پہلی بار سینیٹ کی خفیہ رائے شماری کے خلاف بھرپور آواز اُٹھائی گئی

پہلی بار سینیٹ کی خفیہ رائے شماری کے خلاف بھرپور آواز اُٹھائی گئی

  

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) انتظار کی گھڑیا ں ختم ہو نے میں ایک دن باقی ، ہارس ٹریڈنگ اور 22ویں آئینی ترمیم کے پرشور اور ہنگامہ خیز دن گزرنے کے بعد کل سینٹ کا الیکشن ہوگا۔چاروں صوبوں ، وفاقی دارالحکومت اور فاٹا کی مجموعی طورپر 48نشستوں کے لیے 131امیدوار میدان میں اترینگے۔جبکہ چار امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔معلوم ہواہے کہ ملک میں سینٹ کی آئندہ چھ سالہ مدت کے لیے 52میں سے 48نشستوں پر الیکشن کل پانچ مارچ کو ہورہا ہے۔کیونکہ اس الیکشن میں سندھ کی علماء وٹیکنو کریٹس اور خواتین کے لیے مخصوص چار نشستوں پر پیپلز پارٹی کے فاروق ایچ نائیک و سسی پلیجو اور ایم کیو ایم کے بیرسٹر سیف اور نگہت مرزاسیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب قرار پاچکے ہیں۔سینٹ الیکشن کے لیے مجموعی طورپر ایک سو84امیدوار سامنے آئے اور سکروٹنی و کاغذات کی واپسی کے دن تک یہ تعدادکم ہو کر ایک سو 31رہ گئی ہے۔پاکستان میں ایوان بالا کا الیکشن ہر تین سال بعد ہوتا ہے۔ اور نصف ارکان نئے سرے سے چنے جاتے ہیں۔ سینٹ الیکشن خفیہ رائے شماری کے تحت ہوتا ہے۔موجودہ الیکشن اس حوالے سے انفرادیت کا حامل ہے کہ پہلی بار ملک میں سینٹ الیکشن کی خفیہ رائے شماری کے خلاف بھر پور آواز اٹھائی گئی ۔ اور حکمران جماعت کے علاوہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے بھی سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے آئین میں 22ویں ترمیم لانے کی حمایت کی لیکن پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف ) نے اختلاف کیا۔یہ خواہش ملک بھر کے اور خصوصاً فاٹا کے اراکین اسمبلی کی بھی تھی کہ سینٹ الیکشن میں خفیہ رائے شماری ختم کرتے ہوئے شو آف ہینڈز کے ذریعے ووٹنگ کا طریقہ رائج نہ ہوسکے۔ تاکہ امیدواروں سے پیسے بٹورنے کا یہ موقع ہاتھ سے نہ جائے۔یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ آئینی ترمیم اس حد تک لائی جائے کہ بیلٹ پیپر پر امیدوار کے نام کا خانہ بنایا جاسکے۔لیکن یہ تجویز بھی آگے نہ بڑھ سکی۔اس عرصے کے دوران ملک میں ہارس ٹریڈنگ اور آئینی ترمیم کے حوالے سے شور اور ہنگامہ رہا لیکن تما م تر ہنگامہ خیزیوں کے بعد بلآخر سینٹ کا الیکشن کل خفیہ بیلٹنگ کے ذریعے منعقد ہورہا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -