکستان کو درپیش مسائل پر بات ہو گی وہاں خطے کی صورت حال اور افغانستان کے حوالے سے بھی حالات پر غور ہوگا،اس دورے کے پس منظر میں جو خصوصی خبر ہے وہ یہ کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مسلم امہ کو درپیش مشکلات اور عالم اسلام کے تنازعات کے حل میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے وہ پاکستان کے علاوہ ترکی،مصر اور دوسرے دوست مسلمان ممالک کے سربراہوں سے بھی ملاقات کریں گے اور امکان ہے کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں اسلامی کانفرنس کا سربراہی اجلاس بلا لیا جائے۔ مقصد یہ ہے کہ مسلم اُمہ اپنے معاملات اور تنازعات کو خود مل بیٹھ کر بھی حل کرنے کی کوشش کرے۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور وزیراعظم محمد نواز شریف کے درمیان افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی کوششوں کا بھی ذکر ہو گا۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز اپنا تعاون بھی پیش کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم محمد نواز شریف کا روانگی سے قبل بہت مصروف وقت گزرا یہاں پارٹی کے رہنماؤں سے بات ہوئی تو سینٹ کے انتخابات کے حوالے سے بھی رپورٹ لے کر ہدایات دیں۔گزشتہ روز بھارتی سیکرٹری خارجہ جے شنکر نے بھی اُن سے ملاقات کی، جو دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں ان کی آمد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہدایت پر ہے اور یہ ٹوٹے مذاکرات کو پھر سے شروع کرنے کی پہل ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ ختم بھی بھارتی وفد نے حکومت کے ایماء پر کیا تھا۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے بہرحال یہ کہا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک سے خوشگوار تعلقات کا حامی اور بھارت کے ساتھ ہر نوع کے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ آج پاکستان کی وزارت خارجہ کے حکام اور اپنے ہم منصب سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ بظاہر فریقین اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں اور بھارت نے بھی ایجنڈے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے تاہم فریقین اس سلسلے کو ٹوٹنے سے بچائیں گے۔ پاکستان نے اس بار بھارتی سیکرٹری خارجہ کی آمد سے قبل حریت رہنماؤں سے مشاورت نہیں کی یہ بعد میں بھی ہو سکتی ہے۔ بہرحال بھارت والے راہداری اور تجارت میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

پاکستان کا سین اپنی جگہ ہے،سینٹ کے انتخابات کے طریق کار پر اتفاق نہیں ہوا، شو آف ہینڈ کی تحریک موخر کر دی گئی، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پھر ایک دم برسے ہیں۔ انہوں نے آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کو ہارس ٹریڈنگ کا ذمہ دار قرار دیا تو وزیراعظم کی نیت پر شبہ ظاہر کر دیا ہے وہ تمام توقعات پھر سے منہدم ہو گئیں جو حالات کی بہتری کے حوالے سے تھیں، اب پھر عمران خان الٹی میٹم پر اتر آئے ہیں، جنرل (ر) پرویز مشرف بھی بول رہے ہیں۔پرانا فارمولا پھر سے عمل درآمد کا منتظر ہے اور اس کے لئے قوتیں سرگرم عمل ہیں۔کل(5مارچ) کے بعد عمران خان مزید برہم ہوں گے اور نجانے کیا کہہ گزریں!

مزید :

تجزیہ -