سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ عروج پر ، ایک نشست کی قیمت 25 کروڑ تک جا پہنچی

سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ عروج پر ، ایک نشست کی قیمت 25 کروڑ تک جا پہنچی
سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ عروج پر ، ایک نشست کی قیمت 25 کروڑ تک جا پہنچی

  

فاٹا ( مانیٹرنگ ڈیسک ) سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ سے بچنے کے لیے ہر سیاسی جماعت سر گرم نظر آ رہی ہے لیکن دوسری جانب فاٹا میں سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ عروج پر ہے جبکہ وہاں ایک نشست کی بولی 25 کروڑ تک جا پہنچی ہے۔ویب سائٹ نیوز لینز کے مطابق سینیٹ انتخابات میں فاٹا سے تعلق رکھنے والے 11 ممبران قومی اسمبلی 8 سینیٹرز کا انتخاب کریں گے جبکہ یہ 11 ممبران 2 گروپوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔تقسیم ہونے والے گروپوں میں ایک گروپ کے پاس 6 جبکہ دوسرے کے پاس 5 ممبران کی حمایت حاصل ہے جبکہ 8 سینیٹرز کے انتخاب کے لیے 25 کروڑ روپے کی بولی لگائی جا رہی ہے۔

ویب سائٹ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایک گروپ نے 20 کروڑ روپے کی پیشکش پر امیدواروں کو سینیٹ انتخابات میں ووٹ دینے کا وعدہ کیا ہے جبکہ دوسرا گروپ اپنے ریٹ میں کمی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جبکہ ویب سائٹ نیوز لینز کے ذرائع کے مطابق دیگر اراکین کو بھی 5 کروڑ روپے کی رعایت کرنے کی درخواست کی جا رہی ہے۔

ڈیڈ لائن ختم ،بلدیاتی انتخابات شیڈول کاجاری نہ ہوا ،وزیر اعظم کوتوہین عدالت کا نوٹس بھجوائیں گے:جسٹس جواد ایس خواجہ

ویب سائٹ نے مزید کہا ہے کہ ان کے ذرائع سے بات کرتے ہوئے سینیٹ انتخابات میں امیدوار ملک قسمت خان وزیر نے کہا ہے کہ وہ سینیٹ انتخابات میں فتح چاہتے ہیں لیکن کروڑ پتی نہ ہونے کے باعث انہیں ایسا ممکن نہیں لگ رہا جبکہ دوسری جانب 5 مارچ کو سینیٹ کی نشست سے ریٹائر ہونے 4 ممبران عباس آفریدی ، حاجی خان آفریدی ، عبدالرشید اور ادریس صافی ان ممبران میں سے ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ اسمبلی سے باہر نہیں رہ سکتے اور ہر قیمت پر دوبارہ ممبر بننے کے خواہش مند ہیں جبکہ دوسری جانب سے فاٹا میں ہارس ٹریڈنگ کی خبریں آنا بھی ایک تشویش کی بات ہے۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -