متعدد مقدمات اشتہاری پٹواری گرفتار سی او قصور نے ملزم کو فوری تحفظ دیدیا

متعدد مقدمات اشتہاری پٹواری گرفتار سی او قصور نے ملزم کو فوری تحفظ دیدیا

  

لاہور(اپنے نمائندے سے)محکمہ انٹی کرپشن نے 6سال بعد متعدد مقدمات میں اشتہاری اور محکمہ انٹی کرپشن کو مطلوب پٹواری گرفتار کر لیا، تاہم سی او قصور کی جانب سے ریمانڈ، برآمدگی اور تحقیقات کرنے کی بجائے ملزم کو فوری تحفظ فراہم کر دیا گیا،انصاف کے حصول کیلئے آنے والے شہریوں کو انصاف ملنے کی بجائے مجرموں کو مکمل تحفظ ملنے لگا،4سال اپنی ملکیتی خرید کردہ اراضی جعلسازی سے منتقل کئے جانے کے ثبوت پیش کرنے والا بستر مرگ پر جا لگا۔انصاف مہیا کرنے میں تاخیر برتنے اور ملزمان کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے کیس کو الجھانے پر ڈی جی انٹی کرپشن اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے ، ذرائع کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے علاقہ ساندہ کلاں کے رہائشی محمد اکرام ولد سلطان دین کی زمین کے ساتھ 1994-95میں 254کنال 10مرلہ زمین خریدی جس کا باقاعدہ ریکارڈ میں انتقال بھی درج کیا گیااور موقع پر زمین پر قبضہ بھی مذکورہ شخص کے پا س ہے،تاہم سال 2010میں موضع موجوکی کے پٹواری محمد بشیر اور منشی علی شیر نے مقامی بااثر اافراد کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے اپنے ایک تیار کردہ جعلی شخص کے جعلی شناختی کارڈ محمد اکرم ولد سلطان دین اور مشکوک ایڈریس لکھ کر تیا ر کروایا اور بعد ازاں اس کی فرد جاری کرتے ہوئے 25کنال اراضی منتقل کرنے کی کوشش کی،اس ضمن میں ایک رجسٹری بھی پاس کروا لی تاہم اطلاع ملنے پر مذکورہ سائل نے انصاف کے حصول کیلئے انٹی کرپشن آفس میں درخواست دائر کر دی اور ریکارڈ پر حکم امتناہی حاصل کرتے ہوئے اندراج کروا دیا ،چھ ماہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد الزام ثابت ہونے پر ضلع قصور کے ڈپٹی ڈائریکٹر ظفر اقبال شاکر نے مقدمہ نمبر 16/11درج کرتے ہوئے مزید ملزمان کے کردا ر کا تعین کرتے ہوئے تحقیقات بڑھانے کی استدعا کی اور بعد ازاں ظفر اقبا ل شاکر کی تبدیلی کے بعد کیس کی تفتیش سرکل آفیسر قصور مجید الرحمان کے سپر د کر دی گئیں جس نے مزید تحقیق کے بعد ملزمان کے خلاف جوڈیشل ایکشن کی منظوری کے لئے تحریر کیا تاہم اس دوران مذکورہ آفیسر بھی تبدیل ہو گیااور کیس کی تفتیش سلیم اللہ لاشاری سرکل آفیسر قصور کو ملی جس نے کیس کے ابتدائی دنوں بعد ہی ملزمان کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی او ر مدعی کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک برتنے لگا جس پر مدعی اکرم ولد سلطان دین نے ڈی جی انٹی کرپشن کو درخواست اور تفتیشی آفیسر پر عدم اطمینا ن ظاہر کیا جس پر ڈی جی انٹی کرپشن نے ڈائریکٹر انٹی کرپشن طارق محمودکو ازخود تحقیقات کرنے کی ہدایات کیں بعد ازاں ڈائریکٹر انٹی کرپشن نے سلیم اللہ لاشاری کو ہدائت کہ جس شناختی کارڈ کی بنیاد پر رقبہ منتقل کیا گیا ہے اس شخص کے انگوٹھے اور دستخط فرانزک لیبارٹری سے ٹیسٹ اور نادرا سے شناختی کارڈ کی تصدیق کی ہدائت کی جو نظر انداز کر دی گئی۔بعد ازاں ڈی جی انٹی کرپشن پنجاب کی جانب سے اس کیس کی تحقیقات ہیڈ کوارٹر میں کروائی گئیں جس کے بعد مذکورہ پٹواری کے خلاف جوڈیشل ایکشن کی منظوری دے دی گئی تاہم ضلع قصور کے انوسٹی گیشن افسروں نے اشتہاری ملزم سے نمک حلالی کرتے ہوئے مکمل تحفظ فراہم کیا اورمزید ایک سال کا عرصہ مذکورہ پٹواری اشتہاری ہونے کے باوجود سرعام نوکری کرتا رہا ،،ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ پٹواری کے خلاف مقدمہ نمبر 52/13,65/11,47/13کابھی اندراج بھی محکمہ انٹی کرپشن میں موجود ہے اور ان میں مذکورہ پٹواری اشتہاری بھی ہو چکا ہے گزشتہ روز مقدمہ نمبر 16/11کے مدعی محمد اکرم نے مذکورہ اشتہاری پٹواری کو گرفتار کرکے سی او قصور کے حوالے کیا تاہم مذکورہ تفتیشی آفیسر خالد اسلم نے پٹواری سے برآمدگی کرنے کی بجائے فوری جوڈیشل کرتے ہوئے جیل بھجوا دیا اور دیگر مقدمات میں مطلوب ہونے کے باوجودکوئی گرفتاری نہ ڈالی سی او قصور کا کہنا تھا کہ ڈی جی انٹی کرپشن کے حکم پر مذاکورہ پٹواری کو جیل بھجوا دیادوسری جانب ڈی جی انٹی کرپشن نے روزنامہ پاکستان کو آگاہی دی ہے کہ موجودہ کیس کا نوٹس لے لیا گیا ہے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے تحقیقات کریں گے اگر تفتیشی آفیسر کی کوتاہی ثابت ہوئی تو سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -